پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

51 افغان شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کی مبینہ کوشش، نادرا افسر گرفتار

ایف آئی اے کا کارروائی کا دعویٰ، نادرا افسر پر 12 کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام، گھر سے 19 لاکھ روپے نقد برآمد، مبینہ اثاثوں کی بھی چھان بین

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ناصر خان خٹک-پاکستان

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے 51 افغان شہریوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ مبینہ طور پر بحال کرنے کی کوشش کے الزام میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے افغان شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے عوض مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی۔

ذرائع کے مطابق گرفتار نادرا افسر نے مبینہ طور پر 51 افغان شہریوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے کے لیے مجموعی طور پر 12 کروڑ روپے وصول کیے۔ معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی اے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے نادرا افسر کو حراست میں لے لیا اور اس سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا۔

گھر پر چھاپہ، 19 لاکھ روپے نقد برآمد

ذرائع کے مطابق نادرا افسر کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے ملزم کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران گھر سے 19 لاکھ روپے نقد برآمد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والی رقم کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کا تعلق مبینہ طور پر شناختی کارڈ بحال کرنے کے لیے وصول کی گئی رقم سے ہے یا نہیں۔

حکام نے مبینہ طور پر مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی معاملات کی چھان بین بھی شروع کردی ہے تاکہ معاملے میں ملوث افراد اور رقم کی ترسیل کے طریقہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

مبینہ اثاثوں کی خریداری کی بھی تحقیقات

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر رشوت سے حاصل ہونے والی رقم سے مختلف اثاثے خریدے۔ حکام کو اطلاعات ملی ہیں کہ ملزم نے حویلیاں اور اسلام آباد کے سیکٹر جی-15 میں پلاٹس بھی خریدے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی-15 میں مبینہ پلاٹ سے متعلق بعض دستاویزات بھی حکام نے حاصل کرلی ہیں۔ ان دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ جائیداد کب، کس رقم سے اور کس کے نام پر خریدی گئی۔

شناختی کارڈز کی بحالی کا معاملہ زیر تفتیش

تحقیقاتی حکام کے مطابق معاملے کا ایک اہم پہلو 51 افغان شہریوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈز کی مبینہ بحالی کی کوشش ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ شناختی کارڈز کی منسوخی کی وجوہات کیا تھیں، انہیں بحال کرنے کے لیے کس طریقہ کار کو استعمال کیا گیا اور اس عمل میں نادرا کے مزید کسی اہلکار یا بیرونی شخص کا کردار تو نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ ریکارڈ، کمپیوٹر سسٹم میں درج معلومات، درخواستوں اور شناختی کارڈز کی حیثیت سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

تفتیش کار مبینہ طور پر مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ان افراد کی شناخت اور ممکنہ رابطوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جنہوں نے شناختی کارڈز کی بحالی کے لیے نادرا افسر سے رابطہ کیا تھا۔

مزید گرفتاریوں اور کارروائی کا امکان

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران اگر کسی دوسرے نادرا اہلکار یا نجی شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حکام کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت کی رقم، اثاثوں، مالی لین دین اور شناختی کارڈز کی بحالی کے عمل سے متعلق تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

اس معاملے میں گرفتار نادرا افسر کے خلاف قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے، جبکہ مبینہ طور پر برآمد ہونے والی رقم اور دستاویزات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تاہم گرفتار افسر پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔ اسی طرح 12 کروڑ روپے کی مبینہ وصولی، جائیدادوں کی خریداری اور 51 شناختی کارڈز کی بحالی سے متعلق دعوؤں کی حتمی تصدیق بھی تحقیقاتی عمل مکمل ہونے پر سامنے آئے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button