
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی سرحد کی بندش کے باعث سینکڑوں پاکستانی شہری، طلبہ، تاجروں اور خاندانوں کو وطن واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحد بند ہونے کے تقریباً تین ماہ گزر جانے کے بعد ان افراد کا کہنا ہے کہ واپسی کا کوئی محفوظ اور قابل برداشت ذریعہ نہیں ہے، اور اس صورتحال نے ان کی زندگیوں کو بحران میں ڈال دیا ہے۔
افغان یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا درد
افغانستان میں پڑھنے والے پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد وطن واپس جانے کے لیے بے چین ہے۔ 25 سالہ شاہ فیصل، جو افغان یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالب علم ہیں، نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ہم اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بہت یاد کرتے ہیں۔” وہ سردیوں کی چھٹیوں میں پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ سے ملنا چاہتے تھے، لیکن 12 اکتوبر کو سرحد کی بندش کے بعد وہ واپس نہیں جا سکے۔
شاہ فیصل نے مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہے، اور ہر روز ان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ "ہوائی سفر انتہائی مہنگا ہے اور سمگلنگ کے راستے خطرناک ہیں۔ اس لیے واپسی کا کوئی محفوظ اور مناسب راستہ موجود نہیں۔”
شاہ فہد امجد، جو جلال آباد میں میڈیکل کے طالب علم ہیں، نے سرحد کھولنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا: "دونوں ممالک کو سرحد کھولنی چاہیے تاکہ ہم اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ بحران صرف افغان میں پڑھنے والے پاکستانی طلبہ کے لیے نہیں بلکہ ان افغان طلبہ کے لیے بھی ہے جو پاکستان میں زیرِ تعلیم ہیں۔
سرحد کی بندش کے اثرات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 سو کلومیٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ سرحد دونوں ممالک کے درمیان بسنے والی پشتون آبادیوں کو تقسیم کرتی ہے اور آمد و رفت، تجارت اور خاندانی روابط کے لیے اہم ذریعہ ہے۔ لیکن گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد، جس میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد سے سرحد زیادہ تر بند رہی ہے، اور صرف افغان مہاجرین کو واپس افغانستان جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ پاکستانی علاقوں میں حملے کرتے ہیں، لیکن افغان طالبان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں اور موجودہ صورتحال میں لڑائی کے دوبارہ آغاز کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تاجر اور پاکستانی خاندانوں کی مشکلات
پاکستانی تاجر بھی اس بندش سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ 21 سالہ احسان اللہ ہمت، جو اپنے خاندان کے ہمراہ قندھار میں ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے گئے تھے، سرحد بند ہونے کے بعد وہاں پھنس گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اب ہم اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔ لڑائی شروع ہوئی، سڑک بند ہو گئی اور دو دن کا سفر ایک طویل اذیت بن گیا۔”
انہوں نے بتایا کہ سمگلنگ کے راستوں سے جانا انتہائی خطرناک ہے اور دوسرے راستے بہت مہنگے اور طویل ہیں جو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ "اب سردی آ گئی ہے، جاڑا ہے، اور ہم اپنے بچوں کے ساتھ دربدر ہو گئے ہیں۔” اگرچہ افغانستان میں رشتہ داروں نے انہیں پناہ دی ہے، لیکن وہ طویل قیام پر "شرمندگی” محسوس کرتے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے وضاحت
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق تقریباً 12 سو افراد، جن میں 549 طلبہ بھی شامل ہیں، نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے وطن واپسی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان میں سے 300 سے زائد افراد دسمبر کے اختتام تک ہوائی راستے سے پاکستان واپس آ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں حکومتوں کی جانب سے سرحد کی دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ سپن بولدک بارڈر پوائنٹ پر پاکستان جانے والی سڑک مکمل طور پر بند ہے، جس سے تمام تجارتی اور شہری نقل و حمل متاثر ہو چکا ہے۔
ٹرک ڈرائیوروں کی پریشانیاں
39 سالہ خان محمد، جو ایک ٹرک ڈرائیور ہیں، نے بتایا کہ وہ کئی ہفتوں سے سپن بولدک بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی روزی روٹی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ "ان اڑھائی مہینوں میں، میں نے ایک کلو سامان بھی لوڈ نہیں کیا، کام مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔” خان محمد کا کہنا تھا کہ "ہماری ساری روزی روٹی اسی گیٹ سے جڑی ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ سرحد جلد کھلے گی۔”
نتیجہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش نے سینکڑوں افراد کی زندگیوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ طلبہ، تاجر اور عام شہری سبھی اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے بے چین ہیں، لیکن سرحدی بندش اور غیر محفوظ راستوں کے باعث ان کے لیے واپسی کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ موجود نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال میں کسی بھی فوری حل کا امکان نہیں دکھائی دیتا، جس کی وجہ سے ان افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتوں کی طرف سے اس بحران کو حل کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ان افراد کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور ان کے لیے واپسی کا ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔


