
لاہور میں آذری سیاح کا عدالت میں بیان، تین افراد پر قید، دھمکانے اور مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزامات
خاتون کے مطابق نمرہ نے محسن سے مبینہ طور پر 20 ہزار سے 30 ہزار روپے لیے اور بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے اخراجات کے لیے ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ سیاح کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آگیا ہے، جس میں خاتون نے تین افراد پر اسے مبینہ طور پر قید کرنے، دھمکانے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے، اس کا سامان روکنے اور بعد ازاں چلتی گاڑی سے باہر دھکیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔
خاتون نے اپنا بیان ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164 کے تحت پیر کے روز لاہور کی عدالت میں ریکارڈ کرایا۔ مقدمہ ڈیفنس سی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے میں نامزد افراد سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
خاتون نے تین افراد کو نامزد کیا
عدالت کے روبرو دیے گئے بیان میں آذری خاتون نے محمد احمد تنویر، سید محسن شاہ اور سید علی زین کو ان افراد کے طور پر نامزد کیا جن پر اس نے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا۔
خاتون کے مطابق وہ 13 ستمبر کو پاکستان پہنچی تھی اور لاہور آنے سے قبل تقریباً پانچ روز فیصل آباد میں قیام کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کا ارادہ اسکردو جانے کا تھا، تاہم چونکہ وہ اکیلی سفر کر رہی تھی، اس لیے لاہور میں ملاقات کے لیے اس نے دو خواتین، جن کی شناخت اس نے نمرہ اور مسکان کے نام سے کی، سے رابطہ کیا۔
عدالتی بیان کے مطابق وہ رات تقریباً 11 بجے اکیلی ایک کیفے پہنچی، جہاں مسکان نے اس سے ملاقات کی۔ خاتون نے بتایا کہ اس نے مسکان کو کھانے اور کافی کی دعوت دی، تاہم مسکان نے کہا کہ ان کی دوست نمرہ بھی ان کا انتظار کر رہی ہے۔
اس کے بعد دونوں بحریہ ٹاؤن کی جانب روانہ ہوئیں۔
اپارٹمنٹ میں مزید افراد کی آمد
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ رات تقریباً 2 بجے ایک سفید رنگ کی گاڑی وہاں پہنچی، جس میں دو افراد سوار تھے۔ اس نے ان کی شناخت احمد اور محسن کے نام سے کی۔
اس کے مطابق وہ لوگ ایک اپارٹمنٹ پہنچے جہاں کھانا کھایا گیا۔ بعد ازاں مزید دو افراد وہاں آئے، جن میں سے ایک کی شناخت خاتون نے علی زین کے طور پر کی، جبکہ چوتھے شخص کی شناخت وہ نہیں کر سکی۔
عدالتی بیان میں خاتون نے کہا کہ ایک موقع پر نمرہ اور محسن بات کرنے کے لیے الگ کمرے میں چلے گئے، جبکہ مسکان بھی بعد میں ان کے ساتھ شامل ہوگئیں۔
خاتون کے مطابق نمرہ نے محسن سے مبینہ طور پر 20 ہزار سے 30 ہزار روپے لیے اور بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے اخراجات کے لیے ہے۔
جانے کی کوشش اور مبینہ طور پر روکنے کا الزام
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس نے وہاں موجود افراد سے کہا کہ اسے رقم یا شراب کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے مطابق اس کے بعد محسن نے اسے چھونے کی کوشش کی اور اسے ایک الگ کمرے میں بند کر دیا۔
اس نے بتایا کہ جب اس نے نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ دونوں وہاں سے جا چکی ہیں۔
خاتون کے مطابق اس نے وہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی، تاہم مبینہ طور پر اسے بتایا گیا کہ وہ اس وقت تک نہیں جا سکتی جب تک اس کے دوست کی جانب سے لی گئی رقم کا معاملہ حل نہیں ہوتا۔
اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے خود 30 ہزار روپے ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ اسے وہاں سے جانے دیا جائے۔
دھمکی اور مبینہ اجتماعی زیادتی کا الزام
عدالتی بیان کے مطابق خاتون نے الزام عائد کیا کہ علی زین نے اسے دھمکایا اور بلیک میل کیا، جبکہ اسے کہا گیا کہ وہاں سے جانے سے قبل اسے ان افراد کے ساتھ شراب پینا ہوگی۔
اس کے بعد خاتون نے الزام عائد کیا کہ محسن، احمد اور علی زین نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
