پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان:کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف اہم عدالتی فیصلہ، پیمرا کے سابق ڈی جی کی برطرفی برقرار

وفاقی آئینی عدالت نے حاجی آدم کی ایف سی پی ایل اے نمبر 320/2026 خارج کردی، 20 لاکھ روپے جرمانے سمیت ملازمت سے برطرفی کی سزا برقرار؛ عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ محدود قانونی بنیادوں پر ہی صدر یا متعلقہ فورم کے فیصلے میں مداخلت کرسکتی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

پاکستان میں کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف قانونی تحفظ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن و ہیومن ریسورسز حاجی آدم کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی ملازمت سے برطرفی اور جرمانے کی سزا برقرار رکھی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق F.C.P.L.A. No. 320/2026، حاجی آدم بنام صدرِ پاکستان بذریعہ ڈائریکٹر لیگل-I، صدر سیکرٹریٹ و دیگر کے مقدمے میں درخواست گزار کو Protection against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 کے تحت عائد کی گئی بڑی محکمانہ سزا کا سامنا تھا، جس میں ملازمت سے برطرفی کے ساتھ 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی شامل تھا۔ عدالت کے کیس ریکارڈ میں اس مقدمے کو خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے قانون کے تحت عائد کی گئی major penalty کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں ایک خاتون کارکن کی جانب سے کام کی جگہ مبینہ ہراسانی کی شکایت کے بعد معاملہ محکمانہ فورم، وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین از ہراسگی، صدرِ پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بالآخر وفاقی آئینی عدالت تک پہنچا، جہاں مختلف قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد درخواست گزار کی جانب سے سزا ختم کرانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

روزانہ اجرت پر کام کرنے والی خاتون کی شکایت

مقدمے کے دستیاب ریکارڈ اور سابقہ عدالتی کارروائی کی تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ خاتون PEMRA میں بطور ریسپشنسٹ/ٹیلی فون آپریٹر یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے جنوری 2020 میں ادارے کے چیئرمین کو درخواست دے کر حاجی آدم کے خلاف کام کی جگہ ہراسانی کے الزامات عائد کیے، جبکہ اسی روز PEMRA کے آن لائن پورٹل پر بھی شکایت جمع کرائی گئی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق شکایت کنندہ نے بعد ازاں 20 جنوری 2020 کو وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین از ہراسگی سے بھی رجوع کیا۔ وفاقی محتسب کے سامنے پیش کیے گئے معاملے میں خاتون نے الزام عائد کیا کہ انہیں نامناسب رویے اور مبینہ جنسی مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیس کی رپورٹنگ اس وقت بھی ملکی میڈیا میں ہوئی تھی۔

وفاقی محتسب نے معاملے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد حاجی آدم کو ملازمت سے برطرف کرنے کی بڑی سزا سنائی اور خاتون کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ ابتدائی فیصلے میں جرمانے کی رقم 20 لاکھ روپے تھی، جو بعد ازاں صدرِ پاکستان کے سامنے دائر نمائندگی کے مرحلے میں بڑھ کر 25 لاکھ روپے ہوئی تھی۔ وفاقی محتسب کے سالانہ ریکارڈ میں بھی حاجی آدم کی برطرفی اور صدرِ پاکستان کی جانب سے فیصلے کی توثیق کا ذکر موجود ہے۔

صدرِ پاکستان کے سامنے بھی اپیل مسترد

وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف حاجی آدم نے صدرِ پاکستان کے سامنے نمائندگی دائر کی۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق صدرِ پاکستان نے بھی بنیادی سزا برقرار رکھی اور جرمانے کی رقم بڑھا دی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی معاملے میں مداخلت سے گریز کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی، جس کے بعد حاجی آدم نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا اور آئین کے آرٹیکل 175-F(1)(c) کے تحت اپیل کی اجازت طلب کی۔

وفاقی آئینی عدالت کے ریکارڈ میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف عائد ملازمت سے برطرفی اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت میں بنیادی قانونی سوال

