
سید عاطف ندیم-ادارت
بین الاقوامی سرحد پر واقع بیدیاں سیکٹر میں 2 اکتوبر 2026 کو دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعے پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ احتجاج کے لیے بھارتی ناظم الامور کو آج وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے واقعے پر باضابطہ احتجاجی مراسلہ اور شدید تشویش سے آگاہ کیا گیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے اہلکاروں نے نہتے پاکستانی شہریوں کے خلاف بلااشتعال اور مہلک طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میں دو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

پاکستان نے بھارتی فریق کی جانب سے مقتولین کو مبینہ طور پر ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی ناظم الامور کی وزارتِ خارجہ طلبی
وزارتِ خارجہ میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے پاکستان نے بیدیاں سیکٹر میں پیش آنے والے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ سرحدی علاقے میں شہریوں کی ہلاکت ایک نہایت سنگین معاملہ ہے اور اس حوالے سے بھارتی حکام کو واقعے کے حقائق، ذمہ داری اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت واقعے کی مکمل تحقیقات کرائے اور تحقیقات کے نتائج حکومتِ پاکستان کے ساتھ باضابطہ طور پر شیئر کرے۔
’’نہتے شہریوں کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال ناقابل قبول‘‘
پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر نہتے شہریوں کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال غیر منصفانہ اور انتہائی غیر متناسب تھا۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی سرحدی صورتحال میں انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور طے شدہ طریقہ کار کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
پاکستان نے کہا کہ دو شہریوں کی ہلاکت محض ایک سرحدی واقعہ نہیں بلکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً حقِ زندگی کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مقتولین کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی کوشش مسترد
پاکستان نے بھارتی فریق کی جانب سے مقتولین کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کردیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی فرد کی شناخت یا واقعے کی نوعیت کے بارے میں حتمی رائے تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے۔
اسلام آباد نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داری کا تعین شفاف طریقے سے کیا جائے۔
حقِ زندگی کی خلاف ورزی پر تشویش
پاکستان نے زور دیا کہ حقِ زندگی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
وزارتِ خارجہ میں بھارتی نمائندے کو بتایا گیا کہ بیدیاں سیکٹر کا واقعہ انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
پاکستان نے کہا کہ سرحدی انتظامات اور سلامتی سے متعلق معاملات اپنی جگہ، تاہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
- واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں؛
- واقعے میں ملوث اہلکاروں اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے؛
- ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے؛
- تحقیقات کے نتائج حکومتِ پاکستان کو باضابطہ طور پر فراہم کیے جائیں؛
- مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تحقیقات محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی بھی کی جانی چاہیے۔
سرحدی معاہدوں اور طریقہ کار کی پاسداری پر زور
پاکستان نے بھارتی فریق پر زور دیا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنائے اور سرحدی معاملات سے متعلق موجودہ دوطرفہ معاہدوں، مفاہمتوں اور طے شدہ طریقہ کار کی مکمل پاسداری کرے۔
اسلام آباد کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے رابطے اور طے شدہ طریقہ کار موجود ہیں، جن پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ سرحدی صورتحال سے نمٹتے ہوئے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ کسی بھی واقعے کو مزید کشیدگی کا سبب بننے سے روکا جا سکے۔
آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ
پاکستان نے واضح کیا کہ سرحدی علاقوں میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وزارتِ خارجہ میں بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ سرحدی ماحول اور دونوں ممالک کے درمیان موجود رابطہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں اور سرحدی اہلکاروں کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور طے شدہ سرحدی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کا پابند بنایا جائے۔
پاکستان کا مؤقف: شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے
پاکستان نے ایک بار پھر اس اصول پر زور دیا کہ بین الاقوامی سرحدوں پر سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ انسانی جان کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا غلط فہمی کو شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کو رابطہ کاری کے موجودہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔



