
زاہد اشفاق – پاکستان
ناگویا: 20ویں ایشین گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم چوتھی پوزیشن پر رہے، جبکہ سری لنکا کے رومیش تھارنگا پاتھیرایج نے آخری کوشش میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سونے کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔
پیر کو ناگویا میں ہونے والے جیولن تھرو کے فائنل میں ارشد ندیم اپنی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ پیرس اولمپکس 2024 میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتنے والے ارشد اس مقابلے میں اپنی بہترین فارم اور مطلوبہ ردھم حاصل نہ کر سکے اور 80.29 میٹر کی بہترین کوشش کے ساتھ چوتھے نمبر پر مقابلہ ختم کیا۔
سری لنکا کے پاتھیرایج نے مقابلے کے آخری مرحلے میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے فیصلہ کن کارکردگی پیش کی۔ انہوں نے اپنی چھٹی اور آخری کوشش میں 88.55 میٹر کی شاندار تھرو پھینکی اور سونے کا تمغہ یقینی بنا لیا۔ اس سے قبل بھی وہ چوتھی کوشش میں 88.33 میٹر کی تھرو کے ساتھ سب سے آگے تھے۔
ارشد ندیم کی کارکردگی
ارشد ندیم نے مقابلے کا آغاز 76.69 میٹر کی تھرو سے کیا، تاہم دوسری کوشش میں ان کی تھرو فاؤل قرار پائی۔ تیسری کوشش میں انہوں نے اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے نیزہ 80.29 میٹر تک پھینکا، جو مقابلے میں ان کی بہترین تھرو ثابت ہوئی۔
تاہم اس کے بعد ارشد اپنی آخری تینوں کوششوں میں فاؤل کر گئے۔ یوں وہ مزید بہتری کے موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور 80.29 میٹر کی بہترین کوشش کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر مقابلہ ختم کیا۔
ارشد ندیم کی موجودہ کارکردگی اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ انہوں نے پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ذریعے پاکستان کے لیے تاریخ رقم کی تھی۔ تاہم اولمپک کامیابی کے بعد انہیں متعدد بڑے مقابلوں میں اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاتھیرایج کی فیصلہ کن آخری تھرو
سری لنکا کے رومیش تھارنگا پاتھیرایج نے فائنل میں ابتدا ہی سے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن مقابلے کا سب سے اہم لمحہ ان کی آخری کوشش بنی۔
پاتھیرایج نے چوتھی کوشش میں 88.33 میٹر کی تھرو پھینک کر برتری حاصل کی تھی، تاہم مقابلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔ آخری مرحلے میں انہوں نے اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائی اور چھٹی کوشش میں 88.55 میٹر کا فاصلہ عبور کر لیا۔
یہ تھرو انہیں نہ صرف سونے کے تمغے تک لے گئی بلکہ فائنل میں موجود دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی برتری حاصل کرنے کی گنجائش محدود کر گئی۔
پاتھیرایج کے لیے یہ کامیابی ان کی حالیہ عمدہ فارم کا تسلسل بھی قرار دی جا رہی ہے۔ ان کی ذاتی بہترین کارکردگی 92.62 میٹر ہے، جو ارشد ندیم کی پیرس اولمپکس میں ریکارڈ کی گئی 92.97 میٹر کی تھرو سے صرف 35 سینٹی میٹر کم ہے۔
بھارت کے یشویر سنگھ نے چاندی کا تمغہ جیت لیا
بھارت کے یشویر سنگھ نے 85.72 میٹر کی ذاتی بہترین تھرو کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ یشویر نے اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری دکھائی اور مضبوط تھرو کے ذریعے پوڈیم پر جگہ بنائی۔
بھارت ہی کے روہت یادو نے 84.35 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
اس طرح جیولن تھرو کے تینوں تمغے سری لنکا اور بھارت کے کھلاڑیوں کے حصے میں آئے، جبکہ پاکستان کے ارشد ندیم پوڈیم پر جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
یاسر سلطان بھی فائنل آٹھ میں جگہ نہ بنا سکے
پاکستان کے دوسرے نمائندے یاسر سلطان بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو سکے۔ انہوں نے 73.50 میٹر کی بہترین تھرو پھینکی، لیکن فائنل کے اگلے مرحلے میں جانے والے آٹھ کھلاڑیوں میں جگہ نہ بنا سکے۔
