
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان اور فرانس کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کمیشن کا آٹھواں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت دفاع کے وفاقی سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی نے کی، جبکہ فرانسیسی وفد کی سربراہی سیکریٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی نکولس روش نے کی۔
اجلاس میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون سے متعلق امور پر اعلیٰ سطح کے تبادلہ خیال کے ساتھ 2022 میں پیرس میں ہونے والے مشترکہ سکیورٹی کمیشن کے ساتویں اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں فریقوں نے 2023 کے پاکستان فرانس دوطرفہ تعاون کے روڈ میپ کے مطابق تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور اس پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے دوطرفہ مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق آئندہ اسٹاف مذاکرات کے دوران دفاعی تعاون کا جائزہ لینے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مکالمے اور روابط کو مزید آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور امن کے فروغ کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان اور فرانس نے دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ، بحری قزاقی اور سرحد پار منظم جرائم سمیت دیگر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشترکہ سکیورٹی کمیشن پاکستان اور فرانس کے درمیان دفاعی و سکیورٹی امور پر مشاورت کا ایک ادارہ جاتی طریقہ کار ہے، جو باہمی دلچسپی کے امور پر باقاعدہ تبادلہ خیال کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ سکیورٹی کمیشن کا اگلا دور باہمی رضامندی سے طے شدہ تاریخوں پر فرانس میں منعقد ہوگا۔



