پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق ترجمان کے پی کے بیان پر عظمیٰ بخاری کا سخت ردعمل، ذومعنی گفتگو کی مذمت

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ”ان کی والدہ اور گھر کی باقی عورتوں کے لیے دلی ہمدردی ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی شخصیت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب اور گفتگو کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

انصار ذاہد سیال-پاکستان
لاہور:وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے مبینہ ذومعنی بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن خواتین کے بارے میں نامناسب اور ذومعنی گفتگو کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ”یہ زبان اور حرکتیں جنگلیوں کی ہی ہوسکتی ہیں، پختون تو عورتوں کی عزت کرنے والے لوگ ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ترجمان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں استعمال کیے گئے گھٹیا اور ذومعنی جملے ان کی تربیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ سیاسی معاملات پر اختلاف رائے اور حکومتوں کے درمیان تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم کسی خاتون سیاسی رہنما کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنا سیاسی گفتگو کے دائرے سے باہر ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں، تضحیک اور خواتین کی تذلیل تک نہیں لے جانا چاہیے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ”ان کی والدہ اور گھر کی باقی عورتوں کے لیے دلی ہمدردی ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی شخصیت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب اور گفتگو کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی عہدے پر فائز شخص سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختلافی معاملات میں بھی ذمہ دارانہ زبان استعمال کرے۔ ان کے بقول خواتین سیاست دانوں کو سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی معاملات کی بنیاد پر تنقید کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن ان کی ذاتی تضحیک یا کردار سے متعلق اشارے قابل قبول طرزِ سیاست نہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں پختون معاشرے کی روایتی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پختون عوام خواتین کے احترام اور مہمان نوازی سمیت اپنی روایتی اقدار کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد کے غیر مناسب بیان کو پورے پختون معاشرے کے رویوں سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے درمیان مختلف سیاسی اور انتظامی معاملات پر بیانات اور جوابی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں صوبوں کی حکومتوں کے نمائندے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کی پالیسیوں اور سیاسی طرزِعمل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے تازہ ردعمل میں بنیادی اعتراض ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق مبینہ ذومعنی زبان کے استعمال پر ہے۔ انہوں نے اس نوعیت کی گفتگو کو سیاسی اختلاف کے بجائے ذاتی نوعیت کے حملے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
سیاسی مباحث میں خواتین رہنماؤں کے بارے میں زبان کے استعمال کا معاملہ پہلے بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ اس تناظر میں عظمیٰ بخاری کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی نوعیت کے حملوں اور صنفی تضحیک سے الگ رکھا جانا چاہیے، تاکہ سیاسی مکالمہ شائستگی اور ذمہ داری کے دائرے میں رہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے اپنے بیان کے ذریعے ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے الفاظ پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود خواتین کے احترام اور باوقار سیاسی گفتگو کے اصول کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button