یاسر کی تین کوششوں کا ریکارڈ ایک فاؤل، 73.50 میٹر اور 73.47 میٹر رہا۔
پاکستانی کھلاڑی کی ذاتی بہترین کارکردگی 79.93 میٹر ہے، جو انہوں نے 2023 میں بنکاک میں ہونے والی ایشین چیمپئن شپ کے دوران ریکارڈ کی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں وہ اپنی اس بہترین کارکردگی کے قریب پہنچنے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔
نیرج چوپڑا انجری کے باعث مقابلے سے باہر
بھارت کے اولمپک اور عالمی چیمپئن نیرج چوپڑا نے انجری کے باعث ناگویا ایشین گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں حصہ نہیں لیا۔
چوپڑا کی عدم شرکت کے باعث شائقین کو ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کے ایک اور مقابلے کا انتظار پورا نہ ہو سکا۔ دونوں ایتھلیٹس کے درمیان گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر سخت مسابقت دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس بار انجری کے باعث بھارتی ایتھلیٹ میدان میں موجود نہیں تھے۔
جاپانی ایتھلیٹ زخمی ہو کر مقابلے سے دستبردار
مقابلے کے دوران جاپان کے یوتا ساکِیاما کو بھی انجری کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی چوتھی کوشش کے دوران زخمی ہوئے اور مزید مقابلہ جاری نہ رکھ سکے۔
ان کی دستبرداری کے بعد جیولن تھرو فائنل میں باقی کھلاڑیوں کے درمیان تمغوں کے لیے مقابلہ مزید محدود ہوگیا۔
ارشد ندیم کے لیے ایک مشکل مرحلہ
ارشد ندیم کی پیرس اولمپکس میں کامیابی پاکستانی کھیلوں کی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان کو جیولن تھرو میں تاریخی طلائی تمغہ دلایا تھا۔
تاہم اولمپک کامیابی کے بعد مختلف بڑے مقابلوں میں ان کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ مقابلوں میں بھی وہ اپنی اولمپک سطح کی بہترین کارکردگی دہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
ناگویا میں 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے بعد آخری تین کوششوں کا فاؤل ہونا ان کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ اس مرحلے پر انہیں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے مزید مواقع میسر تھے۔
دوسری جانب پاتھیرایج نے 88.55 میٹر کی آخری تھرو کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ اس وقت عالمی جیولن تھرو کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ ان کی 92.62 میٹر کی ذاتی بہترین کارکردگی بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بڑی دوری کی تھرو پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے اہم سبق
ارشد ندیم کا چوتھے نمبر پر رہنا پاکستان کے لیے ایک اہم کھیلوں کی خبر ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ ملک کو ان سے جیولن تھرو میں تمغے کی توقع تھی۔ تاہم ایک مقابلے کی کارکردگی کو ان کے مجموعی کھیلوں کے سفر سے الگ دیکھنا بھی ضروری ہے۔
جیولن تھرو میں تکنیک، جسمانی فٹنس، رفتار، تھرو کے وقت توازن اور مقابلے کے دوران مستقل مزاجی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ناگویا فائنل میں ارشد اپنی ابتدائی کوششوں کے بعد بہتری تو لا سکے، لیکن آخری تین کوششوں میں فاؤل نے انہیں مزید پیش رفت کا موقع نہیں دیا۔
پاتھیرایج نے اسی مرحلے میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کرکے مقابلے کا رخ اپنے حق میں موڑ لیا۔ یشویر سنگھ اور روہت یادو نے بھی بالترتیب 85.72 اور 84.35 میٹر کی تھرو کے ساتھ ارشد سے زیادہ فاصلہ حاصل کیا۔
ناگویا ایشین گیمز کے جیولن تھرو فائنل کا نتیجہ یوں سامنے آیا کہ رومیش تھارنگا پاتھیرایج نے 88.55 میٹر کے ساتھ طلائی، یشویر سنگھ نے 85.72 میٹر کے ساتھ چاندی اور روہت یادو نے 84.35 میٹر کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا، جبکہ ارشد ندیم 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔



