
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اور سرنگیں تباہ
برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو مزید کارروائی کے لیے محفوظ تحویل میں لیا گیا، جبکہ سرچ آپریشن کے دوران ملنے والے بعض دھماکہ خیز مواد کو بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد سے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
سید عاطف ندیم-ادارت
پشاور: سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے متعدد مبینہ ٹھکانے اور سرنگیں تباہ کر دیں، جبکہ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی عزمِ استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری سکیورٹی اقدامات کا حصہ تھی۔ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گرد عناصر کی جانب سے استعمال کیے جانے والے متعدد مبینہ ٹھکانوں اور زیرِ زمین سرنگوں کا سراغ لگایا گیا، جنہیں بعد ازاں تباہ کر دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ٹھکانوں کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو مزید کارروائی کے لیے محفوظ تحویل میں لیا گیا، جبکہ سرچ آپریشن کے دوران ملنے والے بعض دھماکہ خیز مواد کو بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد سے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق مزید تفصیلات دستیاب نہیں کی گئیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا تاکہ ممکنہ طور پر موجود دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں یا بارودی مواد کا سراغ لگایا جا سکے۔
شمالی وزیرستان کو ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کا اہم مرکز رہنے کے باعث سکیورٹی کے حوالے سے حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ کارروائی کے دوران انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کارروائی کی، جس کے باعث علاقے میں موجود ممکنہ خطرے کو ختم کرنے میں مدد ملی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے آپریشن کے دوران علاقے کے مختلف حصوں کی تلاشی بھی لی۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک، ان کے مبینہ ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے ذرائع کو ختم کرنا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر مشتبہ ٹھکانوں کی نشاندہی اور کلیئرنس آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلیجنس، جدید ٹیکنالوجی اور سکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی آبادی کا تعاون بھی اہم ہے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی بروقت اطلاع متعلقہ اداروں تک پہنچانے سے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری سرچ اور کلیئرنس سرگرمیوں کا مقصد علاقے کو دہشت گرد عناصر سے پاک رکھنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے ایک محفوظ اور پُرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ ضرورت کے مطابق جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔



