کاروبارتازہ ترین

قطر سے پاکستان آنے والا ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا، کراچی کی جانب رواں دواں

ال مرونہ نامی ٹینکر تقریباً 82 ہزار ٹن ایل این جی لے کر قطر کے راس لفان ٹرمینل سے روانہ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

 کراچی: پاکستان کے لیے قطر سے ایل این جی لے کر آنے والے ایک اور ٹینکر نے شدید علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت کے باوجود اہم آبی گزرگاہ عبور کر لی ہے اور اب کراچی کی بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔ حکام کے مطابق یہ رواں ماہ پاکستان پہنچنے والی قطر کی دوسری ایل این جی کھیپ ہے، جبکہ موجودہ علاقائی صورتحال میں اس پیش رفت کو ملک کی توانائی ضروریات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ قطر سے ایل این جی لے کر آنے والا ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے اور پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے ایک عہدیدار کے مطابق شینڈونگ ریڈ ووڈ نامی جہاز 23 ستمبر کو کراچی کی پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہونے کے لیے متوقع ہے۔ جہاز تقریباً 283 میٹر طویل ہے اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد بحیرہ عرب میں پاکستان کی سمت سفر کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک سے تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔

رواں ماہ قطر سے دوسری ایل این جی کھیپ

پاکستان کو ستمبر میں قطر سے اس سے قبل بھی ایک ایل این جی کھیپ موصول ہو چکی ہے۔ ال مرونہ نامی ٹینکر تقریباً 82 ہزار ٹن ایل این جی لے کر قطر کے راس لفان ٹرمینل سے روانہ ہوا اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد 10 ستمبر کو پورٹ قاسم پہنچا تھا۔ یہ جولائی کے بعد قطر سے پاکستان پہنچنے والی پہلی ایل این جی کھیپ تھی۔

تازہ کھیپ کی آمد کے بعد رواں ماہ پاکستان کو قطر سے دو ایل این جی کارگوز ملنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ کھیپ کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے سلسلے میں سفارتی سطح پر رابطے بھی کیے گئے، جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق اس راستے سے گزرنے کی اجازت اور انتظامات میں ایرانی حکام سے رابطہ اہم عنصر رہا۔

پاکستان کے توانائی نظام میں ایل این جی کی اہمیت

پاکستان کے لیے قطر سے ایل این جی کی مسلسل فراہمی اس لیے اہم ہے کہ درآمدی گیس ملک کے توانائی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایل این جی کو ری گیسیفائی کرنے کے بعد بجلی پیدا کرنے، صنعتی سرگرمیوں اور دیگر گیس صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خاص طور پر گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے لیے ایل این جی کی دستیابی بجلی کی پیداوار اور نظام میں گیس کی فراہمی کے تسلسل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ موجودہ علاقائی بحران کے باعث جب عالمی ایل این جی مارکیٹ میں قیمتیں بلند اور سپلائی کے راستے متاثر ہوئے ہیں، پاکستان کے لیے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آنے والی نسبتاً قابلِ پیش گوئی سپلائی مزید اہم ہو گئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے خطرات بڑھا دیے

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ قطر سمیت خلیجی ممالک سے نکلنے والی ایل این جی اور تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

موجودہ بحران کے دوران اس راستے سے بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتے کے اختتام پر صرف 17 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 37 تھی اور تنازع سے قبل روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف دو کموڈیٹی جہازوں کے گزرنے کا ڈیٹا سامنے آیا، اگرچہ ٹریکنگ نظام بند رکھنے والے بعض جہاز ان اعداد و شمار میں شامل نہ بھی ہوں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت اب بھی غیر معمولی طور پر محدود ہے۔

مہنگی اسپاٹ ایل این جی سے بچنے کی کوشش

پاکستان کے لیے قطر کی کھیپ کا کامیابی سے پہنچنا صرف گیس کی فوری دستیابی کے حوالے سے اہم نہیں بلکہ درآمدی لاگت کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس کھیپ کے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں ناکامی کی صورت میں متبادل طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کے لیے ٹینڈر پر غور کیا تھا۔

عالمی مارکیٹ میں جاری بحران کے باعث اسپاٹ ایل این جی کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں اور ایشیا میں قیمتیں تقریباً 30 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے مہنگی اسپاٹ خریداری سے گریز کرنا توانائی کے مجموعی درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

قطر پاکستان کی ایل این جی سپلائی کا اہم ذریعہ

پاکستان طویل عرصے سے اپنی ایل این جی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے قطر پر انحصار کرتا رہا ہے۔ موجودہ بحران سے قبل قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کی باقاعدہ کھیپیں پاکستان پہنچتی رہی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال نے ان ترسیلات کو متاثر کیا۔

رواں سال جولائی کے بعد قطر سے پاکستان آنے والی معمول کی بعض کھیپیں علاقائی صورتحال کے باعث متاثر ہوئیں۔ ستمبر میں ال مرونہ کی آمد نے اس سلسلے میں وقفے کے بعد سپلائی بحال ہونے کا اشارہ دیا تھا، جبکہ موجودہ کھیپ کی روانگی سے قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی ترسیل میں مزید تسلسل کی امید پیدا ہوئی ہے۔

بجلی اور صنعتی شعبے پر ممکنہ اثرات

پاکستان میں گیس کی دستیابی کا تعلق صرف گھریلو صارفین سے نہیں بلکہ بجلی اور صنعتی شعبوں سے بھی ہے۔ ایل این جی کی مسلسل فراہمی میں خلل آنے کی صورت میں گیس سے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو متبادل ایندھن یا محدود آپریشن کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے بجلی کی مجموعی دستیابی اور پیداواری لاگت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

موجودہ بحران کے دوران پاکستان کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور گیس کی دستیابی کے مسائل دونوں کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے سپلائی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

سفارتی رابطوں کی اہمیت

پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی کھیپوں کی محفوظ آمد صرف تجارتی یا بحری معاملہ نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ تازہ کھیپ کے حوالے سے دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ رابطوں کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کے انتظامات کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں توانائی کی ترسیل کے لیے سفارتی رابطے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یوں قطر سے ایل این جی لانے والے تازہ ٹینکر کا آبنائے ہرمز عبور کرکے کراچی کی طرف بڑھنا پاکستان کے لیے فوری طور پر گیس کی ایک مزید کھیپ کی دستیابی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم وسیع تر صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک معمول سے بہت کم ہے، عالمی ایل این جی قیمتیں بلند ہیں اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مستقبل کی ترسیلات کے حوالے سے خطرات برقرار ہیں۔

اہم نکتہ: دستیاب تازہ رپورٹس کے مطابق یہ رواں ماہ قطر سے پاکستان آنے والی دوسری ایل این جی کھیپ ہے؛ اس لیے اسے ”اپریل کے بعد دسویں کھیپ“ قرار دینے کی بات موجودہ دستیاب ذرائع سے واضح طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔ اشاعت میں اس عدد کو شامل کرنے کے بجائے تصدیق شدہ دوسری ستمبر کھیپ کی تعبیر زیادہ محتاط رہے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button