
سید عاطف ندیم-ادارت
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور قدرتی آفت کے نتیجے میں ہونے والے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر دوست اور برادر ملک کے عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 ٹن امدادی سامان نیپال بھجوا دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ امداد نیپال میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور مشکل حالات میں ان کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق امدادی سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے انتظامات کے تحت کارگو پرواز کے ذریعے نیپال پہنچایا گیا۔ امدادی سامان میں متاثرین کے لیے ضروری اشیائے زندگی، خیمے، کمبل، چٹائیاں اور ادویات شامل ہیں۔
پاکستان نے اس امدادی اقدام کو نیپال اور اس کے عوام کے ساتھ مشکل ترین وقت میں اظہارِ یکجہتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفت سے متاثرہ نیپالی عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں، پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
غیر معمولی سیلاب نے نیپال میں تباہی مچا دی
جنوبی ایشیا کی ہمالیائی ریاست نیپال میں حالیہ دنوں آنے والے غیر معمولی اور تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ شدید بارشوں، اچانک سیلابی صورتحال اور برفانی تودے گرنے کے واقعات کے باعث متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے، جبکہ کئی بستیاں اور عمارتیں سیلابی ریلوں کی زد میں آئیں۔
سیلابی پانی کے انتہائی تیز بہاؤ کے باعث لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہونے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ کئی مقامات پر عمارتیں منہدم ہونے، سڑکیں اور پل تباہ ہونے اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے امدادی سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قدرتی آفت نے نہ صرف انسانی جانوں کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ بنیادی ڈھانچے، رہائشی علاقوں اور دیگر تنصیبات کو بھی متاثر کیا ہے۔
ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں تشویشناک اضافہ
دستیاب اطلاعات کے مطابق نیپال میں اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 1300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے ہیں۔ نیپالی حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1331 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 5000 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد 26 اگست سے لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امدادی اداروں اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم تباہ شدہ سڑکوں، ملبے، دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور شدید سیلابی صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری
سیلاب اور طغیانی کے دوران متعدد عمارتیں منہدم ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد کی ایک بڑی تعداد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہو سکتی ہے، جبکہ بعض افراد شدید پانی کے بہاؤ میں بہہ گئے۔
ریسکیو اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ مشکل جغرافیائی حالات اور مواصلاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کئی متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
چین کے شہری بھی سیلاب سے متاثر
نیپال میں آنے والی اس قدرتی آفت سے چینی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق چین کے 31 شہری جاں بحق جبکہ 531 افراد لاپتہ ہیں۔
اس صورتحال نے نیپال میں موجود غیر ملکی شہریوں کے لیے بھی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کے حوالے سے معلومات جمع کرنے اور ضرورت پڑنے پر امدادی اقدامات کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کا نیپالی قیادت سے رابطہ
سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے نیپالی قیادت سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے نیپالی ہم منصب سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے قدرتی آفت سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اپنی استطاعت کے مطابق نیپال کی مدد اور بحالی کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر فوری امدادی اقدام
وزیراعظم کی ہدایت کے بعد پاکستان کے متعلقہ اداروں نے نیپال کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی تیاری اور ترسیل کا عمل شروع کیا۔
اسی سلسلے میں 100 ٹن امدادی سامان کارگو پرواز کے ذریعے نیپال روانہ کیا گیا۔ اس امداد کا مقصد سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر بنیادی ضروریات فراہم کرنا اور مشکل حالات میں ان کی مشکلات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔
پاکستان کا یہ اقدام قدرتی آفات کے دوران فوری انسانی امداد فراہم کرنے کی اس کی پالیسی کا بھی عکاس ہے۔
امدادی سامان میں خیمے، کمبل اور ادویات شامل
دفتر خارجہ کے مطابق نیپال بھجوائے گئے امدادی سامان میں متاثرین کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اشیاء شامل کی گئی ہیں۔
امدادی سامان میں:
- خیمے
- کمبل
- چٹائیاں
- ضروری ادویات
- دیگر بنیادی امدادی اشیاء
شامل ہیں۔
سیلاب سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے خیمے اور چٹائیاں عارضی رہائش میں مدد فراہم کریں گی جبکہ کمبل اور دیگر ضروری سامان متاثرین کی فوری ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ادویات بھی ایسے وقت میں انتہائی اہم ہیں جب قدرتی آفت کے بعد صحت کے مسائل اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ سے امدادی سامان کی روانگی
نیپال کے لیے امدادی سامان روانہ کیے جانے کے موقع پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک بھی اسلام آباد ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
اس موقع پر امدادی سامان کی روانگی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ متاثرین کے لیے ضروری سامان بروقت نیپال پہنچایا جائے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرہ ممالک کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے حوالے سے اس اقدام کو پاکستان کی ڈیزاسٹر رسپانس صلاحیت کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دفتر خارجہ: پاکستان مشکل گھڑی میں نیپال کے ساتھ کھڑا ہے
پاکستان کے دفتر خارجہ نے نیپال کے لیے امدادی سامان بھیجنے کے اقدام کو نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور نیپال کے درمیان دوستانہ تعلقات اور عوامی سطح پر مضبوط روابط موجود ہیں، اور قدرتی آفت جیسے مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نیپالی عوام کو درپیش اس مشکل صورتحال میں ان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انسانی ہمدردی اور علاقائی تعاون کی مثال
پاکستان کی جانب سے نیپال کے لیے 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی کو محض امدادی سرگرمی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور علاقائی یکجہتی کا عملی اظہار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
قدرتی آفات کسی ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہوتیں اور ان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی تعاون انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں بروقت امداد متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی کے عمل کو بھی تقویت دیتی ہے۔
پاکستان پہلے بھی مختلف ممالک میں قدرتی آفات کے موقع پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا ہے، جبکہ نیپال کے حالیہ سیلاب کے بعد امداد کی فراہمی دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
متاثرین کی بحالی ایک بڑا چیلنج
سیلاب کے فوری اثرات سے نمٹنے کے بعد نیپال کو متاثرہ علاقوں کی بحالی کے ایک بڑے مرحلے کا سامنا ہوگا۔ ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے، بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور گھروں و بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث متاثرہ آبادی کو طویل المدتی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کی عارضی رہائش، خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات، مواصلاتی رابطوں کی بحالی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو آنے والے دنوں میں اہم ترجیحات ہوں گی۔
پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی امداد فوری ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ نیپال کے عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ قدرتی آفت کے اس مشکل وقت میں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان اور نیپال کے درمیان دوستی کا عملی اظہار
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات اور باہمی احترام کا ایک عملی مظہر ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی جانب سے نیپالی قیادت سے رابطہ، اظہارِ افسوس اور اس کے بعد فوری طور پر امدادی سامان کی روانگی نے اس عزم کو واضح کیا ہے کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر اپنے برادر ممالک کی مدد کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیپال میں سیلاب سے ہونے والا جانی نقصان ایک بڑا انسانی المیہ ہے، تاہم ایسے مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی اور نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی علاقائی تعاون، انسانی ہمدردی اور دوطرفہ دوستی کی ایک قابلِ ذکر مثال بن کر سامنے آئی ہے۔