وفاقی آئینی عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدرِ پاکستان اور متعلقہ فورمز کے فیصلوں میں مداخلت نہ کرکے قانون کے مطابق کام کیا یا نہیں، اور کیا درخواست گزار کو وفاقی آئینی عدالت سے اپیل کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں صدرِ پاکستان کے بعض نیم عدالتی اختیارات اور ان کے عدالتی جائزے کے دائرہ کار سے متعلق سابقہ عدالتی نظائر کا جائزہ لیا۔

عدالت کے مطابق صدرِ پاکستان جب کسی معاملے میں نیم عدالتی نوعیت کا اختیار استعمال کرتے ہیں تو ان کا فیصلہ ہر صورت عدالتی نظرثانی سے باہر نہیں ہوجاتا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ اصول بھی موجود ہے کہ ہائی کورٹ ہر معاملے میں صدر کے فیصلے کو دوبارہ مکمل میرٹ پر نہیں دیکھ سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئینی عدالتی نظرثانی کا دائرہ مخصوص قانونی خامیوں تک محدود رہتا ہے۔ اگر کسی فیصلے میں اختیار سے تجاوز، اختیار کا غلط استعمال، قانون کا غلط اطلاق، شواہد کو نظرانداز کرنا، شواہد کی غلط تشریح، حقائق کے بارے میں بنیادی غلط مفروضہ یا اصولِ فطری انصاف کی خلاف ورزی سامنے آئے تو ہائی کورٹ مداخلت کرسکتی ہے۔

ہائی کورٹ ٹریبونل کے حقائق کو ازسرنو تبدیل نہیں کرسکتی

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا کردار بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہے کہ متعلقہ فورم نے قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کام کیا یا نہیں۔

عدالت کے مطابق محض اس بنیاد پر کہ کسی فریق کو ٹریبونل یا متعلقہ فورم کے حقائق کے تعین سے اختلاف ہے، ہائی کورٹ ان نتائج کو اپنے نتائج سے تبدیل نہیں کرسکتی۔

البتہ اگر متعلقہ فورم نے بغیر کسی قابلِ قبول ثبوت کے فیصلہ کیا ہو، قانون کی خلاف ورزی کی ہو، اختیار سے تجاوز کیا ہو یا اصولِ فطری انصاف کو نظرانداز کیا ہو تو آئینی عدالت مداخلت کرسکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سابقہ عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے اسی محدود دائرہ اختیار کے اصول کو واضح کیا اور قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں ایسی قانونی خامی ثابت نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت ہو۔

سزا کے خلاف اپیل میں قانونی میرٹ نہ مل سکا

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے ایسا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاسکے۔

چنانچہ عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کردی، جس کے نتیجے میں پہلے سے برقرار ملازمت سے برطرفی کی سزا برقرار رہی۔

وفاقی آئینی عدالت کے کیس ریکارڈ میں اس مقدمے کا اندراج بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ حاجی آدم کو خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے سے متعلق قانون کے تحت major penalty کے طور پر ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا۔

خواتین کے قانونی تحفظ کے تناظر میں مقدمے کی اہمیت

یہ مقدمہ اس پہلو سے نمایاں ہے کہ شکایت کنندہ ایک عارضی یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والی خاتون تھیں، جبکہ شکایت ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار کے خلاف تھی۔ اس کے باوجود معاملہ مختلف قانونی اور انتظامی فورمز پر زیرِ سماعت رہا اور شکایت کنندہ کو دستیاب قانونی راستوں سے رجوع کرنے کا موقع ملا۔

2021 میں وفاقی محتسب کے فیصلے کی رپورٹنگ کے دوران بھی یہ سامنے آیا تھا کہ خاتون نے PEMRA کے اندر شکایت کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا اور معاملے میں ہراسگی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کیس میں قانونی کارروائی کے مختلف مراحل اس امر کی مثال فراہم کرتے ہیں کہ کام کی جگہ ہراسگی سے متعلق شکایت محض ادارے کے اندرونی انتظامی معاملے تک محدود نہیں رہتی بلکہ قانون میں فراہم کردہ متعلقہ فورمز کے ذریعے اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

2010 کا قانون اور اداروں کی ذمہ داری

پاکستان میں کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف Protection against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اسی قانون کے تحت وفاقی محتسب اور متعلقہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے شکایات کا ازالہ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔

