
نئی دہلی نے آبنائے ہرمز میں بھارتی ملاح کی ہلاکت پر ایران کے نائب سفیر کو طلب کر لیا
بھارتی میڈیا کے مطابق ملاقات کے دوران آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کا معاملہ اٹھایا گیا۔
By Voice of Germany Urdu News Team
ایک بھارتی سرکاری عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک بھارتی ملاح کی ہلاکت کے معاملے پر بھارت نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی سفارت کار سے وضاحت طلب کی اور متاثرہ بھارتی شہریوں کے تحفظ سے متعلق اپنے تحفظات بھی ان کے سامنے رکھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ملاقات کے دوران آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کا معاملہ اٹھایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جان کی بازی ہارنے والا بھارتی شہری اس آئل ٹینکر کے عملے میں شامل تھا جسے عمان کے سمندری علاقے میں مبینہ طور پر ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایم ٹی البحرہ اور ایم ٹی ممباسا نامی دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر 46 افراد سوار تھے، جن میں 30 بھارتی شہری شامل تھے۔ وزارت نے بتایا کہ ان بھارتی شہریوں میں سے ایک ’’افسوسناک طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔‘‘

بیان میں کہا گیا کہ بھارت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دونوں جہازوں پر حملوں کے واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سلسلے میں رابطہ کیے جانے پر ایرانی سفارت خانے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے خطے میں فوری طور پر تشدد کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری کی جانب واپسی پر زور دیا ہے۔
اس سے قبل اتوار کو عمان کے ساحل کے قریب ایک اور تجارتی جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس میں 11 بھارتی شہری سوار تھے۔ ان میں سے 10 کو بچا لیا گیا، جبکہ ایک تاحال لاپتہ ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم سبب بھی ہے۔




