پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

مریم نواز گفتگو:دہشت گردی کے خلاف مؤقف کو صوبائیت کا رنگ دینا سیاسی تعصب ہے:مریم اورنگ زیب

دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اسے کسی صوبے، زبان، قوم یا برادری کے خلاف بیان کے طور پر پیش کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور بین الصوبائی نقل و حرکت سے متعلق گفتگو کو سوشل میڈیا پر منفی انداز میں پیش کیے جانے پر حکومتی حلقوں نے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بیان کو مکمل تناظر سے ہٹا کر پیش کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس کے ذریعے صوبائیت اور لسانیت کو ہوا دینے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومتی موقف کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی گفتگو میں دہشت گردی کے خطرے، دہشت گرد عناصر کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کی تھی، تاہم سیاسی مخالفین اور سوشل میڈیا پر بعض عناصر نے ان کے بیان کو ایک مختلف رنگ دے کر پیش کیا اور اسے صوبائی یا لسانی تعصب سے جوڑنے کی کوشش کی۔

حکومتی حلقوں نے اس طرز عمل کو سیاسی مفادات کے لیے قومی سلامتی کے حساس معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اسے کسی صوبے، زبان، قوم یا برادری کے خلاف بیان کے طور پر پیش کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

وزیراعلیٰ کی گفتگو کا اصل محور دہشت گردی کا خطرہ تھا

حکومتی موقف میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی گفتگو کا بنیادی محور دہشت گردی کے خطرات اور دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت تھا۔ ان کا مقصد کسی صوبے یا وہاں آباد عوام کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں تھا۔

حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر مختلف علاقوں سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں اور ایک صوبے میں موجود نیٹ ورک دوسرے صوبوں میں کارروائیوں کے لیے سہولت کاری یا رابطوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ایسے میں بین الصوبائی نقل و حرکت کی نگرانی اور دہشت گردی کے ممکنہ نیٹ ورک کو روکنا سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سیکیورٹی خدشات کی نشاندہی کو کسی مخصوص صوبے یا وہاں بسنے والی قوم کے خلاف بیان قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔

صوبوں اور تمام اقوام کا احترام مریم نواز کی پالیسی کا حصہ ہے

حکومتی حلقوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ہمیشہ پاکستان کے تمام صوبوں، ان میں آباد مختلف اقوام اور لسانی اکائیوں کے احترام کی بات کرتی رہی ہیں۔

ان کے مطابق پنجاب حکومت کا مؤقف کسی بھی صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنانے کا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی صوبے کے عوام اور دہشت گرد عناصر کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ دہشت گرد کسی علاقے، زبان یا قوم کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ وہ ریاست، عوام اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اسی لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو کسی صوبے کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرنا ہے بلکہ اس سے قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کو صوبائیت سے جوڑنا خطرناک رجحان ہے

حکومتی حلقوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس میں ملک کے تمام صوبوں کے عوام، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قربانیاں دی ہیں۔

پنجاب ہو، خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر علاقے کے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو صوبائیت یا لسانیت کے تناظر میں پیش کرنا قومی مفاد کے منافی ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کا مقابلہ اسی وقت مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے جب ریاستی ادارے اور عوام کسی بھی علاقائی، لسانی یا سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔

سیاسی نمبر اسکورنگ کے لیے قومی سلامتی کے معاملات استعمال نہ کیے جائیں

حکومتی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی مخالفین نے وزیراعلیٰ کی گفتگو کو دانستہ طور پر ایک مخصوص انداز میں پیش کیا تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوری نظام کا حصہ ہے، تاہم قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے حساس معاملات کو سیاسی نمبر اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حکومتی موقف کے مطابق کسی بھی سیاسی بیان کو مکمل سیاق و سباق سے کاٹ کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا عوام میں غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے اور اس سے ایسے اختلافات جنم لے سکتے ہیں جو قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں۔

دہشت گردی کا کوئی صوبہ یا زبان نہیں

حکومتی ذرائع نے زور دیا کہ دہشت گردی کو کسی صوبے، قوم یا زبان کے ساتھ جوڑنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ دہشت گردی ایک ایسا خطرہ ہے جس کا مقابلہ پوری ریاست اور پوری قوم کو مل کر کرنا ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی دہشت گرد گروہ کا کوئی رکن ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں منتقل ہوتا ہے تو سیکیورٹی اداروں کے لیے اس نقل و حرکت کا سراغ لگانا اور اسے روکنا ضروری ہے۔ اسے کسی مخصوص صوبے کے عام شہریوں کے خلاف اقدام سمجھنا درست نہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عام شہری اور دہشت گرد عناصر کے درمیان واضح فرق رکھا جانا چاہیے اور کسی علاقے کے عوام کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار قرار دینا نہ وزیراعلیٰ پنجاب کی پالیسی ہے اور نہ ہی پنجاب حکومت کا مؤقف۔

سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی ضروری

حکومتی موقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، معاون نیٹ ورک، مالی معاونت اور نقل و حرکت کے ذرائع کو بھی روکنا ضروری ہے۔

اسی تناظر میں مختلف صوبوں کے درمیان سیکیورٹی اداروں کے تعاون اور معلومات کے تبادلے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ اگر دہشت گرد ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہوتے ہیں تو ان کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے بین الصوبائی تعاون ناگزیر ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے تمام صوبوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی علاقائی تفریق نہیں کی جاتی۔

قوم کو تقسیم کرنے کی کوششوں سے گریز ضروری

حکومتی حلقوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت سیکیورٹی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے حالات میں قوم کو تقسیم کرنے والی بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت، جماعت یا صوبے کی جنگ نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی سیاسی رہنما کے بیان کو شیئر کرتے وقت مکمل ویڈیو، اصل بیان اور اس کا سیاق و سباق دیکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بیان کا مفہوم تبدیل نہ ہو اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔

مریم نواز کا مؤقف دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات تک محدود ہے

حکومتی ترجمانوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسی کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کا قیام، شہریوں کا تحفظ اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو مؤثر معاونت فراہم کرنا ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی گفتگو کو کسی خاص صوبے یا قوم کے خلاف قرار دینا ان کے اصل مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا۔ ان کی گفتگو کا مقصد دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں اور ان کی بین الصوبائی نقل و حرکت سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی کرنا تھا۔

قومی اتحاد ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قوت

حکومتی حلقوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے قومی اتحاد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دہشت گردی کے معاملے کو صوبائیت، لسانیت یا علاقائی تعصب کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس سے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ کمزور ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام حصے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گرد عناصر کے خلاف متحد ہوں۔

حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

حکومتی حلقوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی زبان، صوبہ یا قوم نہیں ہوتی، اس لیے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو صوبائیت یا لسانیت کا رنگ دینا نہایت افسوسناک اور قومی مفاد کے منافی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button