
سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کا روڈمیپ چاہتا ہے.
ٹرمپ پرجوش، مگر ریاض محتاط — ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن سے قبل سفارتی فضا محتاط
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات پر پرجوش انداز میں اظہارِ خیال کیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت فوری طور پر ممکن نہیں اور امکان ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے آئندہ واشنگٹن دورے کے دوران یہ موضوع ثانوی حیثیت رکھے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور سلامتی کے منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل سکتا ہے، لیکن ریاض نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پہلے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ عمل روڈمیپ پر اتفاق ناگزیر ہے۔
ٹرمپ کی خواہش: سعودی عرب بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک تقریب میں کہا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ سعودی عرب “بہت جلد” اُن مسلم ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا جنہوں نے 2020 کے ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے، جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش شامل ہیں۔
تاہم، دو خلیجی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض نے سفارتی ذرائع سے واشنگٹن کو مطلع کیا ہے کہ سعودی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی —
“سعودی عرب اُس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک باضابطہ، قابلِ عمل اور بین الاقوامی ضمانتوں پر مبنی منصوبہ تیار نہیں کیا جاتا۔”
محمد بن سلمان کا محتاط مؤقف — “فلسطینی ریاست کے بغیر کوئی باضابطہ تعلق ممکن نہیں”
مشرقِ وسطیٰ کے سابق امریکی انٹیلی جنس افسر جوناتھن پینی کاف کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان “کسی بھی ممکنہ رسمی تعلقات کو اس وقت تک آگے نہیں بڑھائیں گے جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوئی معتبر راستہ موجود نہ ہو۔”
پینی کاف، جو اب اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ہیں، نے مزید کہا کہ ایم بی ایس ممکنہ طور پر اپنے دورے کے دوران صدر ٹرمپ پر زور دیں گے کہ
“واشنگٹن فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے زیادہ واضح اور مضبوط حمایت کا اظہار کرے تاکہ سعودی عرب کو سیاسی جواز حاصل ہو۔”
یہ دورہ محمد بن سلمان کا 2018 کے بعد واشنگٹن کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا — وہی سال جب صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کیا تھا۔ ولی عہد اس واقعے میں کسی براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کر چکے ہیں۔
غزہ کی صورتحال اور عرب عوام کا غصہ سعودی فیصلے پر اثرانداز
ریاض کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مذہبی، سیاسی اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ کے نگران کی حیثیت سے سعودی قیادت جانتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ عرب عوام میں شدید ردعمل پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر عالمی تنقید جاری ہے۔
اگرچہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد ایک کمزور جنگ بندی قائم ہے، تاہم عوامی سطح پر اسرائیل پر اعتماد کی شدید کمی بدستور موجود ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی اہلکار منال رضوان نے حال ہی میں واضح کیا کہ
“غزہ سے اسرائیلی انخلا کے لیے ایک واضح اور وقت مقررہ منصوبہ، ایک بین الاقوامی تحفظ فورس کی تعیناتی، اور فلسطینی اتھارٹی کی واپسی ضروری ہے۔ یہی اقدامات دو ریاستی حل کی بنیاد فراہم کریں گے۔”
ریاض کا مؤقف: تعلقات بحالی کسی پرانے معاہدے کی توسیع نہیں ہوگی
خلیجی سفارتکاروں کے مطابق، سعودی عرب نے واشنگٹن کو بتا دیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی بھی اقدام “کسی پرانے معاہدے کی توسیع نہیں بلکہ ایک نیا فریم ورک” ہوگا، جس میں فلسطینی خودمختاری اور علاقائی تحفظ کے پہلو شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق، سعودی حکومت نہیں چاہتی کہ ٹرمپ کے ساتھ 18 نومبر کو ہونے والی ملاقات کے دوران اسرائیل-سعودی تعلقات کا موضوع مرکزی ایجنڈا بنے۔
بلکہ ترجیح یہ ہے کہ گفتگو دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی شراکت، اور سرمایہ کاری تک محدود رکھی جائے۔
دفاعی معاہدہ: محدود مگر اسٹریٹجک
سفارتی ذرائع کے مطابق، ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی ملاقات میں ایک نیا دفاعی معاہدہ حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے امریکی فوجی تحفظ کے فریم ورک کو متعین کرے گا اور خلیج میں امریکہ کی موجودگی کو مضبوط بنائے گا۔
تاہم، یہ معاہدہ اُس مکمل دوطرفہ دفاعی معاہدے کے برابر نہیں ہوگا جس کی خواہش ریاض نے اسرائیل سے تعلقات کے بدلے ظاہر کی تھی۔
یہ سمجھوتہ قطر کے ساتھ ستمبر میں طے پانے والے انتظام کی طرز پر ہوگا، جس میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور صنعتی تعاون شامل ہوں گے۔
خلیجی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب نے اس معاہدے میں ایسی شقیں شامل کرنے پر زور دیا ہے جو آئندہ امریکی حکومتوں کو اسے “مکمل دفاعی معاہدہ” میں بدلنے کی اجازت دیں — تاکہ یہ انتظام محض وقتی یا سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہو۔
تل ابیب اور واشنگٹن کی ہچکچاہٹ مذاکرات میں رکاوٹ
ذرائع کے مطابق، ریاض کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام اور امریکی دفاعی ضمانت کو جوڑنے سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
اب تک نہ واشنگٹن اور نہ ہی تل ابیب نے وہ رعایتیں دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے جو سعودی عرب اپنے سیاسی اور عوامی توازن کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
ایک مغربی سفارتکار نے کہا:
“یہ معاملہ اب تین سطحوں پر بند ہے — دفاعی معاہدہ، فلسطینی ریاست، اور اسرائیل سے تعلقات — ان میں سے ایک میں پیشرفت کے بغیر دوسرا ممکن نہیں۔”
اختتامیہ: محتاط پیش رفت، واضح شرائط
تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی عرب کا مؤقف دوٹوک ہے —
اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل فلسطینی ریاست کا قیام لازم ہے۔
جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش ہے کہ ابراہیمی معاہدوں کو سعودی شمولیت کے ذریعے “تاریخی کامیابی” کے طور پر پیش کیا جائے۔
تاہم، ریاض کے لیے یہ فیصلہ صرف سفارتکاری نہیں بلکہ عالمی مسلم امہ، عرب رائے عامہ اور داخلی سلامتی کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔
اگلے ہفتے ہونے والی ٹرمپ-محمد بن سلمان ملاقات میں اگرچہ دفاعی تعاون کے معاہدے پر اتفاق متوقع ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے کوئی بڑی پیشرفت فی الحال ممکن نہیں لگتی۔






