
پیٹ ہیگزٹ کا پینٹاگون…….سید عاطف ندیم
ہیگزٹ کی وزارت کے دوران امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ان میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کی اپریل 2026 میں رخصتی بھی شامل ہے
کبھی امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کے میزبان رہنے والے پیٹ ہیگزٹ نے امریکی دفاعی پالیسی میں ایک غیر معمولی دور کا آغاز کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں جنوری 2025 میں محکمہ دفاع کی قیادت سنبھالنے والے ہیگزٹ اب امریکی سیکرٹری آف وار ہیں۔ امریکی حکومت نے ستمبر 2025 میں محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرکے Department of War کر دیا تھا، تاہم اس تبدیلی کے باوجود ادارے کی بنیادی ذمہ داریاں قومی دفاع اور فوجی پالیسی سے متعلق ہی ہیں۔
ہیگزٹ کے دور میں پینٹاگون میں اعلیٰ فوجی اور سویلین قیادت کی متعدد تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔ معتبر امریکی رپورٹس کے مطابق کم از کم 20 جنرلز، ایڈمرلز اور اعلیٰ سویلین دفاعی عہدیدار یا تو برطرف کیے گئے، عہدوں سے ہٹائے گئے یا اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے۔ تاہم یہ کہنا کہ ان تمام افسران کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ ایران جنگ کے حامی نہیں تھے، دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ بعض برطرفیوں کی وجوہات سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئیں، جبکہ بعض معاملات میں دیگر انتظامی یا ذاتی اختلافات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ہیگزٹ کی وزارت کے دوران امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ان میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کی اپریل 2026 میں رخصتی بھی شامل ہے، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ہوئی۔ جنرل جارج کے ساتھ جنرل ڈیوڈ ہونڈے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو بھی عہدوں سے ہٹایا گیا تھا۔ اس وقت ان تبدیلیوں کی فوری وجوہات مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی تھیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جنرل جارج کی برطرفی کے معاملے میں امریکی حکام نے اسے بنیادی طور پر شخصی اختلافات سے جوڑا، نہ کہ فوج کی سمت یا ایران جنگ کے حوالے سے کسی واضح پالیسی اختلاف سے۔
اس کے باوجود پینٹاگون میں ہونے والی مجموعی تبدیلیوں نے امریکی فوجی قیادت کے اندر تشویش پیدا کی ہے۔ CBS کے مطابق ہیگزٹ کے دور میں کم از کم 20 اعلیٰ فوجی اور سویلین دفاعی عہدیدار عہدوں سے الگ ہوچکے تھے۔
ہیگزٹ نے 30 ستمبر 2026 کو ورجینیا کے کوانٹیکو میں امریکی فوج سے خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ فوجی قیادت کے ڈھانچے میں مزید تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد کمی کی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ پچھلے سال اعلان کردہ تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز سے آگے کا قدم ہے۔ اس منصوبے میں تمام موجودہ افسران کو برطرف کرنا مقصود نہیں بلکہ بعض عہدوں کو ختم یا کم درجے کے عہدوں میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔
ہیگزٹ اس تبدیلی کو جواب دہی، فوجی کارکردگی اور کمانڈ کے ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اعلیٰ قیادت میں تبدیلیاں ادارہ جاتی تسلسل اور فوجی استحکام کے لیے سوالات پیدا کرسکتی ہیں۔ یہ دونوں مؤقف الگ الگ فریقوں سے منسوب ہیں اور ان کے نتائج کا حتمی اندازہ ابھی قبل از وقت ہوگا۔
