
”جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کر سکتے، وہاں کوئی اور تیل فروخت نہیں کر سکے گا“، ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر قالیباف کی امریکہ کو تنبیہ
قالیباف نے ٹرمپ کے "غیر ذمہ دارانہ رویے" پر بھی ردعمل ظاہر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران دھمکیوں سےمرعوب نہیں ہوگا۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ اور دیگر ممالک کو خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی گئی تو ”کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔“
قالیباف نے یہ ریمارکس منگل کو ایک عوامی ویڈیو کانفرنس کے دوران دیے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیا۔
امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ یہ محض پرانے دعووں کا اعادہ ہے جن کی حقیقت سے سب واقف ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں خوش فہمی کے شکار امریکی صدر کے حالیہ ریمارکس محض پرانے دعووں کا اعادہ ہیں۔ ہر کوئی ان بے بنیاد باتوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو جانتا ہے۔“
اس کے بعد قالیباف نے امریکہ اور دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ ایران اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے خطے کی سلامتی کو تیل کی ترسیل سے منسلک کیا۔
انہوں نے کہا، ”امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ سمجھ لینا چاہیے: جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کر سکیں گے، وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اور اگر ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔“
قالیباف نے آبادان کے محاصرے کے خاتمے کی برسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس واقعے نے اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور مزاحمت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا، ”ان دنوں آبادان کے محاصرے کے خاتمے کی برسی بھی منائی جا رہی ہے۔ محاصرے کا خاتمہ انقلاب کے عظیم امام کی ہدایت کے مطابق عمل میں لایا گیا جو آپریشن ’ثامن الائمہ‘ کے دوران کمانڈروں اور مجاہدین کی جدوجہد اور ایثار کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا، اس آپریشن کی کامیابی باریک بین منصوبہ بندی اور جرات مندانہ عمل درآمد کا بھی ثمر تھا۔“
محاصرے کے دوران کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے قالیباف نے کہا، "اس وقت دشمن نے اہواز اور ماہشہر جانے والے راستوں کو منقطع کر کے اور دریائے کارون پر پل تعمیر کر کے آبادان کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ آبادان ریفائنری ملک میں توانائی کا مرکز اور مغربی ایشیا کی سب سے بڑی ریفائنری تھی جسے براہِ راست گولہ باری سے تباہ کر دیا گیا تھا، تیل کی پائپ لائنیں کاٹ دی گئی تھیں، اور شہر کا پانی اور بجلی کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔ صدام نے قحط جیسے حالات پیدا کر کے اور ضروری اشیاء کی قلت کا بحران پیدا کر کے آبادان کے عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، آبادان کے ثابت قدم عوام کے عزم اور اسلام کے مجاہدین کی بہادری نے اس سازش کو ناکام بنا دیا، اور ایک سال طویل محاصرہ محض 48 گھنٹوں میں توڑ دیا گیا۔”
موجودہ صورتحال سے موازنہ کرتے ہوئے قالیباف نے کہا، "میں ایران کی نوجوان نسل کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ امریکہ آج جو کوششیں کر رہا ہے، یعنی بحری ناکہ بندی، فضائی راستوں کی بندش اور ملک کی تجارتی شہ رگوں پر شدید دباؤ ڈالنا، انہیں بھی انہی معاشی حکمت عملیوں اور فوجی جوابی اقدامات کے ذریعے ناکام بنا دیا جائے گا جو 1980 میں اپنائے گئے تھے۔”
قالیباف نے امریکی صدر کے "غیر ذمہ دارانہ رویے” پر بھی ردعمل ظاہر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا، "اتنی شاندار اور گہری تاریخ رکھنے والا ملک محاصروں اور دھمکیوں سے کبھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر امریکہ کا دشمنانہ نظام اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے، تو وہ ایرانی قوم سے کرارے طمانچے کھانے کے چکر میں پھنسا رہے گا۔ درحقیقت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور ایران جیسی عظیم اور تہذیب ساز قوم کے ساتھ بدتمیزی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے ابھی تک اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا ہے اور ایسی بدتمیزی کے جواب میں ہمارا پیغام وہی واضح پیغام ہے: ‘تم پیچھے ہٹو، تاکہ ہم بھی پیچھے ہٹ سکیں!'”



