
اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے
رپورٹس کے مطابق اسپین کے 50 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جانے تھے، تاہم بارسلونا میں ہونے والا ایک بڑا اجتماع شدید موسمی انتباہ کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔
اسپین میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد رہائشی بحران کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے مناسب رہائش کے حق اور کرایہ داروں کے بہتر تحفظ کا مطالبہ کیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کے مطابق میڈرڈ کے مرکزی چوک پلازا دے سیبیلیس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔
تصاویر میں مظاہرین کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا دیکھا گیا جبکہ مختلف سمتوں سے مزید لوگ چوک کی جانب آتے رہے۔ کئی افراد کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے۔
میڈرڈ ٹیننٹس یونین کی ترجمان ویلریا راکو نے کہا، ’’طاقت دوبارہ سڑکوں پر آ گئی ہے۔‘‘ ممکنہ قبل از وقت انتخابات کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔ ہم اپنے ملک کے اس مسئلے کو حل کیے بغیر مزید چار سال برداشت نہیں کریں گے۔ یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سب کچھ تبدیل نہیں ہو جاتا۔‘‘
ویلنسیا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان چند جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ آر ٹی وی ای کے مطابق پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
رپورٹس کے مطابق اسپین کے 50 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جانے تھے، تاہم بارسلونا میں ہونے والا ایک بڑا اجتماع شدید موسمی انتباہ کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔

ان مظاہروں سے ایک روز قبل وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت کو پارلیمان میں اس وقت دھچکا لگا، جب بڑھتے ہوئے کرایوں اور جبری بے دخلیوں سے نمٹنے کے لیے پیش کیے گئے دو حکومتی فرمان اپوزیشن کی مداخلت کے باعث مسترد کر دیے گئے۔قدامت پسند اور دائیں بازو کی عوامی جماعتوں نے ان تجاویز کی مخالفت کی۔
یہ اقدامات میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون کی جبری بے دخلی کے بعد عوامی غم و غصے کے نتیجے میں متعارف کرائے گئے تھے۔ اس واقعے کے خلاف بھی دسیوں ہزار افراد نے احتجاج کیا تھا۔ رہائش سے متعلق حکومتی منصوبوں کی ناکامی نے سانچیز کی اقلیتی حکومت کو ایک سنگین سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔



