امریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، اسلام آباد میں مجوزہ ملاقات منسوخ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان حالانکہ براہِ راست سفارتی بات چیت ناکام ہو چکی ہے لیکن بطور ثالث پاکستان فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں اب بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں کو اس وقت دھچکا پہنچا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا۔ امریکی صدر نے ایران کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو براہِ راست رابطہ کرے۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے اختتام ہفتہ پر دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ عمان گئے اور پیر کے روز ماسکو پہنچے، جہاں ان کی ملاقات ولادیمیر پوٹن سے متوقع ہے۔ روس ایران کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک رسائی جیسے معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث براہِ راست مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ اسی تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2.5 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معلوم ہے کہ معاہدے کے لیے کن شرائط کو پورا کرنا ہوگا، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران ان شرائط پر آمادہ نہیں ہوتا، کسی ملاقات کی ضرورت نہیں۔
ادھر اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر بند کی گئی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں جبکہ وہ ہوٹل، جسے مذاکرات کے لیے مختص کیا گیا تھا، اب دوبارہ عوام کے لیے دستیاب ہے۔ حکام کے مطابق مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ اب "ریموٹ” یا بالواسطہ انداز میں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مسودہ تیار کرنے کا عمل جاری ہے، اور جب تک کسی حد تک اتفاقِ رائے نہیں ہو جاتا، آمنے سامنے ملاقات کا امکان کم ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، "مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ دور بیٹھ کر ہی مکمل کیا جائے گا۔”
یاد رہے کہ امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی کارروائیاں جنگ بندی کے باعث عارضی طور پر رک چکی ہیں، تاہم مستقل امن معاہدہ تاحال طے نہیں پا سکا۔ اس تنازعے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک اس وقت ایک دوسرے کی معاشی اور سفارتی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محدود کر کے اپنی پوزیشن مضبوط بنائی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے، جسے ایران مذاکرات کی اہم شرط کے طور پر ختم کروانا چاہتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ یہ جنگ عوام میں غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ایران کو عسکری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں، لیکن اس کی جغرافیائی اہمیت اور توانائی کے راستوں پر کنٹرول اسے مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، اور فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم سفارتی چینلز کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور عالمی برادری اس تنازعے کے پرامن حل کی منتظر ہے۔



