یورپتازہ ترین

یورپ کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی: ڈچ انٹیلیجنس چیف کی وارننگ

یہ عوامل عالمی سطح پر عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں، جس کا اثر یورپی سلامتی پر بھی پڑ رہا ہے۔

By VOG Urdu News Team

نیدرلینڈز کی ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی نے یورپ کی سلامتی سے متعلق ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی عالمی صورتحال کے پیش نظر اب یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود سنبھالنا ہوں گی۔

ایم آئی وی ڈی کی سالانہ رپورٹ جاری

MIVD کے سربراہ پیٹر ریزنک نے 2025 کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اس کے اثرات براہ راست یورپی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی نظام، جس پر دہائیوں سے اعتماد کیا جاتا رہا، اب شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس کی بنیادیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔

عالمی نظام دباؤ میں، خطرات میں اضافہ

پیٹر ریزنک کے مطابق بین الاقوامی ادارے، قوانین اور معاہدے اب پہلے جیسے مؤثر نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصول و ضوابط کی بجائے طاقت کا عنصر زیادہ فیصلہ کن بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

روس۔یوکرین جنگ اور چین کا کردار

رپورٹ میں روس یوکرین جنگ کو یورپ کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین کی جانب سے روس کی حمایت کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا گیا ہے، جو عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور دیگر تنازعات کے اثرات

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی، اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، نہ صرف نیدرلینڈز بلکہ پورے یورپ کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ عوامل عالمی سطح پر عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں، جس کا اثر یورپی سلامتی پر بھی پڑ رہا ہے۔

سائبر خطرات میں اضافہ

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے سائبر حملے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔
ایم آئی وی ڈی کے مطابق رواں سال ان حملوں میں مزید شدت آ سکتی ہے، جس کے لیے یورپی ممالک کو اپنی سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانا ہوگی۔

نیٹو اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں واضح کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ امریکہ نیٹو سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، جس کی ایک وجہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں نیٹو کی عدم شمولیت بتائی گئی ہے۔

یورپ کے لیے اہم پیغام

ڈچ انٹیلیجنس چیف کا کہنا تھا کہ ان تمام حالات کے پیش نظر یورپ کو مرحلہ وار لیکن واضح انداز میں اپنی دفاعی پالیسیوں کو خود مختار بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی فوجی صلاحیتوں، دفاعی تعاون اور سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے خطرات کا خود مقابلہ کر سکے۔

نتیجہ: بدلتی دنیا میں نئی حکمت عملی کی ضرورت

ایم آئی وی ڈی کی یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بدلتے اتحاد یورپ کو ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔

ایسے میں یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سلامتی کے لیے خود انحصاری اختیار کرے بلکہ ایک مضبوط اور متحد دفاعی حکمت عملی بھی تشکیل دے تاکہ آنے والے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button