صحتتازہ ترین

غزہ میں تمباکو کی قلت… "ملوخیہ” کا بطور سگریٹ استعمال اور طبی خدشات

تمباکو نوش افراد اس کے پتوں کو خشک کرتے ہیں اور انہیں رول کرنے اور پینے سے پہلے نکوٹین کے مائع میں ملاتے ہیں

ایجنسیاں
ملوخیہ (المُلُوخِيَّة) ایک مقبول عرب پکوان ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ عرب دسترخوانوں کے مشہور ترین کھانوں میں سے ایک ہے۔ ملوخیہ اب غزہ کی پٹی میں رہنے والوں کے دسترخوان کی محض ایک روایتی ڈش نہیں رہی، بلکہ جنگ کے بوجھ اور تمباکو کی قلت کے باعث یہ سگریٹ کے ایک غیر معمولی متبادل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے افراد اب اس کے پتوں کو خشک کر کے اور انہیں نکوٹین کے محلول میں ملا کر رول کرتے اور پیتے ہیں۔
اس متبادل کا پھیلاؤ تمباکو نوشی کرنے والوں میں اس وقت بڑھا جب ایک سگریٹ کی قیمت تقریباً ایک شیکل (0.33 ڈالر) سے چھلانگ لگا کر چالیس گنا تک پہنچ گئی۔ یہ صورت حال غزہ کی پٹی میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی جنگ کے بعد پیدا ہوئی ہے جہاں بنیادی اشیاء کی شدید قلت ہے۔
غزہ شہر کی ایک گلی میں، پھیری لگانے والے ‘ابو یحییٰ حلس’ ملوخیہ کے خشک اور پسے ہوئے پتوں کو ایک چھوٹے تھیلے میں نکوٹین کے مائع کے ساتھ ملاتے ہیں اور پھر اسے ہلاتے ہیں تاکہ ایک سبز مادہ تیار ہو جائے جسے سگریٹ کی طرح رول کر کے گاہکوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔
انہوں نے فرانس پریس ایجنسی کو بتایا کہ "یہ سگریٹ کا متبادل نہیں ہے، کیونکہ یہ نکوٹین ملے ملوخیہ کے پتوں سے بنتی ہے، برخلاف ان سگریٹوں کے جو تمباکو سے بنتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ درآمدی سگریٹوں کی عدم دستیابی اور ان کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر اسے ایک مجبوری کے طور پر اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ ان کا خیال ہے کہ اس کا ویسا اثر نہیں ہوتا۔
شہر کی سڑکوں پر راہ گیروں اور گاہکوں کا ہجوم رہتا ہے، جبکہ بے گھر افراد کے خیموں اور جنگ کے نتیجے میں لگنے والے ملبے کے ڈھیروں کے درمیان ان سگریٹوں کی فروخت کے اسٹال پھیلے ہوئے ہیں۔
ایک اور دکان دار محمد حلس کا کہنا ہے کہ "لوگوں کا ملوخیہ کے سگریٹ پینا کوئی انتخاب نہیں بلکہ ان کی ضرورت ہے، اگر سگریٹ دستیاب ہوتے تو ہمیں ملوخیہ کے سگریٹ نظر نہ آتے”۔
تاہم خود یہ متبادل بھی ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتا، خواہ وہ مقامی طور پر تیار کیا گیا ہو یا درآمدی، کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں سامان کی ترسیل پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAI) کے مطابق یہاں کی صرف چار فی صد زمین کاشت کے قابل ہے۔
ان سگریٹوں کے پینے سے صحت کے خطرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، کیونکہ ان کے اجزاء کے بارے میں واضح معلومات موجود نہیں ہیں۔
ولید النعیزی کا کہنا ہے کہ "یہ سگریٹ جڑی بوٹیوں جیسے ملوخیہ، ارنڈی کے پتوں اور دیگر اقسام سے بنائے جاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ یہ زہریلے ہیں یا نہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں نا معلوم مائع مادے شامل کیے جاتے ہیں "اور ہمیں نہیں معلوم کہ وہ نکوٹین ہے، زہر ہے یا کیڑے مار ادویات ہیں”۔ ان خدشات کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ انہیں پینے پر مجبور ہیں۔
جہاں تک ابو محمد صقر (47 سال) کا تعلق ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ "میں تیرہ سال کی عمر سے تمباکو نوشی کر رہا ہوں۔ اب میں ملوخیہ کے سگریٹ پیتا ہوں … نہ زندگی ہے اور نہ مستقبل کہ ہم اپنی صحت کے بارے میں ڈریں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے لطف اندوز نہیں ہوتے "لیکن میں سگریٹ پکڑتا ہوں اور دھواں اڑاتا ہوں … جو کچھ ہم جھیل رہے ہیں اس کے پیش نظر تمباکو نوشی چھوڑنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے”۔
دوسری جانب نوین سمیر (53 سال) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی عادات بدل لی ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ "میں بیس سال سے روزانہ ایک ڈبی پیتی تھی، لیکن اب میں ملوخیہ کے چند سگریٹ پیتی ہوں”۔
خان یونس میں ایک خیمے میں مقیم اس بے گھر خاتون نے مزید کہا کہ "اس کا ذائقہ اور بو خراب ہے، اور میں اسے شاید غصہ نکالنے کے لیے یا کافی کے ایک پیالے کے ساتھ صرف اس احساس کے لیے پیتی ہوں جس کا ذائقہ بھی برا ہے”۔
گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اس کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 784 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے بعد ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیل نے اس کے جواب میں ایک وسیع فوجی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 72,560 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button