مشرق وسطیٰتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: ایران کی “مچھر بیڑے” کی دھمکی، امریکا کے ساتھ سمندری محاذ آرائی کا خدشہ

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں تین غیر ملکی بحری جہازوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا چکی ہے

By VOG Urdu News team

Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کی جانب سے خلیجی پانیوں میں اپنی بحری حکمتِ عملی کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ کے دوران، تہران نے اپنے نام نہاد “مچھر بیڑے” (Mosquito Fleet) کو امریکی بحری جہازوں کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی قیادت کا سخت مؤقف

ایران کی عدلیہ کے سربراہ Gholam-Hossein Mohseni-Eje’i نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں اور ڈرون بوٹس پر مشتمل بیڑا جزیرہ فارور کے قریب سمندری غاروں میں تعینات ہے۔ ان کے مطابق یہ بیڑا امریکی بحری جہازوں کی ممکنہ پیش قدمی کا منتظر ہے تاکہ “دفاعی غرقاب حکمتِ عملی” کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں تین غیر ملکی بحری جہازوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا چکی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج اس اہم گزرگاہ کے قریب آنے سے گریزاں ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت

Strait of Hormuz دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ایران نے اس گزرگاہ کو کھلا رکھنے کو اپنی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنے سے مشروط کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

امریکی ردعمل اور مؤقف

واشنگٹن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی امریکا نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران پر عائد بحری اور اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھے گا۔ اس پالیسی سے خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

معاشی دباؤ اور تیل کی برآمدات

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بحری محاصرے کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے اس کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ تاہم Agence France-Presse کے مطابق بعض مبصرین اس بات سے متفق نہیں کہ یہ دباؤ فوری طور پر ایرانی نظام کے معاشی انہدام کا باعث بنے گا۔

“مچھر بیڑے” کی حکمتِ عملی

The New York Times کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگرچہ ایران کی روایتی بحری طاقت کو حالیہ حملوں میں نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کا “مچھر بیڑا” اب بھی ایک مؤثر خطرہ ہے۔ یہ بیڑا چھوٹی، تیز رفتار اور انتہائی لچکدار کشتیوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو بڑے جنگی جہازوں کو ہراساں کرنے، راستے روکنے اور اچانک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید برآں، ان کشتیوں سے یا ساحلی خفیہ مقامات سے داغے جانے والے میزائل اور ڈرونز خطے میں جہاز رانی کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

خطے میں بڑھتا ہوا خطرہ

حالیہ بیانات اور فوجی نقل و حرکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ Iran اور United States کے درمیان کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ کشیدگی کسی بڑے سمندری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button