مشرق وسطیٰ

پی سی ڈی ایم اے کا شرح سود میں اضافے پر شدید ردعمل، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

انہوں نے کہا، “شرح سود بڑھانا کوئی نیا حل نہیں بلکہ ایک پرانا نسخہ ہے جس کے نتائج ہمیشہ کاروباری طبقے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔”

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، پی سی ڈی ایم اےچیئرمین ولی محمد کے ساتھ

Pakistan Chemicals and Dyes Merchants Association (پی سی ڈی ایم اے) نے شرح سود میں حالیہ اضافے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ایک فیصد اضافہ ملکی معیشت کو سست روی کی جانب دھکیل سکتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

چیئرمین کا انتباہ: معیشت متاثر ہونے کا خدشہ
پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ شرح سود میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک پہلے ہی عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سرمایہ کاری کی رفتار سست ہو جائے گی اور کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا، “شرح سود میں ایک فیصد اضافہ معیشت کو سست روی کی طرف دھکیل دے گا۔ اس سے نہ صرف صنعت بلکہ تجارت کا پہیہ بھی متاثر ہوگا اور کاروباری سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی۔”

مہنگائی پر قابو پانے کے طریقہ کار پر سوالات
سلیم ولی محمد نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ایک روایتی اور غیر مؤثر طریقہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کے اسباب مختلف ہیں، جن میں عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا، “شرح سود بڑھانا کوئی نیا حل نہیں بلکہ ایک پرانا نسخہ ہے جس کے نتائج ہمیشہ کاروباری طبقے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔”

کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ
چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ بلند شرح سود کے باعث قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے صنعتکار اور تاجر نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔ اس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار، برآمدات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “جب شرح سود بڑھتی ہے تو کاروباری سرگرمیاں خود بخود سست پڑ جاتی ہیں، اور یہی صورتحال ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔”

حکومتی پالیسی پر تنقید
سلیم ولی محمد نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب شرح سود میں کمی کا موقع تھا، اس وقت کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ اب جبکہ عالمی حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، ایسے وقت میں شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے جو مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

بزنس کمیونٹی کے خدشات دور کرنے کا مطالبہ
پی سی ڈی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور پالیسی سازی میں صنعتکاروں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جو سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیں۔

شرح سود میں کمی کی پالیسی اپنانے پر زور
چیئرمین نے زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے شرح سود میں کمی کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ صنعت و تجارت کو سہارا مل سکے۔ ان کے مطابق کم شرح سود سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی، نئی سرمایہ کاری آئے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں ایک متوازن مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہے جو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے۔ پی سی ڈی ایم اے کا مؤقف ہے کہ اگر شرح سود میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف صنعتی شعبے بلکہ مجموعی قومی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button