سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نوید کامران بلوچ نے Pakistan Institute of Medical Sciences (Polyclinic Hospital) کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی مریض کو ادویات کے بغیر ہسپتال سے واپس نہ جانے دیا جائے، جبکہ ادویات کی خرید و تقسیم اور ڈاکٹرز کے ڈیوٹی روسٹر کی مکمل تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔
یہ ہدایات ہسپتال کے حالیہ دورے کے بعد تشکیل دی گئی معائنہ ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں جاری کی گئیں، جس میں مریضوں کو درپیش متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی۔
ادویات کی فراہمی اور ڈاکٹرز کی حاضری پر زور
وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے واضح کیا کہ:
- ہر مریض کو ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق مکمل ادویات فراہم کی جائیں
- ڈاکٹرز اور طبی عملے کی بروقت حاضری یقینی بنائی جائے
- ادویات کی تقسیم کا باقاعدہ پلان پیش کیا جائے
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ادویات کی کمی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پولی کلینک-2 منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت
وفاقی محتسب نے اسلام آباد کے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے G-11 میں زیر تعمیر پولی کلینک-2 منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
معائنہ ٹیم کی رپورٹ: مریضوں کو درپیش مسائل
وفاقی محتسب کی ہدایت پر ایک معائنہ ٹیم، جس کی سربراہی سینئر ایڈوائزر رعنا سیرت کر رہی تھیں، نے ہسپتال کا دورہ کیا۔ ٹیم میں دیگر ماہرین بھی شامل تھے جنہوں نے مختلف شعبہ جات کا اچانک معائنہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے درج ذیل شکایات پیش کیں:
- ادویات کی عدم دستیابی یا کم مقدار میں فراہمی
- لیبارٹری ٹیسٹ اور آپریشن کے لیے طویل تاریخیں (7 سے 8 ماہ)
- ڈاکٹرز کی تاخیر سے آمد
- ہسپتال میں غیر معمولی رش
- باہر سے مہنگے ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہونا
صفائی اور سہولیات کی خراب صورتحال
معائنہ ٹیم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں بشمول ایمرجنسی، او پی ڈی، لیبارٹری، اسٹور اور کچن کا جائزہ لیا اور صفائی کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ:
- ہسپتال کی واحد لفٹ خراب تھی
- کچن میں صفائی کے معیارات ناقص تھے
- مریضوں کو بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا
بائیومیٹرک حاضری اور مددگار ڈیسک کا قیام
وفاقی محتسب نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ:
- ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کے لیے بائیومیٹرک نظام فوری فعال کیا جائے
- مریضوں کی رہنمائی کے لیے ہسپتال میں “مددگار ڈیسک” قائم کیا جائے
- صفائی کے لیے باقاعدہ ایس او پیز تیار کر کے ان پر سختی سے عمل کیا جائے
صحت کے نظام میں بہتری کی ضرورت
نوید کامران بلوچ نے کہا کہ عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ:
“ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کو بروقت علاج، مکمل ادویات اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔”
نتیجہ: اصلاحات کا آغاز یا عارضی اقدامات؟
ماہرین کے مطابق وفاقی محتسب کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ہسپتال کے نظام میں بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہیں، تاہم اصل چیلنج ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
اگر ان اقدامات کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف پولی کلینک ہسپتال بلکہ مجموعی طور پر سرکاری صحت کے نظام میں بہتری آ سکتی ہے۔



