
سید عاطف ندیم-پاکستان ، وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کی سابق مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ اور سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھارت کی جوہری حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق بھارت اپنی بحری جوہری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث خطے میں اسٹریٹجک استحکام پر نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے ایک نجی ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کی عسکری حکمتِ عملی اور جوہری پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا خطے کے امن پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
"جوہری وارہیڈز کی تعیناتی تشویشناک پیش رفت”
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی حالیہ رپورٹس میں بھارت کی بحری جوہری صلاحیت میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بھارت نے اپنی بعض جوہری صلاحیت رکھنے والی آبدوزوں پر جوہری وارہیڈز کی آپریشنل تعیناتی کی جانب پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جوہری وارہیڈز کو عملی استعمال کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے تو یہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ روایتی طور پر جوہری ہتھیاروں اور ان کے وارہیڈز کو الگ رکھنے کا اصول خطرات کو محدود کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
ملیحہ لودھی کے مطابق:
"اگر بھارت نیوکلیئر وارہیڈز کو آپریشنل پلیٹ فارمز پر مستقل طور پر تعینات کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک خطرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔”
بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی؟
سابق سفیر نے کہا کہ بھارت اپنی عسکری حکمتِ عملی کو مسلسل جدید بنا رہا ہے، خصوصاً بحری افواج اور جوہری صلاحیت کے میدان میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد صرف دفاعی صلاحیت میں اضافہ نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنا بھی ہو سکتا ہے، جس کا پاکستان کو باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی، سفارتی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جا سکے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد
پروگرام میں شریک دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے مکمل طور پر مستعد ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کا مناسب اور بھرپور جواب دینے کی مکمل استعداد رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا خطے کے امن کے لیے ضروری ہے، اور پاکستان اپنی دفاعی حکمتِ عملی اسی اصول کے تحت تشکیل دیتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں جوہری توازن
پاکستان اور بھارت دونوں 1998 سے باقاعدہ طور پر جوہری طاقتیں ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دونوں ممالک نے اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے، جبکہ زمینی، فضائی اور بحری ذرائع سے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت پر بھی کام جاری رکھا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بحری پلیٹ فارمز پر جوہری صلاحیت کی موجودگی کو جوہری دفاعی حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے کسی بھی ملک کی Second-Strike Capability مضبوط ہوتی ہے، یعنی اگر پہلے حملے میں زمینی یا فضائی تنصیبات متاثر بھی ہوں تو جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔
SIPRI کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) ہر سال دنیا بھر کی جوہری صلاحیتوں، اسلحے کے ذخائر اور عسکری رجحانات پر رپورٹ جاری کرتا ہے۔ حالیہ رپورٹ میں بھارت اور پاکستان دونوں کی جوہری صلاحیتوں، میزائل پروگراموں اور جدید عسکری منصوبوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

تاہم، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ رپورٹ میں موجود معلومات کھلے ذرائع (Open Sources) اور دفاعی تجزیوں پر مبنی ہوتی ہیں، جبکہ مختلف ممالک اپنی جوہری تنصیبات، وارہیڈز کی تعیناتی اور آپریشنل تیاریوں کی مکمل تفصیلات عام طور پر سرکاری طور پر جاری نہیں کرتے۔ اسی لیے آبدوزوں پر نصب وارہیڈز کی مخصوص تعداد جیسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔
خطے میں کشیدگی اور سفارتی ضرورت
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام برقرار رکھنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر سفارتی رابطے اور بحران کے دوران مواصلاتی نظام کا فعال رہنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان غلط اندازوں یا غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے شفاف رابطے اور ذمہ دارانہ پالیسی ناگزیر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں، تاہم خطے کے دیرپا امن کے لیے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ذمہ دارانہ جوہری طرزِ عمل اختیار کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔



