یورپتازہ ترین

جرمن میڈیا نے رضا پہلوی کو درباری جوکر قرار دیا ہے۔

جرمن حکومت نے بھی ان کے دورے کو غیر معمولی اہمیت نہیں دی۔ نہ کوئی اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی اور نہ ہی سرکاری سطح پر وہ پذیرائی ملی

By VOG Urdu News Team

جرمن میڈیا میں حالیہ دنوںرضا پہلوی کے دورہ برلن اور ان کی پریس کانفرنس کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مختلف جرمن ذرائع ابلاغ، بالخصوص Deutsche Presse-Agentur (DPA) (ڈی پی اے)، نے اپنی رپورٹس میں نہ صرف ان کی سیاسی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ ان کے طرزِ بیان اور رویے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

جرمن میڈیا کی تنقید

ڈی پی اے کی رپورٹ، جس کا عنوان کچھ اس انداز میں بیان کیا گیا کہ "ایک شہزادہ جس نے خود کو مذاق بنا لیا”، میں کہا گیا کہ رضا پہلوی کی پریس کانفرنس ایک سنجیدہ سیاسی پیشکش کے بجائے ایک غیر مؤثر اور بعض اوقات مضحکہ خیز مظہر بن گئی۔ رپورٹ کے مطابق، وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آنے میں ناکام رہے جو ایران کے مستقبل کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی پیش کر سکے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جرمن حکومت نے بھی ان کے دورے کو غیر معمولی اہمیت نہیں دی۔ نہ کوئی اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی اور نہ ہی سرکاری سطح پر وہ پذیرائی ملی جو کسی سنجیدہ سیاسی شخصیت کو دی جاتی ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ یورپی حلقوں میں ان کی سیاسی اہمیت محدود ہو چکی ہے۔

امریکی رویہ اور عالمی تناظر

رپورٹ میں Donald Trump کے بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں انہوں نے ماضی میں رضا پہلوی کی ممکنہ سیاسی حیثیت پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔ امریکی پالیسی حلقوں میں بھی اب انہیں ایران کے ممکنہ متبادل رہنما کے طور پر سنجیدگی سے نہیں دیکھا جاتا۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی قیادت کا کوئی بھی متبادل خود ایران کے اندر سے ابھرنا چاہیے، نہ کہ بیرونِ ملک سے۔

پریس کانفرنس کا انداز

جرمن میڈیا کے مطابق، رضا پہلوی کی پریس کانفرنس کا ایک نمایاں پہلو ان کا سخت اور بعض اوقات حکم دینے والا لہجہ تھا۔ انہوں نے صحافیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے حالات کی درست عکاسی نہیں کر رہے اور حکومتی پروپیگنڈے سے متاثر ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے میڈیا نمائندگان کو ہدایات دیں کہ وہ کس طرح رپورٹنگ کریں، تحقیق بڑھائیں اور ایرانی کارکنوں سے براہِ راست رابطہ کریں۔

اس انداز کو جرمن صحافتی حلقوں میں غیر مناسب اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرزِ گفتگو نے ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا اور وہ ایک سنجیدہ سیاسی رہنما کے بجائے ایک جذباتی مقرر کے طور پر نظر آئے۔

سیاسی ساکھ پر سوالات

جرمن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر رضا پہلوی کا مقصد خود کو ایک مؤثر سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرنا تھا تو وہ اس میں ناکام رہے۔ ان کی گفتگو میں واضح پالیسی خطوط، عملی منصوبہ بندی یا ایران کے اندر زمینی حقائق سے جڑی حکمت عملی کا فقدان محسوس کیا گیا۔

ایک تبصرے میں یہاں تک کہا گیا کہ وہ "پریس کے سامنے ایک درباری جوکر کی طرح نمودار ہوئے”، جو اس بات کی علامت ہے کہ میڈیا نے ان کی پیشکش کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

نتیجہ

رضا پہلوی کا یہ دورہ اور پریس کانفرنس بظاہر ان کے سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کرنے کا باعث بنی۔ جرمن میڈیا کی تنقید سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی اور مغربی حلقوں میں ان کی حیثیت پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں، اور انہیں ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل کے طور پر تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button