اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

ایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن،سینکڑوں مسافروں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے بعد جعلی ویزوں اور ایجنٹس کے نیٹ ورک کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع

حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد اُن ایجنٹس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے جو شہریوں سے بھاری رقوم لے کر غلط معلومات، جعلی سفری کاغذات اور مشکوک ویزے جاری کروانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حالیہ دنوں میں بیرون ملک جانے سے روکے گئے سینکڑوں مسافروں کے کیسز کی جامع جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد اُن ایجنٹس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے جو شہریوں سے بھاری رقوم لے کر غلط معلومات، جعلی سفری کاغذات اور مشکوک ویزے جاری کروانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔


ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سخت جانچ,معمولی سقم پر بھی مسافر روکے گئے

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے تمام بڑے ایئرپورٹس سے سینکڑوں مسافروں کو امیگریشن حکام نے روک دیا، کیونکہ ان کی دستاویزات میں معمولی سے شبہے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا رہا تھا۔
یہ اچانک سختی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی خود ایئرپورٹس کے اچانک معائنے کے لیے پہنچے۔

ایک وائرل ویڈیو میں محسن نقوی ایک ایسے مسافر سے تفتیش کرتے نظر آئے جو دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ بیرون ملک ڈرائیور کی نوکری کے لیے جا رہا ہے، لیکن اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی موجود نہیں تھا۔ وزیر داخلہ نے پہلے لائسنس بنوانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مسافر گاڑی اسٹارٹ کرنا بھی نہیں جانتا تھا۔ یہ واقعہ حکام کی جانب سے بڑھتی ہوئی سختی کی وجہ سمجھنے کے لیے کافی تھا۔


چار ہزار سے زائد کیسز کی چھان بین — اڑھائی ہزار ایجنٹس کی فہرست تیار

اردو نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے اب تک چار ہزار سے زائد کیسز کی ابتدائی جانچ مکمل کر لی ہے۔ ان کیسز میں پایا گیا کہ:

  • ایجنٹس نے جعلی جاب کنٹریکٹ فراہم کیے

  • غلط کوائف دے کر ویزے جاری کروائے

  • مسافروں کے اصل سفر کے مقاصد چھپائے

  • سفارت خانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی

مزید برآں، ایف آئی اے نے اڑھائی ہزار ایجنٹس کی فہرست بھی تیار کر لی ہے جو بار بار اسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کے خلاف گرفتاریوں اور مقدمات کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025 تک ایک ہزار سے زائد ایجنٹس کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے شہریوں کو جھوٹے خواب دکھا کر ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔


پروٹیکٹر آفس میں بھی مشکلات — ’اوپر سے آرڈر نہیں‘ کا جواب عام

ایئرپورٹس کے بعد مشکلات کا سلسلہ پاکستان کے پروٹیکٹر آف امیگرنٹس آفس تک بھی جا پہنچا ہے۔ اب بیرون ملک سفر کرنے والے کئی شہریوں کو ایئرپورٹ جانے سے پہلے ہی اس دفتر میں رکاوٹ کا سامنا ہے، کیونکہ ان کی دستاویزات پر مہر نہیں لگائی جا رہی۔

بدھ کے روز پروٹیکٹر آفس کے باہر درجنوں افراد اپنی فائلیں پکڑے پریشان کھڑے تھے۔

ایک نوجوان عدنان یونس نے بتایا:

"میرے والد 20 سال یونان میں رہے اور وہیں فوت ہوئے۔ چچا بھی وہیں ہیں۔ بڑی مشکل سے میرا ایک سال کا یونانی ویزہ لگا ہے، لیکن ایک ماہ سے میرا پروٹیکٹر نہیں لگایا جا رہا۔ ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ ’اوپر سے آرڈر نہیں ہے۔‘ تحریری طور پر مانگوں تو کہتے ہیں یہ زبانی حکم ہے۔”

اسی طرح محبوب نامی ایک اور شہری نے بتایا کہ ان کے پاس یونان کا فارمنگ ویزہ موجود ہے اور ویزہ یونانی سفارت خانے نے خود جاری کیا ہے، لیکن پھر بھی پروٹیکٹر آفس انہیں کلیئر نہیں کر رہا۔


حکومتی وضاحت — ’صرف مشکوک فائلیں روکی گئی ہیں‘

جب سیکریٹری اوورسیز پاکستانیز کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو حکام نے اس تاثر کی نفی کی کہ عام شہریوں کو بلاوجہ روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

  • صرف وہ کیسز روکے گئے ہیں جن میں غلط معلومات، تضاد یا مشکوک کوائف شامل ہیں

  • مکمل اور درست دستاویزات والے افراد کو کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے

  • مقصد صرف انسانی اسمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کے رحجان کو روکنا ہے

حکام کے مطابق یہ اقدامات شہریوں کے مفاد میں ہیں تاکہ وہ بیرون ملک پہنچ کر قانونی مشکلات، ڈی پورٹیشن یا گرفتاریوں کا سامنا نہ کریں۔


نتیجہ — کریک ڈاؤن جاری رہے گا

ایف آئی اے کے مطابق جعلی ویزوں اور دھوکہ دہی میں ملوث ایجنٹس کے خلاف کارروائیاں آنے والے ہفتوں میں مزید تیز ہوں گی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مسافروں کو چاہئے کہ صرف مستند ایجنٹس اور قانونی ذرائع سے ہی ویزہ حاصل کریں تاکہ مستقبل میں مشکلات اور تضحیک سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button