بین الاقوامیتازہ ترین

فرانس میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی: عوامی اخراجات اور فلاحی نظام پر گہرا اثر

اگر موجودہ پنشن اور فلاحی مراعات پر خرچ کرنے کا رجحان برقرار رہا تو وسط صدی تک یہ 60 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔

پیرس: فرانس کے عوامی آڈٹ آفس نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی آنے والے عشروں میں عوامی اخراجات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی، جب کہ ٹیکس آمدنی میں کمی کا سامنا ہو گا۔ آڈٹ آفس نے اس صورتحال کو فرانس کے فلاحی ریاستی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے، جو اس وقت بھی صحت، پنشن اور بزرگوں کے اخراجات کی مد میں اپنے عوامی بجٹ کا 40 فیصد سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2070 تک فرانس کی تقریباً ہر تین میں سے ایک شہری 65 سال سے زائد العمر ہو گا، اور اس دوران فرانس میں کام کرنے والے افراد کی تعداد میں تقریباً 30 لاکھ کی کمی ہو جائے گی۔ اس تبدیلی کا فرانس کے فلاحی نظام پر گہرا اثر پڑے گا، جہاں آج کل بھی عوامی اخراجات کا بڑا حصہ پنشن اور بزرگوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

فرانس کا فلاحی خرچ: عالمی سطح پر سب سے زیادہ

فرانس میں عوامی اور فلاحی خرچ فی الحال جی ڈی پی کا 57.3 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کا بڑا حصہ صحت اور پنشن کے نظام پر خرچ ہوتا ہے۔ آڈٹ آفس کے سربراہ پیئر موسکوویسی نے کہا کہ اگر موجودہ پنشن اور فلاحی مراعات پر خرچ کرنے کا رجحان برقرار رہا تو وسط صدی تک یہ 60 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ فرانس میں عوامی فلاحی اخراجات کا یہ بلند ترین سطح کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھی کچھ عرصے کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا، مگر اب اس کا مستقل ہونا ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔

آبادی کا توازن بگڑنا: شرح پیدائش اور عمر رسیدگی

فرانس میں ایک زمانے میں شرح پیدائش یورپ کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ تھی، لیکن کووڈ-19 کے بعد خواتین میں اوسط شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ریٹائر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملک کی آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے فرانس کی اقتصادی اور فلاحی پالیسیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کا مطلب یہ ہے کہ صحت کی دیکھ بھال اور پنشن کے اخراجات میں اضافہ ہو گا، جب کہ کم ہوتی ہوئی نوجوان ورک فورس کا مطلب ٹیکس آمدنی میں کمی ہو گی۔

پے اینڈ گو پنشن سسٹم: بحران کی شدت

فرانس میں ’’پے اینڈ گو‘‘ پنشن سسٹم نافذ ہے، جس کے تحت موجودہ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کر کے ریٹائر ہونے والے افراد کو براہ راست پنشن فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملازمین کی تعداد کم ہو گی تو پنشن کے لیے درکار فنڈز میں بھی کمی آئے گی۔ دوسری جانب عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے سے صحت کی دیکھ بھال اور دیگر فلاحی خدمات کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو گا۔

پنشن اصلاحات: سیاسی مخالفت اور تاخیر

فرانس کی حکومت نے پنشن کے نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی تھی، اور 2023 میں ایک نئے پنشن قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر کو بتدریج 62 سال سے بڑھا کر 64 سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم، اس قانون کی منظوری کے بعد ایوان زیریں کے اراکین نے گزشتہ ماہ اس قانون کو معطل کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد یہ معاملہ اب اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج پر منحصر ہے۔

آڈٹ آفس کے مطابق، ان اصلاحات میں تاخیر مزید سنگین نتائج کا سبب بنے گی۔ موسکوویسی نے اس بات پر زور دیا کہ فرانسیسی سیاست دانوں کو فوری طور پر اس آبادیاتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر اس بحران کو نظر انداز کیا گیا تو ملک کے فلاحی نظام اور اقتصادی ڈھانچے پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزدوروں کی کمی اور معاشی دباؤ

فرانس میں مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی مزدوروں کی آمد کا امکان بھی زیر غور ہے، لیکن آڈٹ آفس نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک جزوی حل ہو گا اور اس سے طویل مدتی مسائل کا مکمل حل نہیں مل سکے گا۔ اس کے بجائے، فرانس کو نوجوانوں اور خواتین میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے گہرے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آڈٹ آفس نے یہ بھی کہا کہ ملک میں تعلیم اور تربیت کے شعبے میں تبدیلیاں لانا ضروری ہیں تاکہ کام کرنے والے افراد کی تعداد کو بڑھایا جا سکے اور فلاحی اخراجات کو کم کیا جا سکے۔

آنے والے چیلنجز اور اقدامات کی ضرورت

فرانس کی حکومت کو آئندہ کئی سالوں میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ یہ نہ صرف معاشی چیلنج ہو گا بلکہ فرانس کے فلاحی نظام کے لیے بھی ایک امتحان ثابت ہو گا۔ پیئر موسکوویسی نے اس حوالے سے سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں، تاکہ فرانس کے فلاحی ڈھانچے کو مضبوط رکھا جا سکے۔

یہ رپورٹ فرانس کے معاشی اور فلاحی ڈھانچے کے حوالے سے ایک سنگین انتباہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو مستقبل میں زیادہ منظم اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہو گی، جو نہ صرف بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کو مدنظر رکھیں بلکہ نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں۔

مستقبل کا منظر:

فرانس کی حکومت کو موجودہ اور آنے والے چیلنجز کے مقابلے میں فیصلہ کن اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہو گی، تاکہ نہ صرف ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے بلکہ فلاحی نظام کو بھی ایسی بنیادوں پر قائم رکھا جا سکے جو مستقبل کے لئے پائیدار ہوں۔ یہ بحران فرانس کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اور اس کا حل ملک کی فلاحی پالیسیوں اور اقتصادی حکمت عملیوں پر گہرا اثر ڈالے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button