ہیگزٹ کے دور میں امریکی فوج براہ راست ایران کے ساتھ جنگی کارروائیوں میں بھی مصروف رہی ہے۔ اسی دوران اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفیوں نے اس سوال کو مزید نمایاں کیا کہ جنگ کے دوران فوجی قیادت میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں کس حد تک مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
تاہم دستیاب رپورٹنگ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ تمام برطرفیاں ایران جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ہوئیں۔ بعض افسران کے معاملے میں وجوہات سامنے نہیں آئیں، جبکہ بعض کیسز میں ذاتی یا انتظامی اختلافات کی اطلاعات موجود ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں متعدد تبدیلیاں ہوئی ہیں، جس نے پینٹاگون کے اندر فیصلہ سازی اور فوجی حکمت عملی کے حوالے سے بحث کو تیز کردیا ہے۔
پیٹ ہیگزٹ کے دور کا ایک اور متنازع واقعہ کیریبین سمندر میں ایک کشتی پر امریکی حملہ ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے نومبر 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ ایک کارروائی کے دوران ہیگزٹ نے مبینہ طور پر زبانی ہدایت دی کہ حملے کے بعد کوئی شخص زندہ نہ بچنے دیا جائے۔ اخبار نے یہ دعویٰ ایسے افراد کے حوالے سے کیا جنہیں کارروائی کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز شامل تھیں اور کشتی پر موجود افراد کو منشیات کی اسمگلنگ سے منسلک قرار دیا گیا تھا۔
یہ ایک رپورٹ شدہ الزام ہے، جسے خبر میں قطعی ثابت شدہ حکم کے طور پر پیش کرنا محتاط صحافت نہیں ہوگا۔ واقعے کی قانونی اور عملی حیثیت کے بارے میں الگ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ کسی فوجی کارروائی میں زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے۔
ہیگزٹ کے حوالے سے سب سے زیادہ دستاویزی تنازعات میں سے ایک Signal ایپ کا معاملہ ہے۔
2025 میں ایک Signal گروپ چیٹ میں یمن سے متعلق امریکی فوجی کارروائی کی حساس معلومات شیئر ہوئی تھیں اور ایک صحافی بھی غیر ارادی طور پر اس گروپ میں شامل ہوگیا تھا۔
بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ہیگزٹ نے ذاتی فون اور Signal کے ذریعے غیر عوامی محکمہ دفاع کی معلومات منتقل کرکے محکمہ دفاع کی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس طریقۂ کار سے حساس معلومات افشا ہونے اور فوجی اہلکاروں کے لیے خطرہ پیدا ہونے کا امکان موجود تھا۔
اس معاملے کو محض سیاسی الزام کے بجائے امریکی محکمہ دفاع کی باقاعدہ نگرانی کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
پیٹ ہیگزٹ کے جسم پر موجود مذہبی اور تاریخی علامات بھی ان کے بارے میں سیاسی اور نظریاتی بحث کا حصہ رہی ہیں۔
ان کے سینے پر Jerusalem Cross کا ٹیٹو موجود ہے، جبکہ ان کے بازو پر “Deus Vult”کے الفاظ درج ہیں۔ یہ لاطینی فقرہ تاریخی طور پر پہلی صلیبی جنگ کے حوالے سے مشہور ہوا تھا۔ ہیگزٹ نے خود اپنے ٹیٹو کو مذہبی علامت قرار دیا ہے اور اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ اسے انتہاپسند نظریات سے منسلک کیا جائے۔
ہیگزٹ کے ٹیٹو کے معاملے پر مختلف ماہرین نے مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔ بعض محققین نے ان علامات کو صلیبی تاریخ اور بعض جدید انتہاپسند حلقوں میں ان کے استعمال کے تناظر میں دیکھا ہے، جبکہ ہیگزٹ کا اپنا مؤقف ہے کہ ان علامات کی بنیاد مذہبی عقیدے پر ہے۔
