پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

لاہور میں آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، پولیس نے مشتبہ ملزمان کی شناخت کرلی

ڈیفنس سی میں 20 سالہ غیر ملکی خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج؛ خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل، مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی برآمد، پولیس کا ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا دعویٰ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-پاکستان

لاہور: لاہور پولیس نے ڈیفنس سی کے علاقے میں 20 سالہ آذربائیجانی خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کے مطابق غیر ملکی خاتون، جسے پولیس ریکارڈ میں ڈیانا کے نام سے بیان کیا گیا ہے، نے تین نامعلوم مردوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت کی بنیاد پر ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ پولیس کے مطابق یہ ٹیمیں ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن عاصم افتخار کی سربراہی میں کام کررہی ہیں۔

پولیس کا مشتبہ ملزمان کی شناخت کا دعویٰ

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران مشتبہ افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں دستیاب شواہد، تکنیکی معلومات اور دیگر ذرائع سے مدد لی جارہی ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق تفتیش کے تمام مراحل میرٹ اور قانون کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ وہ خود کیس میں ہونے والی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور مشتبہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جارہے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے واقعے سے متعلق حتمی نتائج تفتیش مکمل ہونے اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔

ایف آئی آر میں کیا الزام عائد کیا گیا؟

مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق ڈیانا واقعے سے چند روز قبل لاہور پہنچی تھیں۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ دو نامعلوم خواتین انہیں بہلا پھسلا کر ایک کیفے میں لے گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق کیفے میں ان خواتین کے تین مرد ساتھی پہلے سے موجود تھے۔ کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد گروپ مبینہ طور پر ڈیانا کو ایک فلیٹ میں لے گیا۔

خاتون نے پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ فلیٹ میں انہیں ایسا مشروب پلایا گیا جس میں مبینہ طور پر کوئی نشہ آور چیز شامل تھی۔ شکایت کے مطابق اس کے بعد تین مردوں نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی۔

ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا اور بعد ازاں خاتون کو مبینہ طور پر ہوائی اڈے کے قریب چھوڑ دیا گیا۔

خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ مشتبہ افراد مبینہ طور پر ان کا آئی فون اور ایک اور قیمتی موبائل فون اپنے ساتھ لے گئے۔

یہ تمام الزامات ایف آئی آر اور متاثرہ خاتون کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں شواہد پیش ہونے کے بعد ہی ان دعوؤں کی قانونی حیثیت واضح ہوگی۔

مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی برآمد

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران اس گاڑی کا سراغ بھی لگایا گیا جو مبینہ طور پر خاتون کو مختلف مقامات پر لے جانے کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ پولیس نے گاڑی برآمد کرکے اسے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے۔

تفتیش کار گاڑی کو کیس کے اہم شواہد میں شامل کرکے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی سے متعلق فرانزک اور دیگر تکنیکی شواہد بھی تفتیش میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی نقل و حرکت، اس میں سوار افراد اور واقعے کے مختلف مراحل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے

پولیس کے مطابق ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن عاصم افتخار کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹیموں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں مشتبہ افراد کے ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ واقعے سے قبل اور بعد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔

حکام کے مطابق کیس میں تکنیکی شواہد، دستیاب معلومات، گاڑی اور دیگر ممکنہ شواہد کو یکجا کرکے واقعے کی مکمل کڑی جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ

پولیس نے مبینہ واقعے کے بعد خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا ہے۔ حکام کے مطابق طبی معائنہ اور فرانزک رپورٹ تفتیش میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طبی رپورٹ سامنے آنے کے بعد مبینہ واقعے سے متعلق مزید شواہد اور حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔ تاہم رپورٹ کے حتمی نتائج سامنے آنے سے قبل کسی نتیجے کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایسے مقدمات میں طبی اور فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص کے بیان، ممکنہ گواہوں، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر متعلقہ مواد کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

ڈیفنس سی میں چند ماہ کے دوران دوسرا مقدمہ

ڈیفنس سی کے علاقے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر ملکی خواتین سے متعلق جنسی زیادتی اور اغوا کے الزامات کا یہ دوسرا نمایاں مقدمہ ہے۔

اس سے قبل جولائی 2026 میں پولیس نے ایک شکایت کے بعد دو غیر ملکی خواتین کو بازیاب کرانے اور چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کیس میں خواتین میں سے ایک کا تعلق نیدرلینڈز جبکہ دوسری کا تعلق وینزویلا سے بتایا گیا تھا۔

اس مقدمے میں پولیس نے اغوا اور جنسی زیادتی سمیت مختلف الزامات کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ متاثرہ خواتین کے مطابق انہیں پاکستان آنے کی دعوت ایک ایسے شخص کی جانب سے دی گئی تھی جس سے ان کی واقفیت سنگاپور میں ہوئی تھی۔

شکایت کے مطابق خواتین کے پاکستان پہنچنے کے بعد 29 جون کو مذکورہ شخص اور اس کے مبینہ ساتھیوں نے انہیں مبینہ طور پر اغوا کیا اور رہائی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا۔

خواتین نے اپنی شکایت میں مبینہ جنسی زیادتی، اسلحے کے زور پر دھمکانے، تشدد اور بھتہ طلب کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

تاہم اس سابقہ کیس میں بھی مختلف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور عدالتی کارروائی سے طے ہونا ہے۔

سوشل میڈیا کے دعووں پر پولیس کی خاموشی

موجودہ آذربائیجانی خاتون کے کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے بھی گردش کررہے ہیں، جن میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ مشتبہ افراد میں سے ایک کا تعلق ایک بااثر سیاسی شخصیت سے ہے۔

تاہم ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ پولیس کی جانب سے بھی اس الزام کی کوئی حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے اس دعوے کو فی الحال غیر مصدقہ سوشل میڈیا اطلاع کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

تفتیشی حکام کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ کیس میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

پولیس کا قانون کے مطابق کارروائی کا اعلان

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ واقعے کی تفتیش میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور جو بھی شخص شواہد کی بنیاد پر ملوث پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا مقصد نہ صرف مشتبہ افراد کو گرفتار کرنا بلکہ واقعے کے تمام پہلوؤں، مبینہ طور پر استعمال ہونے والے مقامات، گاڑی، ممکنہ شواہد اور دیگر افراد کے کردار کا تعین کرنا بھی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس میں مزید پیش رفت سامنے لائی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button