
پاک–چین تجارتی تعاون میں اہم پیش رفت: کیمیکلز اور ڈائز انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایم او یو پر دستخط
اس معاہدے کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق، اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری آئے گی، جس سے پاکستان کی ڈائز انڈسٹری عالمی سطح پر اپنی موجودگی مزید مضبوط کر سکے گی
By VOG Urdu News Team
شنگھائی: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے Pakistan Chemicals & Dyes Merchants Association اور China Council for the Promotion of International Trade نے کیمیکلز اور ڈائز انڈسٹری میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ شنگھائی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی نمائش Interdye 2026 کے موقع پر طے پایا۔
ایم او یو پر پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد اور سی سی پی آئی ٹی کے چیئرمین یان جی نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو فروغ دینا، صنعتی روابط کو مستحکم کرنا اور کیمیکلز و ڈائز کے شعبے میں نئے کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سلیم ولی محمد نے کہا کہ یہ شراکت داری نہ صرف پی سی ڈی ایم اے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی بلکہ اس کے اثرات وسیع تر صنعتی برادری تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے اور مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق، اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری آئے گی، جس سے پاکستان کی ڈائز انڈسٹری عالمی سطح پر اپنی موجودگی مزید مضبوط کر سکے گی۔
پی سی ڈی ایم اے کے وفد نے، سلیم ولی محمد کی قیادت میں، چینی صنعتکاروں سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں اور "ٹریڈ، کیمیکل ٹیکنالوجی انوویشن اینڈ انٹرنیشنل ٹریڈ کوآپریشن” کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پاکستانی وفد نے نہ صرف اپنی صنعت کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں پی سی ڈی ایم اے کے سابق چیئرمین سلیم ولی محمد ، ممبر عبدالرحیم کھتری بھی شامل تھے، جنہوں نے پاکستان کی ڈائز انڈسٹری کی موجودہ استعداد، ترقی کے امکانات اور برآمدی مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کی تقاریر کو بین الاقوامی شرکاء نے بھرپور توجہ دی، جس سے پاکستان کی صنعتی ساکھ کو مزید تقویت ملی۔
کانفرنس میں دیگر نمایاں شرکاء میں سابق وائس چیئرمین ندیم آفتاب، لاہور آفس کے سابق صدر کاشف رضااور ڈاکٹر مشتاق شامل تھے، جنہوں نے بھی مختلف سیشنز میں شرکت کی اور صنعتی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ Interdye Exhibition کو عالمی سطح پر ڈائز اور کیمیکلز انڈسٹری کا مرکزی پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے، تاکہ دنیا بھر کے اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ جمع ہو کر نہ صرف تجارتی روابط کو فروغ دے سکیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور نیٹ ورکنگ کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان اور چین کے درمیان اس نوعیت کے معاہدے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ علاقائی اقتصادی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر کیمیکلز اور ڈائز جیسے اہم صنعتی شعبوں میں تعاون، برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ایم او یو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اور چین اپنی اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے سنجیدہ ہیں، اور مستقبل میں اس تعاون کے مثبت نتائج دونوں ممالک کی معیشتوں پر نمایاں طور پر اثر انداز ہوں گے۔




