کالمزحیدر جاوید سید

ایوانِ صدر میں ہوئی بیٹھک اور 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ……حیدر جاوید سید

خیبرپختونخوا کی صورتحال مسائل صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تفصیلی بریفنگ دیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی ضرورتوں کے ساتھ نتائج پر بھی غور کیا گیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کی قومی اسمبلی کے سپیکر کے دفتر میں ہوئی پہلی ملاقات کا اعلامیہ بھی آچکا ہوگا یہ اعلامیہ ہی بتائے سمجھائے گا ” بات آگے چلے گی مزید ملاقاتیں ہوں گی یا تم سے ملے ہم ہم سے ملے تم بات ختم سجن ” یہ سطور جمعہ کی نیم دوپہر میں لکھ رہا ہوں جمعرات کی شام ایوانِ صدر میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کی بیٹھک ہوئی جسمیں نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان کے علاوہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریں رحمٰن سینیٹر سلیم مانڈوی والہ شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے وزیر داخلہ اور وزیر قانون نے خیبرپختونخوا کی صورتحال مسائل صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تفصیلی بریفنگ دیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی ضرورتوں کے ساتھ نتائج پر بھی غور کیا گیا
تحریر نویس کی اطلاع کے مطابق خیبرپختونخوا کے مسلہ پر جو قدم وفاقی حکومت اٹھانا چاہتی ہے پیپلز پارٹی اس سے متفق نہیں ایوان صدر میں جاری رہنے والی اس بیٹھک کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر امور کشمیر امیر مقام وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ پیپلز پارٹی سے شیریں رحمٰن سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں مسلم لیگ ن نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے امیر مقام کو کمیٹی میں شامل کیا لیکن پیپلز پارٹی کے تینوں ارکان کا تعلق سندھ سے ہے مناسب ہوتا اگر پیپلز پارٹی بھی خیبرپختونخوا سے اپنے کسی رہنما کو کمیٹی میں رکھتی بہر حال خوش آئند بات یہ ہے کہ ایوانِ صدر میں ہوئی بیٹھک میں کسی ایسے اقدام پر اتفاق نہیں ہوا جس سے لولے لنگڑے نظام کیلئے مزید مسائل پیدا ہوتے اور نئے بحران و عذاب بھگتنا پڑتے
آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کے وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ مذاکراتی کمیٹیوں کی پہلی بیٹھک وزیراعظم ہاوس میں ہو لیکن تحریک انصاف کے اپوزیشن اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی اس پر آمادہ نہیں ہوئی بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم ہاوس کی بجائے کسی دوسرے مقام پر ملاقات و مذاکرات کیلئے آمادہ تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی اپنے حامی یوٹیوبروں اور سوشل میڈیا مجاہدین سے خوفزدہ ہے ان کا خیال ہے کہ اگر مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس وزیر اعظم ہاوس میں ہوا تو سوشل میڈیا مجاہدین اور یوٹیوبرز ان کا وہی حشر کریں گے جو چنددن پہلے ایک خط کے معاملے پر شوکت یوسفزئی کا ہوا ہے
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس بھی جمعرات کو ہی اسلام آباد میں منعقد ہوا جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے بعض امور پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہے تو یہ ہوائی بات ہرگز نہیں پیپلز پارٹی کو بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے بعض سوالات و اعتراضات کا سامنا ہے پی پی پی کے ذمہ داران یہ سمجھتے ہیں کہ کل کلاں اگر بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنرراج کا مطالبہ ہوا تو کیا ہوگا ایوانِ صدر میں ہوئی بیٹھک میں ہلکی پھلکی نوک جھونک کی خبر بھی ہے وفاقی وزیر امیرمقام کے بعض بیانات پر پیپلز پارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تو وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ ان تحفظات سے متفق دیکھائی دیئے
ہماری دانست میں حکمران اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو اپوزیشن اتحاد کی جانب سے قبول کرلیا جانا خوش آئند ہے سیاست میں حرفِ آخر ہوتا ہے نا ذاتی دشمنیاں حرف آخر سے چشم پوشی اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنیوں کا رنگ دینے کے ایک سے زیادہ بھیانک نتائج ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں ماضی میں جن لوگوں اور جماعتوں نے سیاسی اختلافات کو کفرواسلام کی جنگ حب الوطنی و غداری کا معیار بنایا یا میں نہ مانوں کی روش اپنائی انہوں نے وقت سے سبق سیکھا تحریک انصاف کو سیاسی تاریخ کے اتار چڑھاؤ اور نتائج سے آنکھیں بند نہیں کرنا چاہیں سیاسی راہنما اور جماعتیں دروازے بند کرکے سیاست کرسکتے ہیں نہ سیاسی عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ہی متحدہ پاکستان کی حزب اختلاف نے پہلے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان سے مذاکرات کیئے تھے جمہوریت کیلئے ہی پیپلز پارٹی نے ایم آر ڈی میں پاکستان قومی اتحاد کی ان جماعتوں کے ساتھ بیٹھی جس کے بعض راہنما ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر لٹکانے کا اعلان کرتے رہے اور تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاالحق جالندھری کی فوجی حکومت کی کابینہ میں بھی شامل ہوئیں یہی نہیں بلکہ بھٹو کی پھانسی تک فوجی حکومت کا حصہ رہیں ،
سیاسی تاریخ کی یہ مثالیں پیش کرنے کا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے نفرتوں عدم برداشت کو ترک کرنا پڑتا ہے اور شخصی انا کے کوہ ہمالیہ سے نیچے اترنا بھی پڑتا ہے دوسری بات جو حکمران اتحاد اور اپوزیشن اتحاد کو مدنظر رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اس ملک میں مسائل ہی مسائل ہیں غربت اور آبادی میں خطرناک اضافہ ہورہا ہے سیاسی و معاشی عدم استحکام کے نتائج سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں مہنگائی چھٹے آسمان سے آگے پرواز کررہی ہے بیروز گاری بڑھ رہی ہے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگرد بے لگام ہیں ان حالات میں اصلاح احوال کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے اور یہ کرنا بہت ضروری ہے
ادھر تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے وزیراطلات شفیع اللہ جان نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دیدی ہے لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے شروع ہوگا کرک اور کوہاٹ میں مارچ کے شرکا پڑاؤ ڈالیں گے لانگ مارچ پشاور کب پہنچے گا اور اسلام آباد کب تک اس بارے راوی اور تحریک انصاف دونوں خاموش ہیں البتہ یہ سوال اہم ہے کہ لانگ مارچ ڈیرہ اسماعیل خان کی بجائے لکی مروت سے شروع کرنے کی وجہ کیا ہے ؟
تحریک انصاف کے داخلی اختلافات یا ڈیرہ اسماعیل خان ضلع کی حدود میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات مانع ہوئے ،
اس امر پر دوآرا ہرگز نہیں کے پرامن سیاسی جدوجہد کسی بھی جماعت کی طرح تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کا حق ہے البتہ یہ ضرور ممکن بنایا جانا چاہئے کہ پچھلے لانگ مارچوں کی طرح مسلح افراد چار اکتوبر کے لانگ مارچ کا حصہ نہ بن سکیں نیز یہ کہ ماضی کی طرح صوبائی حکومت کے وسائل لانگ مارچ پر صرف نہ ہوں ، بارِ دیگر عرض ہے کہ یہ امید کی جانی چاہئے کہ حکومت اور اپوزیشن اتحاد کی مذاکراتی کمیٹیاں چار اکتوبر سے قبل کسی ایسے حتمی فارمولے پر متفق ہوجائیں جس سے سیاسی عدم استحکام سے نجات کی صورت بن سکے نیز یہ کہ لانگ مارچ کے شرکا ماضی کی طرح کا رویہ نہ اپنائیں تاکہ امن و امان کے مسائل پیدا نہ ہونے پائیں ، ہم اور آپ امید ہی کرسکتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے ، اب چلتے چلتے یہ عرض کردوں کہ جماعت اسلامی کے پوسٹر بوائے امیر کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ملتوی لانگ مارچ پھر شروع ہوسکتا ہے اور اگر لانگ مارچ شروع ہوگیا شرکا اسلام آباد پہنچ گئے تو پھر حکومت کے خاتمے کی بات بھی ہوسکتی ہے ، اللہ اللہ یہ بھی دن دیکھنے اور باتیں سننے کو ہم جی رہے ہیں اس پر ایک مثال یاد آئی تھی لکھ اس لئے نہیں رہا کہ صالحین برا مناجائیں گے

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button