پاکستاناہم خبریں

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی کوششیں ناکام، سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 13 دہشت گرد ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست نشانہ بازی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ

خیبر پختونخوا: 28 اور 29 اپریل 2026 کو خیبر پختونخوا میں پاکستان-افغانستان سرحد پر دراندازی کی دو بڑی کوششیں سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیں۔ ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 13 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم بروقت انٹیلی جنس اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ان کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔


ضلع مہمند میں کارروائی: 8 دہشت گرد ہلاک

پہلی کارروائی ضلع مہمند میں کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ایک گروپ کی مشکوک نقل و حرکت کو سکیورٹی فورسز نے بروقت پکڑ لیا۔

ذرائع کے مطابق فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو گھیرے میں لیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست نشانہ بازی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔


شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام

دوسری کارروائی شمالی وزیرستان میں پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ایک اور گروپ نے دراندازی کی کوشش کی۔

سکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور شدید جھڑپ کے بعد مزید 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بھی انتہائی مؤثر انداز میں انجام دی گئی اور کسی بڑے نقصان کے بغیر خطرہ ٹال دیا گیا۔


سرحدی سکیورٹی اور افغان ذمہ داریوں پر سوال

ان حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ افغان طالبان سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ایسے عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔

ماہرین کے مطابق سرحد پار دہشت گردی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔


انسداد دہشت گردی مہم اور “اعظم استحکام” وژن

پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشت گردی کے تحت بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات اعظم استحکام وژن کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی ہے۔

اس مہم کے تحت:

  • دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں
  • سرحدی نگرانی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے
  • سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں

سکیورٹی فورسز کا عزم

پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کسی بھی خطرے کو بروقت اور مؤثر انداز میں ختم کیا جائے گا۔


نتیجہ

پاک-افغان سرحد پر حالیہ کامیاب کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس اور تیار ہیں۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف ممکنہ دہشت گرد حملوں کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو بھی واضح کر دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button