مشرق وسطیٰ

گریڈ 16 سے 19 تک ریگولر ملازم نرسوں کے پاس غیر ملکی ہسپتال کی طرف سے ملازمت کی پیشکش کا لیٹر ہونا ضروری ہے۔ وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر

نرسوں کی بیرون ملک ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور، چھٹی کی درخواست پر فیصلہ چار دن میں کیا جائے گا، ان کا زرمبادلہ پاکستان بھجوانا قومی خدمت ہوگا- ڈاکٹر جمال ناصر

لاہور پاکستان(نمائندہ وائس آف جرمنی): وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر محکمہ پرائمری ہیلتھ کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی سینئر نرسوں کی بیرون ملک ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔ گریڈ 16 سے 19 تک ریگولر ملازم نرسوں کو بیرون ملک ملازمت کی خاطر چھٹی دینے کے لئے سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کی بیرون ملک رخصت کی درخواست پر فیصلہ چار دن کے اندر اندر کر دیا جائے گا تا ہم ان کے پاس غیر ملکی ہسپتال کی طرف سے ملازمت کی پیشکش کا لیٹر ہونا ضروری ہے۔
گزشتہ روز ایک اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک ملازمت کی خواہشمند نرسوں کو چھٹی کی درخواست اپنے ادارے کے سربراہ کے ذریعے بھجوانا ضروری نہیں۔ اہل نرسیں درخواستیں براہ راست محکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے سہولت مرکز میں جمع کروا سکتی ہیں۔ بیرون ملک چھٹی کی درخواستوں پر تاخیری حربے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ پیڈا ایکٹ 2006 ء کے تحت انکوائری کا سامنا کرنے والی نرسوں کی بیرون ملک رخصت کی درخواست پر فیصلہ کیس ٹو کیس بنیاد پر کیا جائے گا۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ نرسوں کی بیرون ملک ملازمت سے واپسی کے بعد مقامی مریض اور ہسپتال ان کے تجربے سے استفادہ کر سکیں گے۔ ان کا بیرون ملک ملازمت کے دوران نرسوں کا قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھجوانا قومی خدمت ہوگا-

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button