
فتنۃ الخوارج میں پے در پے ناکامیوں کے بعد شدید اندرونی خلفشار، سیکیورٹی فورسز کا مؤثر ردعمل جاری
تنظیم میں قیادت پر اعتماد کی کمی، باہمی چپقلش اور اختلافی گروپوں کی سرگرمیاں اس کے کنٹرول کو مزید کمزور کر رہی ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ:
پاکستان میں دہشت گردی کی لہر کو ہوا دینے والی کالعدم تنظیم فتنۃ الخوارج (پاکستانی طالبان) اندرونی انتشار، قیادت میں بداعتمادی، اور مسلسل عسکری ناکامیوں کا شکار ہو چکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران کئی اہم خارجی دہشت گرد سرحد عبور کرتے وقت ہی مارے گئے، جس سے نہ صرف دہشت گردوں کا حوصلہ پست ہوا ہے بلکہ تنظیم کے اندر شدید اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔
خارجی سرغنہ نور ولی کا کنٹرول کمزور، دہشت گردی کی حکمت عملی بدلنے کی کوشش
ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک کے امیر نور ولی مسلسل شکستوں اور بھاری جانی نقصان کے بعد سخت تذبذب کا شکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نور ولی نے کئی بار اپنے دہشت گردوں کو موبائل فونز کے استعمال سے باز رہنے کی ہدایات دی ہیں، تاکہ سیکیورٹی فورسز ان کی لوکیشن ٹریک نہ کر سکیں۔
مگر تنظیم میں قیادت پر اعتماد کی کمی، باہمی چپقلش اور اختلافی گروپوں کی سرگرمیاں اس کے کنٹرول کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
مساجد، عوامی حجروں اور غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے گھروں کو دہشت گردی کے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی ہدایت
انتہائی افسوسناک انکشافات کے مطابق، خارجی سرغنہ نے دہشت گردوں کو حکم دیا ہے کہ وہ عام آبادی میں، خصوصاً مساجد، عوامی حجروں اور پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کے گھروں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کریں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی نظر سے بچ سکیں اور اگر کوئی آپریشن کیا جائے تو عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
اس حکمت عملی کے تحت دہشت گرد نہ صرف معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، بلکہ مذہبی مقامات کو بھی استعمال کر کے جھوٹے بیانیے گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔
عبدالصمد کے انکشافات نے بھانڈا پھوڑ دیا: مساجد آئی ای ڈی فیکٹریاں بن چکی تھیں
حال ہی میں گرفتار ہونے والے ایک اہم خارجی دہشت گرد عبدالصمد نے دورانِ تفتیش ہوشربا انکشافات کیے۔ اس نے اعتراف کیا کہ تنظیم مساجد، حجروں اور عوامی عمارتوں کو بارودی مواد تیار کرنے، اسلحہ ذخیرہ کرنے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
یہ انکشافات نہ صرف سیکیورٹی اداروں کے خدشات کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ فتنۃ الخوارج جیسے گروہ مذہب کی آڑ میں عوام کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز اور اے آئی مواد کے ذریعے پراپیگنڈا
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیم سوشل میڈیا پر جھوٹی، پرانی یا اے آئی سے تیار شدہ تصاویر اور ویڈیوز پھیلا کر عوامی جذبات بھڑکانے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
خاص طور پر چھوٹے بچوں، خواتین اور معصوم شہریوں کی تصاویر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی: غیر قانونی افغانوں کو حملوں میں شامل کرنے کا انکشاف
مصدقہ سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں دیر، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بڑی تعداد میں افغان دہشت گرد شامل تھے۔ ان افراد نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر سلیپر سیلز کو فعال کیا۔
خارجی سرغنہ کی جانب سے غیر قانونی افغان باشندوں کو زیادہ تعداد میں دہشت گردی میں شامل کرنے کی واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز چوکس، مکمل تیاری کے ساتھ سرگرم
ان تمام خطرات کے باوجود، پاکستانی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل صفائے کے لیے پرعزم ہیں۔ سیکیورٹی ادارے جدید ٹیکنالوجی، خفیہ اطلاعات اور عوامی تعاون کی مدد سے ایسے تمام عناصر کی سرکوبی کر رہے ہیں جو ریاست کے خلاف سرگرم ہیں۔
ترجمان سیکیورٹی فورسز کے مطابق:
"ریاست پاکستان کی خودمختاری اور امن کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔”
نتیجہ: دہشت گردوں کے دن گنے جا چکے ہیں
فتنۃ الخوارج جیسے عناصر اب نہ صرف عسکری میدان میں شکست سے دوچار ہیں بلکہ تنظیمی انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔ عوام، ریاستی اداروں اور عالمی برادری کو مل کر ان گمراہ کن گروہوں کے خلاف متحد ہو کر مؤثر جواب دینا ہوگا۔
یہ وقت ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے، اور پاکستان کو امن، ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رکھا جائے۔



