
پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے شہری اتحاد سرگرم، بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ
فیصلہ سازی کے عمل کو صرف صوبائی یا مرکزی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کے نظام کی بحالی اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے لیے قائم شہری اتحاد نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور خواتین سمیت کمزور و محروم طبقات کی مؤثر نمائندگی یقینی بنانے کے لیے مربوط جدوجہد کا اعلان کردیا۔
لاہور میں بدھ کے روز ہونے والے اتحاد کے اجلاس میں پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کے مستقبل، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث، مقامی حکومتوں کے انتخابات کے امکانات، آئینی و انتظامی امور اور عوامی شرکت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے فیصلہ سازی کے عمل کو صرف صوبائی یا مرکزی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتیں براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں اور انہیں اپنے علاقوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پنجاب میں طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں میں پیش رفت سامنے آ چکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے رواں سال پنجاب میں یونین کونسلوں کی حلقہ بندی کا عمل شروع کیا تھا، جبکہ اگست میں صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان مرحلہ وار انعقاد کی تجویز دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اس مجوزہ مدت پر اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مرحلہ وار انتخابات کا تفصیلی منصوبہ طلب کیا تھا۔
عوام اور فیصلہ سازی کے درمیان فاصلہ کم کرنے پر زور
بیداری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اتحاد کے کوآرڈینیٹر ارشد محمود مرزا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مسئلہ عوام اور فیصلہ سازی کے اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔
ان کے مطابق عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں عوام کی رائے، ان کی ضروریات اور حکومتی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی کا مؤثر نظام وہی ہوسکتا ہے جس میں شہری صرف انتخابات کے موقع پر ووٹ ڈالنے تک محدود نہ رہیں بلکہ روزمرہ حکمرانی اور مقامی ترقی کے عمل میں بھی ان کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
ارشد محمود مرزا نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام بذاتِ خود حکمرانی کے تمام مسائل حل نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق اگر انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ عوامی شرکت، جواب دہی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور سرکاری خدمات تک رسائی کے مسائل حل نہ کیے جائیں تو محض نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے منتخب مقامی حکومتوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی ادارے عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے چاہئیں اور انہیں اپنے علاقوں میں فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے حقیقی اختیارات فراہم کیے جانے چاہئیں۔
نئے صوبوں کی بحث اور مقامی حکومتیں
اجلاس میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر مؤثر حکمرانی کے نظام کو بھی بحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
محمد تحسین نے کہا کہ گورننس سے متعلق بحث کو صرف پنجاب تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنانا ایک انتظامی حل ہوسکتا ہے، لیکن اس سے عوامی خدمات، روزگار، سرکاری اداروں تک رسائی اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے تمام مسائل خود بخود حل نہیں ہوجاتے۔
انہوں نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کو منتخب نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کے عمل میں شریک کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کے اداروں کو اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بامعنی اور مؤثر اختیارات دیے جانے چاہئیں۔
پنجاب میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث حالیہ ہفتوں میں سیاسی سطح پر بھی نمایاں ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے رواں ماہ کہا تھا کہ نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمان کے مناسب فورم پر زیر بحث آنا چاہیے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے اور متعلقہ قانون پہلے ہی موجود ہے۔
خواتین اور محروم طبقات کی نمائندگی
اجلاس میں مقامی حکومتوں کے نظام میں خواتین اور دیگر سماجی طبقات کی مؤثر نمائندگی کے معاملے کو بھی اہمیت دی گئی۔
مرزا عبدالشکور نے کہا کہ مختلف علاقوں میں خواتین کونسلرز کی جانب سے اپنی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق مقامی حکومتیں خواتین کو سیاسی اور سماجی فیصلہ سازی میں آگے آنے کے مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیاتی نظام صرف انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ نچلی سطح پر جمہوری شرکت کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں، مزدوروں اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کو مقامی فیصلہ سازی میں مؤثر جگہ ملنے سے مقامی حکومتوں کی نمائندگی کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کا حوالہ
زاہد اسلام نے اتحاد کی نوعیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ کوئی نیا غیر سرکاری ادارہ ہے اور نہ ہی کسی ایک ادارے کا فنڈڈ منصوبہ، بلکہ ایسے شہریوں کا پلیٹ فارم ہے جو بہتر حکمرانی اور نچلی سطح پر جمہوری شرکت کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کا فریم ورک پاکستان کے آئین اور موجودہ قوانین پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 نافذ اور گزٹ شدہ قانون ہے، اس لیے اس قانون کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اتحاد قانون میں موجود کمزوریوں اور عملی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان میں بہتری کے لیے بھی آواز اٹھائے گا، تاکہ بلدیاتی نظام آئینی تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں کام کرسکے۔
