
اے پی کے ساتھ
مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم اسے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا، لیکن بڑی تعداد میں کنٹینرز اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے سے پولیس نے ریڈ زون کی جانب جانے والے اہم راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر رکھے ہیں۔ ریڈ زون میں پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
شہریوں کے لیے یہ بڑی بڑی فولادی رکاوٹیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اب سڑکیں بند ہوں گی، ٹریفک جام ہو گا اور اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں لوگوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑیں گے۔
شہر میں کنٹینرز ہی کنٹینرز
اسلام آباد کی سرسبز پہاڑیوں اور درختوں سے گھری شاہراہوں کے درمیان رنگ برنگے کنٹینرز کی قطاریں آسانی سے نظر آتی ہیں۔ کچھ کنٹینرز مصروف سڑکوں کے کنارے رکھے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں کہیں بھی منتقل کیا جا سکے، جبکہ بعض کو دو منزلہ انداز میں ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے یا ٹریفک لینز کے درمیان کھڑا کر کے کشادہ شاہراہوں کو محدود راستوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی رہائشی صبیحہ بی بی نے کہا، ”ایسا لگتا ہے جیسے یہ کنٹینرز کا شہر بن گیا ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ مظاہرین کے ملک بھر سے، خصوصاً شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد روانہ ہونے سے پہلے ہی شہریوں کے معمولات متاثر ہونا شروع ہو گئے۔ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے۔
راولپنڈی سے اسلام آباد ملازمت کے لیے روزانہ سفر کرنے والے سرکاری ملازم عبدالحفیظ، جو اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے بھی جاتے ہیں، نے کہا، ”امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتیں تقریباً دو گنا ہوگئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ہم پہلے ہی اپنے گھروں کا خرچ چلانے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، سڑکوں کی بندش ہمیں مزید طویل سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ”اگر حکومت سڑکیں بند نہ کرے، تو ہمیں ان احتجاجی مظاہروں سے کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘

مارچ ملتوی کرنے کی وجہ
پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے کہا کہ اس نے مارچ اس لیے ملتوی کیا کیونکہ حکام نے دارالحکومت آنے والے اہم راستے بند کر دیے تھے۔ ان میں اٹک پل بھی شامل ہے، جو خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔
اس جماعت کے منتظمین کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے حامیوں کے متوقع راستے پر کنٹینرز اور نوکیلی دھاتی چادریں بھی نصب کی گئی تھیں۔
جہاں سڑکیں کھلی رہیں، وہاں بھی حفاظتی انتظامات کے باعث ٹریفک لینز محدود ہو گئیں اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مسافروں نے متبادل راستے تلاش کیے، جبکہ ممکنہ احتجاجی راستوں پر دکانداروں نے بھی یہ سوچنا شروع کر دیا کہ آیا دکانیں بند کر دی جائیں، کیونکہ انہیں احتجاج یا جھڑپوں کی صورت میں نقصان کا خدشہ تھا۔
کنٹینر ٹرک مالکان کے مسائل
حکام کا کہنا ہے کہ وہ کنٹینر ٹرک مالکان کو کنٹینرز کے استعمال کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔ تاہم بعض ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پولیس شاہراہوں پر انہیں روک کر گاڑیاں قبضے میں لے لیتی ہے اور چابیاں بھی لے لیتی ہے۔
کنٹینر ٹرک ڈرائیور رحمت گل نے بتایا کہ پولیس نے انہیں روکا، چابیاں لے لیں اور ان کا ٹرک بھی قبضے میں لے لیا۔ ان کے مطابق بعد میں ان کا کنٹینر راولپنڈی کے قریب ایک سڑک پر رکھ دیا گیا۔

کنٹینرز آتے ہیں تو لوگ جانتے ہیں زندگی متاثر ہو گی
بہت سے شہریوں کے لیے کنٹینرز اب محض سکیورٹی کا انتظام نہیں رہے۔ ان کی آمد اس بات کا اشارہ بن چکی ہے کہ ایک اور سیاسی محاذ آرائی قریب ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
حکام نے نومبر 2024 میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے تھے، جب عمران خان کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی کے باوجود مظاہرین دارالحکومت پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت اسلام آباد جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی تھیں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس بھی استعمال کی تھی۔
اس تجربے نے شہریوں کو یہ سکھا دیا کہ وہ سڑکوں کی بندش کے باضابطہ اعلان کا انتظار نہ کریں۔
جیسے ہی کرینیں سڑکوں پر کنٹینرز رکھنا شروع کرتی ہیں، بہت سے شہری اپنے معمول کے راستے تبدیل کر لیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر اپنے گھروں کے لیے خوراک ذخیرہ کرنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔



