پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل، اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا: سہیل آفریدی کا اعلان

اس سے قبل سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہمارا لانگ مارچ پُرامن ہے اور یہ ہر صورت میں ہو گا‘ جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو آئے لانگ مارچ کرے۔‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

قیصر مغل-ادارت
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب لانگ مارچ 4 اکتوبر بروز اتوار پشاور سے اسلام آباد روانہ ہو گا۔‘
جمعے کی رات کو پشاور میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ’مارچ کی تاریخ کی تبدیلی پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹیآئی کارکنان مطمئن ہیں اور یہ ایک طویل سیاسی جدوجہد ہے۔ ٹاس پی ٹی آئی جیت چکی ہے اور اب فیصلہ پارٹی کے پاس ہے کہ پہلے بیٹنگ کرنی ہے یا فیلڈنگ۔ چار اکتوبر کو بڑی تعداد میں لوگ نکلیں گے اور وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں ہوں گے۔‘
اس سے قبل سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہمارا لانگ مارچ پُرامن ہے اور یہ ہر صورت میں ہو گا‘ جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو آئے لانگ مارچ کرے۔‘
وزیراعلٰی سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھونکیں، چاہے سڑکوں پر کنٹینرز رکھیں یا چاہے گولی چلائیں، ہم اس دفعہ نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور ان جعلی حکمرانوں کا ونس ’ہمیشہ کے لیے‘ بندوبست کریں گے، سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا کو ملانے والی سڑکوں میں کیلیں ٹھونکنے کا عمل انتہائی تشویشناک ہے، کیا خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’مسلسل یہ بیانیہ بنایا گیا کہ انڈیا سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، مسلسل خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گرد اور جنگلی قرار دینے کا بیانیہ چلایا گیا، خیبر پختونخوا کی حدود کیلیں ٹھونکنا انتہائی خطرناک پیغام ہے، صوبے کی حدود پر ٹھونکی جانے والی کیلیں ان کے جعلی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا، ہم پاکستان کو بچائیں گے، دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبر پختونخوا میں داخل ہوکر ہمارے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہو رہے ہیں، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، کیا خیبر پختونخوا میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جا رہی ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا، خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کی کوریج سے میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں، میڈیا دوستوں کا ہر ایونٹ میں کوریج کرنے پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ریاست پاکستان پر قابض لوگ جو غلط پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں، خیبر پختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی خیبر پختونخوا کے وزرا پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے، یہ تمام اقدامات ملک کو ایک خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور وزرا کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جب تک آپ کا وزیراعلٰی آپ کے ساتھ ہے خیبر پختونخوا کو کوئی بُری نظر سے نہیں دیکھ پائے گا۔‘
’پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو آئے لانگ مارچ کرے۔‘
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ’خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال سب کے سامنے ہے، صوبائی حکومت نہ صرف حالات سے لاعلم ہے بلکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات سے بھی گریزاں ہے۔‘
جمعے کو ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’صوبائی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے، تحریک انصاف دہشت گردوں کی مذمت اور ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں رہتی ہے اور اُن کی سہولت کاری اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر حملے کیے، جبکہ تحریک انصاف دہشت گردوں کی منظورِ نظر رہی۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’بی ٹیم‘ اور تحریک طالبان افغانستان کی ’سی ٹیم‘ قرار دیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے کبھی سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں کیا۔‘ ان کے مطابق ’وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں۔‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’امن و امان صوبائی معاملہ ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے میں امن و امان قائم کرے۔‘ ان کے مطابق صرف ’2026 میں خیبر پختونخوا میں دو ہزار 456 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں رینجرز، پولیس اور فوج کے 472 اہلکار شہید جبکہ 1500 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔‘
عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ’خیبر پختونخوا میں ٹمبر اور تمباکو کی غیر قانونی تجارت جاری ہے، جبکہ غیر قانونی گولڈ مائننگ میں صوبائی حکومت کے سیاسی لوگ ملوث ہیں اور غیر قانونی مائننگ و ٹھیکوں کے ذریعے دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو روکنا نہیں چاہتی۔ جو حکومت دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات نہ کرے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہے، اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘
’افغانستان سے ڈرون آئے تو صوبائی حکومت کے لوگ بھاگ گئے، تاہم سکیورٹی فورسز نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔‘ انہوں نے ہنگو میں زخمی ہونے والے ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’شہری اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔‘
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے۔‘ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری سے باز رہے اور تحریک انصاف ملک کی سالمیت کے لیے کام کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button