مشرق وسطیٰتازہ ترین

مقبوضہ مغربی کنارے میں چاقو اور گاڑی سے حملہ؛ ایک اسرائیلی ہلاک، تین زخمی — دو مبینہ حملہ آور ہلاک

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے کم از کم 264 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2006 سے ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے

مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق منگل کے روز گش ایٹزیون جنکشن پر چاقو سے وار کرنے اور گاڑی ٹکرانے کے حملے میں کم از کم ایک اسرائیلی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حملہ آوروں نے ایک گاڑی کے ذریعے لوگوں کے گروہ کو ٹکر ماری اور بعد ازاں چاقوؤں سے حملہ کیا۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کے مطابق واقعہ کو "چاقو اور گاڑی کا مشترکہ حملہ” قرار دیا گیا ہے۔ ایمرجنسی ریسپانس سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (MDA) سے وابستہ پیرامیڈیک ایلاد پاس کے مطابق ایک شخص شدید چاقو کے وار کے باعث موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ ایک خاتون کی حالت تشویشناک جبکہ دو دیگر زخمیوں کی حالت معتدل بتائی گئی ہے۔

دو حملہ آور ہلاک، دھماکہ خیز مواد برآمد

آئی ڈی ایف نے بتایا کہ حملے کے مقام پر موجود فوجیوں نے دو مبینہ "دہشت گردوں” کو ہلاک کر دیا۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا:

"دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی سے متعدد دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جسے بارڈر پولیس کے بم ڈسپوزل ماہرین ناکارہ بنا رہے ہیں۔”

اسرائیلی قیادت کا ردعمل

اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے حملے کو "سنگین واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے "ایک نوجوان اسرائیلی شہری کی جان لے لی۔” انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔

مغربی کنارے میں بڑھتا ہوا تشدد

فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے چھرا گھونپنے، گاڑی چڑھانے اور اس نوعیت کے دیگر حملے اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے میں وقفے وقفے سے ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے کم از کم 264 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2006 سے ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ فلسطینی کسانوں کو زیتون کی کٹائی کے دوران تشدد، دھمکی یا حراست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک مسجد کو بھی گزشتہ ہفتے نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح پیر کے روز درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے گاؤں میں فلسطینیوں کی گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فورسز نے علاقے میں آبادکاروں کی غیر قانونی چوکی کو منہدم کیا۔

عسکریت پسند گروہوں کا ردعمل

فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسلامک جہاد نے واقعے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حملہ "آبادکار گروہوں اور قابض فوج کی جانب سے جاری جرائم کے جواب میں ہے۔” تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی مگر یہ واضح کیا کہ اس کا مقصد "جبر اور بدسلوکی کے خلاف ہر دستیاب طریقے سے مزاحمت” کرنا ہے۔

حماس نے بھی حملے کی تعریف کرتے ہوئے اسے اسرائیلی "جارحیت کا ناگزیر نتیجہ” قرار دیا لیکن اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button