حاجی آدم کے مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں وفاقی محتسب نے PEMRA کو ادارے میں انسدادِ ہراسگی کے مؤثر انتظامات بہتر بنانے کی ہدایات بھی دی تھیں۔ اس وقت کی میڈیا رپورٹنگ کے مطابق PEMRA میں مستقل اینٹی ہراسگی کمیٹی کے قیام اور دفاتر میں ضابطۂ اخلاق اور رہنما اصول نمایاں کرنے کی ہدایات بھی سامنے آئی تھیں۔

اس تناظر میں وفاقی آئینی عدالت کا حالیہ فیصلہ صرف ایک فرد کی سروس اپیل تک محدود قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ اس اصول کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ کام کی جگہ ہراسگی کے مقدمات میں قانون کے تحت اختیار رکھنے والے فورمز کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے واضح قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔

قانونی عمل کے تسلسل کا نمایاں پہلو

حاجی آدم کیس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ معاملہ ایک ہی مرحلے پر ختم نہیں ہوا۔ شکایت کے بعد محکمانہ کارروائی، وفاقی محتسب، صدرِ پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر وفاقی آئینی عدالت تک معاملہ پہنچا۔

وفاقی آئینی عدالت کے دستیاب ریکارڈ میں F.C.P.L.A. 320/2026 کو Service/Dismissal from Service کے عنوان سے درج کیا گیا ہے، جبکہ عدالت کے کیس ریکارڈ میں واضح کیا گیا ہے کہ درخواست گزار پر ہراسگی سے متعلق قانون کے تحت ملازمت سے برطرفی اور جرمانے کی بڑی سزا عائد ہوئی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ (FCCP)

یوں اس مقدمے میں وفاقی آئینی عدالت کا بنیادی فیصلہ ہراسگی کے اصل واقعے کی ازسرنو سماعت سے زیادہ اس سوال پر مرکوز رہا کہ آیا ماتحت فورمز کے فیصلوں میں ایسی قانونی خامی موجود تھی جس کی بنیاد پر آئینی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی جاسکتی تھی۔

خواتین کے لیے قانونی تحفظ کا پیغام

قانونی ماہرین کے لیے یہ مقدمہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں کام کی جگہ ہراسگی کے معاملے کو مختلف قانونی فورمز پر جانچا گیا اور آخری مرحلے پر وفاقی آئینی عدالت نے بھی درخواست گزار کی اپیل کی اجازت مسترد کردی۔

اس فیصلے سے یہ قانونی اصول نمایاں ہوتا ہے کہ کسی سرکاری یا خودمختار ادارے میں اعلیٰ عہدہ رکھنے والا افسر بھی کام کی جگہ ہراسگی سے متعلق قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہے، جبکہ شکایت کنندہ کے لیے قانون میں دستیاب فورمز سے رجوع کرنے کا راستہ موجود ہے۔

تاہم، اس فیصلے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ عدالت کا فیصلہ بنیادی طور پر درخواست گزار کی سزا کے خلاف قانونی چیلنج اور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔ اسے خواتین کے حقوق کے تمام معاملات پر عمومی عدالتی اصول قرار دینے کے بجائے اسی مقدمے کے قانونی حقائق اور عدالتی نظائر کے تناظر میں دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ اس امر کو بھی واضح کرتا ہے کہ آئینی نظرثانی کے ذریعے عدالتیں متعلقہ فورمز کے ہر factual finding کو دوبارہ نہیں کھولتیں، بلکہ مداخلت کے لیے مخصوص قانونی خامی، اختیار سے تجاوز، شواہد کی بنیادی غلط فہمی یا اصولِ انصاف کی خلاف ورزی جیسی بنیاد درکار ہوتی ہے۔

یوں حاجی آدم کیس پاکستان میں کام کی جگہ ہراسگی کے خلاف قانونی نظام، ادارہ جاتی احتساب اور عدالتی نظرثانی کے دائرہ کار کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں درخواست گزار کی جانب سے سزا ختم کرانے کی آخری قانونی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔

نوٹ: دستیاب سرکاری عدالتی ریکارڈ میں مقدمہ F.C.P.L.A. 320/2026 کے طور پر درج ہے اور اس میں 20 لاکھ روپے جرمانے سمیت ملازمت سے برطرفی کی سزا اور ہائی کورٹ کی جانب سے اس سزا کو برقرار رکھنے کی تصدیق ہوتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button