کاروبارتازہ ترین

کراچی کے صنعتکاروں کا امن و امان اور سازگار کاروباری ماحول کا مطالبہ

حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کراچی کا صنعتی پہیہ بلا رکاوٹ چلتا رہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے ساتھ

بھتہ خوری اور ڈکیتیوں میں اضافے پر تشویش
کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ میں صنعتکاروں نے بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات، فیکٹریوں میں ڈکیتیوں اور امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں صنعتکار آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

آئی جی سندھ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے اجلاس میں صنعتکاروں نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ صنعتکاروں نے مطالبہ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور صنعتی علاقوں میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

فائرنگ کے واقعے کی مذمت اور تحفظ کی اپیل
صدر سائٹ ایسوسی ایشن عبدالرحمان فدا نے نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ایک صنعتکار پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتکار برادری کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سائٹ ایریا میں تجاوزات کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بھی نشاندہی کی جس پر آئی جی سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ ہارڈ اور سافٹ دونوں اقسام کی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایف آئی آر کے نظام اور تھانوں کے ماحول پر تنقید
سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر موتی والا نے کہا کہ تھانوں کے موجودہ ماحول کی وجہ سے لوگ ایف آئی آر درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ جرائم کی رپورٹنگ کے لیے ایسا نظام بنایا جائے جس میں متاثرہ افراد کا نام ظاہر کیے بغیر ایف آئی آر درج کی جا سکے۔

ٹریفک مسائل اور شہری مشکلات
اجلاس میں ٹریفک کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ زبیر موتی والا نے بتایا کہ سراج قاسم تیلی فلائی اوور سے ناظم آباد انڈر پاس تک روزانہ ٹریفک جام میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے غلط سمت سے آنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور شادی تقریبات میں ہوائی فائرنگ کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔

اداروں کے چھاپوں اور انتظامی مسائل پر اعتراض
سرپرست سلیم پاریکھ نے شکایت کی کہ مختلف اداروں جیسے ایس ایس جی سی، ریلوے پولیس اور کے ڈبلیو ایس سی کی جانب سے بغیر اطلاع فیکٹریوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، جس سے صنعتکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ان اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کرائم مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمرہ فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔

تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک نظم و ضبط کی تجاویز
سابق صدر جاوید بلوانی نے سائٹ ایریا میں تجاوزات کے مستقل خاتمے، رش کے اوقات میں بھاری ٹریفک پر پابندی اور ٹرکوں کے لیے مخصوص پارکنگ بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے سیف سٹی پروجیکٹ کے آغاز اور فیکٹریوں میں معیاری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے پر بھی زور دیا۔

پولیس نفری اور وسائل کی کمی کا انکشاف
لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین عبدالہادی نے انکشاف کیا کہ سائٹ کے تھانوں اور کرائم مانیٹرنگ سیل میں 113 پولیس اہلکاروں کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وسائل ناکافی ہیں اور گشت کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید موبائلز اور نفری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

آئی جی سندھ کی یقین دہانیاں
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے صنعتکاروں کو یقین دلایا کہ بھتہ خوری، ڈکیتیوں اور دیگر جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ٹریفک مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

ٹریفک قوانین پر سختی کا اعلان
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے جدید ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے۔ شہریوں کو لین ڈسپلن پر عمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

نتیجہ
اجلاس میں صنعتکاروں نے واضح کیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو صنعتی پیداوار اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کراچی کا صنعتی پہیہ بلا رکاوٹ چلتا رہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button