
کیا بنگلہ دیش مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہو گا؟
اسٹریٹیجک نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بنیادی طور پر خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور شریک ممالک کے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے
عرفات الاسلام
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا نفاذ اگست کے اوائل میں ہوا۔ اس کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ڈھاکہ کی نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی میں سیاسیات اور عمرانیات کی پروفیسر نوین مرشد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اگرچہ یہ اجتماعی دفاع سے متعلق مفاہمت ہے، لیکن اسٹریٹیجک نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بنیادی طور پر خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور شریک ممالک کے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔‘‘
بنگلہ دیشی حکومت مکہ معاہدے کے حق میں
بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کا کوئی بھی اقدام اس کے خارجہ تعلقات، بالخصوص پڑوسی بھارت کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ماضی میں خوشگوار تعلقات رہے ہیں لیکن 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی خونریز تحریک کے نتیجے میں اس وقت کی بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ شیخ حسینہ کو بھارتی حکومت کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ وہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہی والی موجودہ بنگلہ دیشی حکومت مکہ معاہدے کے حق میں ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں کہا،”ہم اس معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔‘‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں شامل ہونے یا حتیٰ کہ رکنیت پر غور کرنے کا سوال ابھی پیدا نہیں ہوا، کیونکہ یہ فیصلہ موجودہ رکن ممالک کے ارادے پر منحصر ہو گا۔
انہوں نے کہا، ”اگر وہ بنگلہ دیش کو اس معاہدے میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو ہم یقیناً اس پر مثبت انداز میں غور کریں گے۔‘‘

بھارت اس بارے میں کیا سوچتا ہے
بنگلہ دیشی حکام کے بیانات کے بارے میں پوچھے جانے پر بھارت نے کہا کہ اس معاہدے کے اس کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم ان تمام پیش رفت کا جائزہ لیتے رہتے ہیں جن کا بھارت کی سلامتی سے تعلق ہو اور اس کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے ہیں۔‘‘
متضاد جغرافیائی سیاسی مفادات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے سے پہلے ڈھاکہ کو اپنے مفادات کا محتاط انداز میں جائزہ لینا ہوگا۔
نوین مرشد کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کے ذریعے بنگلہ دیش کو اپنے قریب لانے کی خواہش ”جغرافیائی اور سیاسی عوامل‘‘ سے متاثر ہے۔
ان کے بقول،”اگر بنگلہ دیش میں پاکستان کا دفاعی اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو نئی دہلی اسے ایسی پیش رفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے جو علاقائی تعلقات کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں بنگلہ دیش کو واضح طور پر طے کرنا ہوگا کہ اس اتحاد میں شامل ہونے کے بعد وہ کیا کردار ادا کرے گا اور کیا نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا، ”بالخصوص یہ واضح کرنا ضروری ہوگا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع پیدا ہو جائے تو بنگلہ دیش کا کردار کیا ہوگا۔ ایسے تنازع میں پاکستان کا ساتھ دینا ڈھاکہ کے لیے ایسے سیاسی اور سفارتی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے جنہیں سنبھالنا اس کی استعداد سے باہر ہو۔‘‘
ڈھاکہ میں مقیم سابق سفارت کار ایم ہمایوں کبیر بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔
انہوں نے گفتگو میں کہا، ”گزشتہ 50 سے 55 برس کے دوران بنگلہ دیش کسی فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوا، میرا خیال ہے کہ آج بھی ہماری یہی پوزیشن برقرار ہے۔‘‘
نوین مرشد کے خیال میں کسی بین الاقوامی سلامتی کے معاہدے کا حصہ بننے سے ڈھاکہ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ”معاہدے کے متن میں تجارت، لیبر مارکیٹ یا اقتصادی تعلقات کا براہِ راست ذکر نہیں ہے۔ تاہم سلامتی کے فریم ورک کے ساتھ اقتصادی معاملات کا جڑ جانا ایک فطری امر ہے۔
لیکن ہمایوں کبیر کو خدشہ ہے کہ معاہدے میں شمولیت سے بنگلہ دیش کے جغرافیائی سیاسی اختیارات محدود ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے متوازن حکمت عملی اختیار کرنے کی سفارش کی۔
انہوں نے کہا، ”اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے قومی مفادات کے مختلف پہلوؤں اور ان کی متعدد جہتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔‘‘