لہٰذا ان ٹیٹوز کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا کہ ہیگزٹ کی موجودہ فوجی پالیسی لازماً مذہبی یا صلیبی جنگ کے تصور سے چل رہی ہے، ایک **تشریحی دعویٰ** ہوگا، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
30 ستمبر 2026 کو کوانٹیکو میں خطاب کرتے ہوئے ہیگزٹ نے امریکی فوج میں Warrior Ethos کو مرکزی حیثیت دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے فوجی تیاری، جسمانی معیار، نظم و ضبط اور جنگی صلاحیت کو اپنی ترجیحات میں نمایاں کیا۔
اسی خطاب میں انہوں نے Autonomous Warfare Command قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد ڈرونز، روبوٹک نظام اور خودکار جنگی ٹیکنالوجی کی ترقی اور استعمال کو مربوط کرنا ہے۔ یہ کمان امریکی فوج کے موجودہ بڑے جنگی کمانڈز کی سطح پر قائم کی جائے گی۔
ہیگزٹ نے مستقبل کی جنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پالیسی صرف روایتی عسکری قوت بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور خودکار ہتھیاروں کے نظام کو بھی امریکی فوجی حکمت عملی میں زیادہ نمایاں مقام دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہیگزٹ کی وزارت میں ہونے والی تبدیلیوں کو صرف ان کی ذاتی شخصیت سے جوڑنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ نے فوجی ادارے، دفاعی اخراجات، جنگی تیاری اور امریکی فوج کے اندر نظریاتی و انتظامی ترجیحات کے حوالے سے وسیع تر تبدیلیوں کا ایجنڈا اختیار کیا ہے۔
ہیگزٹ اس پالیسی کے اہم نفاذ کنندہ ہیں، لیکن بڑے فیصلوں میں صدر، وائٹ ہاؤس، کانگریس اور امریکی قومی سلامتی کے دیگر ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
امریکی دفاعی پالیسی میں تبدیلیاں صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہتیں۔ امریکہ کی فوجی طاقت اور عالمی موجودگی کے باعث پینٹاگون کی حکمت عملی کا اثر یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا، بحرالکاہل اور دیگر خطوں تک پہنچتا ہے۔
اگر امریکی فوج میں اعلیٰ قیادت کی تنظیم نو، ڈرون اور خودکار ہتھیاروں کا وسیع استعمال اور جنگی تیاری کو مرکزی حیثیت دینے کی پالیسی طویل مدت تک جاری رہتی ہے تو اتحادی ممالک اور حریف ریاستوں دونوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہیگزٹ کی پالیسی لازماً کسی نئے بڑے عالمی تنازع کا باعث بنے گی۔ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ امریکی فوجی کارروائیوں، اتحادی تعلقات، کانگریس کی نگرانی اور آنے والے پالیسی فیصلوں سے ہی ہوگا۔
پیٹ ہیگزٹ کا دور امریکی محکمہ دفاع میں غیر معمولی تبدیلیوں کا دور بن چکا ہے۔ اعلیٰ فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر افرادی تبدیلیاں، جنرلز اور ایڈمرلز کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کا منصوبہ، خودکار جنگی ٹیکنالوجی کے لیے نئی کمان، ایران جنگ کے دوران فوجی قیادت کی تبدیلیاں، کیریبین کارروائیوں سے متعلق الزامات اور Signal چیٹ تنازع نے ان کی وزارت کو مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھا ہے۔
ان کے مذہبی ٹیٹو اور ماضی کے نظریاتی بیانات بھی بحث کا حصہ ہیں، لیکن ان علامات کو موجودہ فوجی پالیسی کا براہِ راست ثبوت قرار دینے کے بجائے ان کے سرکاری فیصلوں، بیانات اور عملی اقدامات کے ساتھ الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ پینٹاگون میں جاری یہ تبدیلیاں امریکی فوج کو زیادہ مؤثر اور جدید بناتی ہیں یا ادارہ جاتی استحکام اور پیشہ ورانہ تسلسل کے لیے نئے چیلنج پیدا کرتی ہیں۔ اس کا جواب آنے والے عرصے میں امریکی فوجی فیصلوں، جنگی حکمت عملی اور عالمی سطح پر واشنگٹن کے اقدامات سے زیادہ واضح ہوگا۔


