پاکستاناہم خبریں

سعودی عرب پاکستان کے لیے “نو گو ایریا” ہے، کسی نے بری نظر ڈالی تو جواب ملے گا: اسحاق ڈار

امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے ایک “نو گو ایریا” ہے اور اسلام آباد نے امریکہ ایران تنازع میں شامل تمام فریقوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ہونے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے عزم کا مظہر ہے، جس کے تحت سعودی عرب کے تحفظ کو پاکستان اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔


خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اہم بیان

اسحاق ڈار کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی محاذ آرائی نے خلیجی ممالک تک تنازع پھیلنے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا:

“ہم نے تنازع میں شامل فریقوں سے واضح طور پر کہا ہے کہ براہِ کرم سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے، کوئی اس پر بری نظر بھی نہ ڈالے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی ہے، تاہم سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا خطرے کی صورت میں پاکستان اپنے دفاعی عزم پر قائم رہے گا۔


پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط دفاعی اور سلامتی تعاون کو باضابطہ شکل دی۔

اس معاہدے کے تحت:

  • ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
  • دفاعی تعاون اور مشترکہ سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
  • عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کو فروغ دیا جائے گا۔
  • خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئی اسٹریٹجک جہت کا اضافہ ہے۔


“ضرورت پڑی تو پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے”

اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو پاکستان معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوجی اہلکار، جن میں فضائیہ کے دستے بھی شامل ہیں، پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی یا معاشی نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں۔


شہباز شریف کا مقدس مقامات کے تحفظ پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا:

“دو مقدس مساجد کا تحفظ، دفاع اور سلامتی ہمارے لیے ہماری جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔”

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود دفاعی معاہدے اس عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد، خطے میں امن اور اسلامی ممالک کے باہمی تعاون کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔


محمد بن سلمان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین

شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا:

“میں اپنے نہایت عزیز بھائی، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے امن مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کیا۔”

وزیراعظم کے مطابق سعودی قیادت نے خطے میں تنازعات کے سفارتی حل، مذاکرات اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔


پاکستان کا علاقائی سفارت کاری میں فعال کردار

پاکستان حالیہ مہینوں میں خود کو خطے میں ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف خلیجی کشیدگی میں متوازن مؤقف اختیار کیا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق اپریل 2026 میں پاکستان نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی، جو کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ، تنازعات کے سفارتی حل اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔


دفاعی اور سفارتی حلقوں کا ردعمل

دفاعی ماہرین کے مطابق اسحاق ڈار کا بیان نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل تعلقات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک کردار کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک جانب سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر بھی زور دیا ہے، جو اس کی متوازن خارجہ پالیسی کی علامت ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کسی بڑے تصادم کی طرف نہ بڑھے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button