پنجاب حکومت نے مارچ 2026 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026 بھی نوٹیفائی کیے تھے۔ ان قواعد میں بلدیاتی انتخابات کے مختلف مراحل اور انتخابی طریقہ کار کی تفصیلات شامل کی گئی تھیں، اگرچہ بعض انتخابی امور کے طریقہ کار پر سوالات اور ابہام بھی رپورٹ ہوئے تھے۔
آئین کے آرٹیکل 32 اور 140-A پر عملدرآمد کا مطالبہ
بشریٰ خالق نے کہا کہ اتحاد کا فوری مقصد پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی اور مقامی حکومتوں کے نظام میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گا تاکہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں ایسی بہتری کی ضرورت بھی ہے جس سے قانون آئین کے آرٹیکل 32 اور 140-A کی روح کے مطابق مقامی حکومتوں کو مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو۔
آئین کا آرٹیکل 140-A سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریوں اور اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے اور ان کے انتخابات الیکشن کمیشن کے ذریعے کرانے کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی آئینی تقاضے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے بھی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کو آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
ضلعی سطح پر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ
سلمان عابد نے اجلاس کو بتایا کہ اتحاد کے فریم ورک میں ضلعی سطح پر متحرک کاری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت سماجی و سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، مزدور تنظیموں، اقلیتوں، خواتین اور مقامی برادریوں کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے متعلقہ حکومتی محکموں، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور قانونی اداروں سے رابطہ کیا جائے گا جبکہ عوام میں مقامی حکومتوں کے نظام اور اس کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی بھی پیدا کی جائے گی۔
ان کے مطابق مقامی سطح پر شہریوں کی شمولیت کے بغیر بلدیاتی نظام محض ایک انتظامی ڈھانچہ بن کر رہ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو ان کے مقامی مسائل کی نشاندہی، ترجیحات کے تعین اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے عمل میں شامل کیا جائے۔
بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں پیش رفت
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے رواں سال اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپریل میں یونین کونسلوں کی حلقہ بندی کا شیڈول جاری کیا تھا، جسے بلدیاتی انتخابات کی جانب اہم قانونی مرحلہ قرار دیا گیا۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرنے کی راہ ہموار ہونا تھی۔
اگست میں پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت کے دوران 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی۔ صوبائی حکومت نے اس مدت کی وجوہات میں امتحانات کی تکمیل، بہتر موسمی حالات، وسائل کی فراہمی اور سکیورٹی انتظامات کو شامل کیا تھا۔
اس پس منظر میں مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کا اجلاس بلدیاتی انتخابات کی بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
مربوط ایکشن پلان کی تیاری
اجلاس کے اختتام پر شرکا نے منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے مسلسل وکالت اور مربوط ایکشن پلان کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
فیصلے کے مطابق فوری طور پر ضلعی سطح پر ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی، میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی اور متعلقہ سیاسی، حکومتی اور قانونی اداروں سے رابطوں کا عمل تیز کیا جائے گا۔
اتحاد کی کور کمیٹی کو تفصیلی ایکشن پلان مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے، جس میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد، قانونی اصلاحات، شہری شمولیت، خواتین اور محروم طبقات کی نمائندگی اور مقامی اداروں کو مؤثر اختیارات دینے سے متعلق سفارشات شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا سوال
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی بحث صرف انتخابی عمل تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بنیادی سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ منتخب ہونے والی مقامی حکومتوں کو عملی طور پر کتنے اختیارات، وسائل اور انتظامی آزادی حاصل ہوگی۔
شہری اتحاد کے اجلاس میں بھی اسی نکتے کو مرکزی اہمیت دی گئی کہ مقامی نمائندوں کا انتخاب صرف اسی صورت میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب انہیں اپنے علاقوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے مناسب اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں۔
یوں پنجاب میں بلدیاتی نظام کی بحالی کی بحث اب تین اہم پہلوؤں کے گرد گھوم رہی ہے: انتخابات کا بروقت انعقاد، مقامی حکومتوں کو آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار بنانا اور خواتین سمیت تمام اہم سماجی طبقات کی مؤثر نمائندگی۔
اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان نکات کو عوامی اور پالیسی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے رابطہ مہم جاری رکھی جائے گی اور حکومت، سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مقامی حکومتوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی۔