یہ تمام الزامات خاتون کے اپنے عدالتی بیان کا حصہ ہیں اور مقدمے میں ان کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
سامان واپس کرنے کے لیے مبینہ شرط
خاتون کے مطابق مبینہ واقعے کے بعد اسے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا۔ اس نے بتایا کہ محسن گاڑی چلا رہا تھا، احمد اگلی نشست پر جبکہ علی زین اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بیگ میں تقریباً 2 لاکھ روپے نقد، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل فون موجود تھا۔
اس کے مطابق اس نے متعدد مرتبہ اپنا بیگ واپس کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم مبینہ طور پر اسے واپس نہیں کیا گیا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ بعد میں ملزمان نے اس شرط پر اس کا سامان واپس کرنے کی پیشکش کی کہ وہ پولیس کو واقعے کی اطلاع نہیں دے گی۔
پولیس کو اطلاع دینے پر گاڑی سے باہر دھکیلنے کا الزام
خاتون کے بیان کے مطابق اس نے ابتدا میں ملزمان کو بتایا کہ وہ گھر واپس چلی جائے گی، تاہم بعد میں اس نے واضح کیا کہ وہ پولیس کو اطلاع دے گی۔
اس کے مطابق مردوں نے اسے مبینہ طور پر کہا کہ پہلے پولیس کو شکایت کرے اور پھر وہ دیکھیں گے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد احمد اور علی زین نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے باہر دھکیل دیا۔
خاتون کے مطابق اس نے وہاں موجود افراد سے مدد طلب کی اور ایمرجنسی پولیس نمبر 15 پر اطلاع دینے کو کہا۔ اس کے بیان کے مطابق موقع پر موجود افراد نے اس کی مدد کی اور بعد ازاں پولیس وہاں پہنچ گئی۔
پولیس تفتیش جاری
کیس ریکارڈ کے مطابق خاتون نے اس سے قبل دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے بیان میں بھی تینوں افراد کے نام لیے تھے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور پولیس ملزمان سے متعلق شواہد اور دیگر معلومات جمع کر رہی ہے۔
اس سے قبل پولیس نے مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی قبضے میں لے لی تھی۔ تفتیش کار گاڑی سمیت دیگر ممکنہ شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے حالات اور مقدمے میں نامزد افراد کے کردار سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
دفعہ 164 کے تحت بیان کی اہمیت
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مجسٹریٹ نے خاتون کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانا اس پر قانونی طور پر لازم نہیں اور اس دوران اس کی جانب سے دیا گیا کوئی بھی بیان بعد میں اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہو سکتا ہے۔
مجسٹریٹ کے مطابق خاتون نے اس وضاحت کو سمجھنے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اس کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہے۔
عدالت نے ریکارڈ کیا کہ وہ خاتون کے بیان سے مطمئن ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اور کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر بیان دے رہی ہے۔
اس کے بعد اس کا بیان الگ سے ریکارڈ کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے مطابق بیان کو محفوظ کرنے کے لیے اسے موبائل فون پر ریکارڈ کرنے کے بعد یو ایس بی ڈیوائس میں منتقل کیا گیا۔
مقدمے میں آئندہ مرحلہ
مقدمے میں اب پولیس تفتیش کے دوران جمع کیے جانے والے شواہد، طبی معائنے کی رپورٹ، ممکنہ فرانزک مواد، گاڑی اور دیگر دستیاب شواہد اہم ہوں گے۔ پولیس کو یہ بھی تعین کرنا ہوگا کہ خاتون کے بیان میں نامزد افراد واقعے سے کس حد تک منسلک ہیں اور مبینہ واقعے کے دیگر حالات کیا تھے۔
قانونی طور پر عدالت میں کسی ملزم کے خلاف الزام ثابت ہونے تک اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے مقدمے میں سامنے آنے والے الزامات اور پولیس کے دعووں کو حتمی عدالتی فیصلے سے الگ رکھتے ہوئے دیکھا جائے گا۔
یہ مقدمہ لاہور میں ایک غیر ملکی شہری کے ساتھ مبینہ جنسی جرم کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ واقعے کی نوعیت، متاثرہ خاتون کا عدالتی بیان اور پولیس کی جاری تفتیش آئندہ قانونی کارروائی کی بنیاد بنیں گے۔



