
مدثر احمد-ادارت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر اتوار کو یوکرین پہنچ گئے۔ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ دونوں امریکی نمائندوں کا یوکرین کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ ان کے دورے کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ دورہ ایک روز قبل ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ہونے والی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ وٹکوف اور کشنر نے ہفتے کو پوٹن کے ساتھ تین گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات کیے، جن کا مقصد بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے دوران امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ کییف امریکی نمائندوں کے ساتھ ’’تعمیری‘‘ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا، ’’ہم جنگ کے خاتمے کو قریب لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ امن ضروری ہے، سکیورٹی کی ضمانتیں ضروری ہیں اور جنگ کے بعد ایک منصفانہ اور پائیدار امن درکار ہے۔ ہماری تجاویز تیار ہیں۔‘‘
ماسکو مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں
امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پیش رفت کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران واشنگٹن کی توجہ بڑی حد تک ایران جنگ پر مرکوز رہی ہے۔
ماسکو میں ہفتے کو ہونے والی بند کمرہ ملاقات تین گھنٹے سے زائد جاری رہی، تاہم اس کے اختتام پر کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ روسی صدر کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوف نے ملاقات کو ’’تعمیری، واضح اور مفید‘‘ قرار دیا، تاہم مذاکرات کے نتائج کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
اوشاکوف کے مطابق روس نے یوکرین کے محاذ کی صورت حال کا اپنا ’’جامع جائزہ‘‘ امریکی وفد کے سامنے پیش کیا، تاہم مذاکرات صرف یوکرین جنگ تک محدود نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اقتصادی معاملات اور ممکنہ طور پر دونوں ملکوں کے لیے باہمی مفاد رکھنے والے بڑے مشترکہ منصوبوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
روس اور یوکرین میں حملوں کا سلسلہ جاری
روس اور یوکرین کے درمیان فضائی جنگ میں شدت آ گئی ہے جبکہ تقریباً 1,250 کلومیٹر طویل محاذ پر زمینی افواج کو خاطر خواہ پیش رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ روس حالیہ عرصے میں تیز رفتار جیٹ انجن والے ڈرونز بھی استعمال کر رہا ہے، جبکہ کییف میں فضائی حملوں کے سائرن روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
پوٹن اور زیلنسکی نے مذاکرات کے دوران ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم حکام کے مطابق اتوار کی رات بھی دونوں جانب سے حملوں کا تبادلہ ہوا۔
یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق رات بھر ملک کے مختلف علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 10 زخمی ہوئے۔
ژاپوریژیا میں ڈرون حملے میں 74 سالہ شخص ہلاک اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ خملنیتسکی کے خطے میں ایک ڈرون نے ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوئے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات کے دوران 108 ڈرونز اور چھ میزائل داغے، جن میں سے 82 ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں مقامی حکام کے مطابق ایک یوکرینی ڈرون نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی۔
روسی وزارت دفاع نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران 14 روسی علاقوں، روس کے زیر قبضہ کریمیا اور بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف کے پانیوں میں مجموعی طور پر 258 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔



