سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
دفتر خارجہ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے اور اسی اصول کے تحت موجودہ علاقائی صورتحال میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطے
ترجمان نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کے مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار اسے ایک ذمہ دار اور توازن قائم رکھنے والی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
کشمیر اور لداخ پر اصولی مؤقف
بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کشمیر اور لداخ کی حیثیت متنازع ہے اور اسے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے سیاسی انجینئرنگ اور دیگر اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
افغان سرحدی صورتحال پر تشویش
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں حالیہ فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 26 اور 29 اپریل کو جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً انگور اڈہ میں افغان فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
افغان طالبان حکومت سے مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی سکیورٹی کو مؤثر بنایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے۔
علاقائی امن اور پاکستان کی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس میں:
- مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں
- بھارت کے ساتھ تنازعات پر اصولی مؤقف
- افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات پر واضح ردعمل
شامل ہیں۔
یہ حکمت عملی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور فعال سفارتی قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
نتیجہ
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی حمایت، کشمیر پر اصولی مؤقف اور افغان سرحدی صورتحال پر سخت ردعمل اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک متحرک اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔



