بین الاقوامیتازہ ترین

اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

رپورٹس کے مطابق اسپین کے 50 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جانے تھے، تاہم بارسلونا میں ہونے والا ایک بڑا اجتماع شدید موسمی انتباہ کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

اسپین میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد رہائشی بحران کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے مناسب رہائش کے حق اور کرایہ داروں کے بہتر تحفظ کا مطالبہ کیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کے مطابق میڈرڈ کے مرکزی چوک پلازا دے سیبیلیس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔

 تصاویر میں مظاہرین کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا دیکھا گیا جبکہ مختلف سمتوں سے مزید لوگ چوک کی جانب آتے رہے۔ کئی افراد کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے۔

میڈرڈ ٹیننٹس یونین کی ترجمان ویلریا راکو نے کہا، ’’طاقت دوبارہ سڑکوں پر آ گئی ہے۔‘‘ ممکنہ قبل از وقت انتخابات کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔ ہم اپنے ملک کے اس مسئلے کو حل کیے بغیر مزید چار سال برداشت نہیں کریں گے۔ یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سب کچھ تبدیل نہیں ہو جاتا۔‘‘

ویلنسیا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان چند جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ آر ٹی وی ای کے مطابق پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔

رپورٹس کے مطابق اسپین کے 50 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جانے تھے، تاہم بارسلونا میں ہونے والا ایک بڑا اجتماع شدید موسمی انتباہ کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔

اسپین، میڈرڈ، 3 اکتوبر 2026 - مظاہرین میڈرڈ میں جبری بے دخلیوں اور رہائشی بحران کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے دخلیوں کو روکا جائے اور ملک میں بڑھتے ہوئے رہائشی بحران کے حل کے لیے فوری سیاسی اقدامات کیے جائیں۔یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا جب ایک روز قبل اسپین کی پارلیمان نے کرایہ داروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی دو تجاویز مسترد کر دی تھیں۔(تصویر: الیخاندرو مارٹینیز ویلیز / روئٹرز)
 تصاویر میں مظاہرین کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا دیکھا گیا، میڈرڈ، 3 اکتوبر 2026تصویر: Alejandro Martinez Velez/REUTERS

ان مظاہروں سے ایک روز قبل وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت کو پارلیمان میں اس وقت دھچکا لگا، جب بڑھتے ہوئے کرایوں اور جبری بے دخلیوں سے نمٹنے کے لیے پیش کیے گئے دو حکومتی فرمان اپوزیشن کی مداخلت کے باعث مسترد کر دیے گئے۔قدامت پسند اور دائیں بازو کی عوامی جماعتوں نے ان تجاویز کی مخالفت کی۔

یہ اقدامات میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون کی جبری بے دخلی کے بعد عوامی غم و غصے کے نتیجے میں متعارف کرائے گئے تھے۔ اس واقعے کے خلاف بھی دسیوں ہزار افراد نے احتجاج کیا تھا۔ رہائش سے متعلق حکومتی منصوبوں کی ناکامی نے سانچیز کی اقلیتی حکومت کو ایک سنگین سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button