مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای منظر عام سے غائب، صدر مسعود بزشکیان نے طویل ملاقات کی تصدیق کر دی

ایران میں سیاسی، عسکری اور معاشی دباؤ میں اضافہ، آبنائے ہرمز اور امریکی بحری محاصرے پر کشیدگی برقرار

فارس ایجنسی

ایران میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ مارچ میں اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد منصب سنبھالنے کے باوجود اب تک عوامی منظرنامے سے غائب ہیں۔ اس دوران ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں سپریم لیڈر کے ساتھ ایک طویل اور اہم ملاقات کی ہے۔

تہران میں تاجروں اور کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود بزشکیان نے کہا کہ ان کی اور رہبر اعلیٰ کی ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں ملک کی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظر عام پر کیوں نہیں آئے؟

ایرانی ذرائع اور متعدد غیر ملکی رپورٹس کے مطابق نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے ابتدائی دنوں میں تہران میں اپنے والد کے ٹھکانے پر ہونے والی بمباری میں زخمی ہو گئے تھے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ٹانگ پر گہرے زخم آئے جبکہ چہرے پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے، جس کے باعث وہ مارچ میں اپنی تقرری کے بعد سے اب تک نہ تو عوامی اجتماعات میں شریک ہوئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو منظر عام پر آئی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رہبر اعلیٰ تک رسائی کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتہائی محدود کر دیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق رہبر اعلیٰ کی مسلسل غیر موجودگی ایران کے اندر مختلف قسم کی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے، تاہم ایرانی حکومت اس تاثر کو مسترد کرتی رہی ہے کہ قیادت میں کسی قسم کا بحران موجود ہے۔


“ایران شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے”، مسعود بزشکیان

صدر مسعود بزشکیان نے اپنی گفتگو میں ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور بیرونی دباؤ کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کھلے عام ایرانی عوام پر معاشی دباؤ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں تاکہ ملک میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا:

“ہم معاشی دباؤ بڑھانے، اندرونی استحکام کو متزلزل کرنے اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے لیے بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔”

ایرانی صدر نے عوام پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں اور اندرونی اختلافات کو انتشار میں تبدیل نہ ہونے دیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد ایران کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اندرونی تقسیم دشمن کے مقاصد کو تقویت دے سکتی ہے۔


آبنائے ہرمز پر مذاکرات کی شرط

صدر بزشکیان نے گذشتہ روز امانوئیل میکروں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کو پہلے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کرنا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث اس حساس آبی راستے میں جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی جبکہ بعض اندازوں کے مطابق 1500 سے زائد بحری جہاز مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں اس صورتحال میں جزوی بہتری متوقع ہے، تاہم عالمی منڈیوں میں بے چینی بدستور برقرار ہے۔


“ایران ایک بڑی جنگ کا سامنا کر رہا ہے”، محمد باقر قالیباف

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران موجودہ دور کی ایک بڑی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ دشمن معاشی دباؤ، پابندیوں اور بحری محاصرے کے ذریعے ایران کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔

قالیباف نے کہا کہ امریکی اقدامات کے باعث نہ صرف ایرانی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں پر بھی شدید دباؤ پیدا ہو چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔


پاکستان ثالثی کے کردار میں متحرک

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی تجویز پر ایرانی جواب آج اسلام آباد کے حوالے کیا جائے گا۔ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ 28 فروری 2026 سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قابل قبول حل تک پہنچا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے، بحری راستوں کو محفوظ بنانے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔


مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال برقرار

عالمی مبصرین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ایک جانب ایران معاشی پابندیوں، بحری محاصرے اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی طاقتیں خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button