پاکستاناہم خبریں

افغان طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ، سرحد پار کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ: رپورٹ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریز ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز.آئی سی جی کے ساتھ
ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ منفی اثرات پاکستان کو برداشت کرنا پڑے ہیں، جہاں نہ صرف دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت جنگ بندی برقرار ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بڑے شدت پسند حملے کی صورت میں پاکستان ایک بار پھر افغانستان کے اندر کارروائی کر سکتا ہے۔
برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (ICG) کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریز ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مبصرین کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں بلکہ اسے افغان طالبان کی بعض حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آئی۔ صرف سال 2025 کے دوران مختلف عسکریت پسند حملوں میں 600 سے زائد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان میں سے بیشتر حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان علاقوں میں کیے گئے جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں۔

اسلام آباد ان حملوں کا ذمہ دار کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند مسلح گروہوں کو ٹھہراتا ہے۔ پاکستانی حکام کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ ان گروہوں کو پاکستان کے روایتی حریف بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے، تاہم بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
آئی سی جی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان عوامی سطح پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود نہیں اور پاکستان میں تشدد دراصل ایک داخلی مسئلہ ہے، جسے اسلام آباد نے مقامی طالبان عناصر کے ذریعے ہوا دی ہے۔ اس مؤقف نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
کشیدگی میں اس وقت شدت آئی جب آٹھ اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ایک سرحدی ضلع میں ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے سرحد پار فضائی حملے کیے، جن میں کابل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے براہ راست افغان دارالحکومت پر حملہ کیا۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ان حملوں میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

افغانستان نے ان حملوں کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں جانب جھڑپیں ہوئیں اور فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ ان واقعات نے خطے میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات کو جنم دیا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی حکام کو مستقبل میں افغانستان سے کسی مزید دہشت گرد حملے کے شواہد ملے تو اسلام آباد دوبارہ سرحد پار فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت کو تاحال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم رپورٹ کے مطابق کابل کی جوابی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک مار کر سکتے ہیں، اور ان کے استعمال کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال کو بھی نہایت تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان کو نہ صرف افغانستان بلکہ بھارت کے ساتھ بھی مختصر مگر خطرناک فوجی جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق اگر عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک اور بڑا حملہ ہوا تو پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان موجود غیر یقینی امن مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

آئی سی جی کی جانب سے رواں سال دنیا کے دس بڑے تنازعات کی جو فہرست جاری کی گئی ہے، اس میں افغانستان-پاکستان کے علاوہ میانمار، اسرائیل اور امریکہ بمقابلہ ایران، اسرائیل-فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا-اریٹیریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی کا خواہاں نہیں۔ جمعرات کو وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان سے متعلق تمام تحفظات صرف سکیورٹی تک محدود ہیں اور ان کا تعلق کسی سیاسی یا نظریاتی اختلاف سے نہیں۔
انہوں نے کہا، “پاکستان افغانستان سے دشمنی نہیں چاہتا، لیکن کابل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی کرائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ بھارت جیسے پیچیدہ دوطرفہ تنازعات موجود نہیں، اور اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کر لیا جائے تو تجارت اور علاقائی تعاون کے لیے “بے پناہ امکانات” موجود ہیں۔
طاہر اندرابی نے کابل کی جانب سے حالیہ مثبت بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف بیان بازی پر انحصار نہیں کر سکتا اور ان بیانات کو عملی اقدامات اور قابل تصدیق یقین دہانیوں سے ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں اور سفارت خانے اور قونصل خانے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد چین اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات سمیت تمام علاقائی فورمز پر افغانستان کی مثبت اور تعمیری شمولیت کا حامی ہے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button