سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
بحیرہ عرب میں ایک ہنگامی صورتحال کے دوران پاک بحریہ نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک آف شور بحری جہاز کو ممکنہ بڑے حادثے سے بچا لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایم وی گوتم نامی جہاز، جو عمان سے بھارت کی جانب سفر کر رہا تھا، اچانک شدید تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر سمندر میں بے بس ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق جہاز میں سات افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا، جن میں چھ بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ تکنیکی خرابی کے باعث جہاز کی نقل و حرکت مکمل طور پر متاثر ہو گئی، جس سے عملے کی حفاظت اور جہاز کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر بھارت کے میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (MRCC) ممبئی نے فوری طور پر علاقائی سطح پر امدادی پیغام جاری کیا۔ یہ الرٹ موصول ہوتے ہی پاک بحریہ نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری ردعمل دیا۔
پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق امدادی کارروائی کے لیے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (PMSA) کے جہاز “کشمیر” کو فوری طور پر متاثرہ مقام کی جانب روانہ کیا گیا۔ جہاز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نہ صرف متاثرہ جہاز کے عملے سے رابطہ قائم کیا بلکہ انہیں درپیش مسائل کا فوری جائزہ بھی لیا۔
امدادی کارروائی کے دوران پی ایم ایس اے جہاز نے ایم وی گوتم کے عملے کو خوراک، پینے کا پانی اور ضروری طبی سہولیات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ ماہر تکنیکی عملے نے جہاز کے خراب نظام کی جزوی بحالی میں بھی مدد فراہم کی تاکہ جہاز کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس بروقت کارروائی نے نہ صرف عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا بلکہ جہاز کو بھی ممکنہ تباہی سے بچا لیا۔ اس موقع پر عملے کے ارکان نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری مدد پر اظہار تشکر بھی کیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی پاک بحریہ کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین اور انسانی ہمدردی کی اقدار کے تحت ہر ضرورت مند کی مدد کے لیے تیار رہتی ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب جیسے مصروف سمندری راستے میں اس نوعیت کی کارروائیاں علاقائی تعاون اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے اس آپریشن کا کامیاب انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور فعال ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سمندر میں انسانی جان کی حفاظت اولین ترجیح ہوتی ہے، اور پاک بحریہ اس اصول پر سختی سے کاربند ہے۔



