
سعودی عرب میں ایک سال کے دوران ریکارڈ 356 افراد کے سر قلم
سعودی عرب نے تقریباً تین سال کی معطلی کے بعد 2022 کے آخر میں منشیات کے جرائم پر سزائے موت دوبارہ بحال کی تھی
تجزیہ کاروں کے مطابق سزائے موت میں اس اضافے کی بڑی وجہ سعودی عرب کی حالیہ برسوں میں منشیات کے خلاف شروع کی گئی جنگ ہے، کیونکہ جن افراد کو ابتدائی طور پر گرفتار کیا گیا تھا، ان کے خلاف قانونی کارروائی کے بعد اب سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں صرف منشیات سے متعلق مقدمات میں 243 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب سعودی عرب نے پھانسیوں کے حوالے سے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سعودی عرب نے تقریباً تین سال کی معطلی کے بعد 2022 کے آخر میں منشیات کے جرائم پر سزائے موت دوبارہ بحال کی تھی۔
عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کیپٹاگون نامی غیرقانونی نشہ آور گولیوں کی بڑی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق معزول شامی صدر بشار الاسد کے دور میں شام کی سب سے بڑی برآمد تھی۔ اسد کو دسمبر 2024 میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔
منشیات کے خلاف مہم کے آغاز کے بعد سعودی حکام نے شاہراہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر پولیس ناکے بڑھا دیے ہیں، جہاں لاکھوں گولیاں ضبط کی گئیں اور درجنوں اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ اب تک اس مہم کا زیادہ تر بوجھ غیر ملکیوں پر پڑا ہے۔
اس خلیجی ریاست کو سزائے موت کے وسیع استعمال پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں حد سے زیادہ قرار دیتی ہیں اور اسے دنیا کے سامنے جدید سعودی تشخص پیش کرنے کی کوششوں کے منافی سمجھتی ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر اصرار ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 اصلاحاتی منصوبے کے تحت زیادہ کھلے اور برداشت پر مبنی معاشرے کے تصور کو نقصان پہنچاتا ہے۔

سعودی عرب تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے سیاحت کے بنیادی ڈھانچے اور 2034 فٹبال ورلڈ کپ جیسے بڑے کھیلوں کے ایونٹس پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تاہم سعودی حکام کا موقف ہے کہ سزائے موت عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور یہ سزا اپیل کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل 1990 سے سعودی عرب میں پھانسیوں کے اعداد و شمار مرتب کر رہی ہے، اس سے پہلے کے اعداد و شمار زیادہ تر غیر واضح ہیں۔


