
پنجاب یونیورسٹی میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج، فرانزک آڈٹ کا مطالبہ
وائس چانسلر اور انتظامیہ پر اختیارات سے تجاوز، مالی معاملات میں عدم شفافیت اور اساتذہ و ملازمین کے حقوق نظرانداز کرنے کے الزامات
قیصر مغل- ادارت
لاہور: پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، صدر چوہدری بشارت محمود، کنوینئر پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان اور دیگر عہدیداران نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کی موجودہ انتظامی اور مالی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز، مشاورتی اداروں کو مؤثر طور پر فعال نہ رکھنے اور اساتذہ و ملازمین کے جائز حقوق کی عدم ادائیگی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے مالی معاملات کا کسی معتبر اور آزاد بیرونی ادارے سے جامع فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ مالی وسائل کے استعمال، مختلف اکاؤنٹس سے رقوم کی منتقلی، سرمایہ کاری، خسارے اور بڑے اخراجات سے متعلق تمام معاملات کی شفاف طور پر جانچ پڑتال ہوسکے۔
گزشتہ دو برس میں یونیورسٹی کی صورتحال پر شدید تحفظات
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی شاہ نے ستمبر 2024 میں بطور وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی چارج سنبھالا، تاہم ان کے بقول گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران جامعہ کو ایسے انتظامی، مالی اور علمی مسائل کا سامنا ہے جن کے باعث یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی اور انتظامی شفافیت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس مالی معاملات، انتظامی فیصلوں، اساتذہ و ملازمین کے مسائل اور یونیورسٹی کے مختلف ادارہ جاتی فورمز کی فعالیت سے متعلق متعدد دستاویزات اور شواہد موجود ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
4.88 ارب روپے کی رقم کے استعمال پر سوالات
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق گزشتہ تقریباً 14 ماہ کے دوران یونیورسٹی کے بجٹ سے ماورا بچتوں اور سیونگز میں سے تقریباً 4.88 ارب روپے خرچ کیے گئے، تاہم اس بڑے مالی اقدام میں یونیورسٹی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کو مبینہ طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم کے استعمال کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا، متعلقہ قانونی و انتظامی منظوری کس فورم سے حاصل کی گئی اور ان اخراجات کی تفصیلات کیا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 78.6 کروڑ روپے مختلف شعبہ جاتی اکاؤنٹس سے یونیورسٹی کے مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، تاہم ان منتقلیوں کی مکمل تفصیل اور ریکارڈ واضح نہیں کیا گیا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق اگر مذکورہ رقوم کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تقریباً 5.66 ارب روپے کے استعمال سے متعلق مکمل مالی وضاحت سامنے آنا ضروری ہے۔
خسارے کے اعداد و شمار میں فرق پر بھی سوالات
پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے یونیورسٹی کے بجٹ خسارے کے مختلف اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دستاویز میں تقریباً 1.6 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا، جبکہ یکم جولائی 2026 کو فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے سامنے خسارے کی رقم تقریباً 2.57 ارب روپے بتائی گئی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق دونوں اعداد و شمار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، جس کی باقاعدہ وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ بعد کی دستاویزات میں تقریباً 2.3 ارب روپے کی دوبارہ سرمایہ کاری کا ذکر بھی موجود ہے، تاہم اس کے بعد باقی رہ جانے والی تقریباً 1.7 ارب روپے کی رقم کی مکمل تفصیل واضح نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے جواب میں تقریباً 22 کروڑ روپے کے انڈومنٹ فنڈز کا ذکر بھی مالی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، اس لیے ان تمام رقوم کا آزادانہ فرانزک جائزہ ضروری ہے۔
سیلف سپورٹ پروگرامز میں خسارہ بھی تشویش کا باعث
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلف سپورٹ پروگرامز تقریباً 35 کروڑ روپے کے خسارے میں چلے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ایک طرف یونیورسٹی کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری جانب فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا تقریباً ایک سال کے دوران صرف ایک اجلاس منعقد ہونا مؤثر مالی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے تمام مالی معاملات، بجٹ، سرمایہ کاری، سیونگز، شعبہ جاتی اکاؤنٹس اور مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقوم کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے اجلاسوں میں تاخیر کا الزام
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتظامیہ کے طرز حکمرانی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران یونیورسٹی سینیٹ کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا۔
ان کے مطابق سنڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور دیگر اہم قانونی و علمی فورمز کے اجلاسوں میں بھی طویل اور غیر معمولی وقفے دیکھنے میں آئے ہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈینز کمیٹی اور سربراہان شعبہ جات (HODs) کا فورم بھی مؤثر مشاورتی اداروں کے طور پر فعال نہیں رہا، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اہم انتظامی اور علمی معاملات میں مشاورت کا عمل متاثر ہوا۔
سلیکشن بورڈز میں تاخیر، ترقیوں پر اثرات کا دعویٰ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق سلیکشن بورڈز کے انعقاد میں طویل تاخیر کے باعث خصوصاً جونیئر سطح کے اساتذہ اور ملازمین کی ترقیوں اور تقرریوں پر منفی اثر پڑا ہے۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ بعض سلیکشن بورڈز کے ذریعے مبینہ طور پر منظور نظر افراد کو غیر شفاف انداز میں تعینات کیا گیا، جبکہ اہم انتظامی و علمی عہدوں کے طویل عرصے تک خالی رہنے سے فیصلہ سازی متاثر ہوئی اور اختیارات کے ارتکاز کا تاثر پیدا ہوا۔
ڈی جی طلبہ امور، املاک و سکیورٹی کے عہدے پر بھی اعتراض
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یونیورسٹی میں ڈائریکٹر جنرل طلبہ امور، املاک و سکیورٹی (DG SES) کے عہدے پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مبینہ طور پر غیر قانونی عہدہ قرار دیا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس عہدے کو متعدد اہم انتظامی اختیارات دیے گئے ہیں، جس کے باعث یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے میں مشکلات اور اختیارات کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس عہدے کی قانونی حیثیت، اس کے قیام کے طریقہ کار اور اسے تفویض کیے گئے اختیارات کا جائزہ لیا جائے۔
اساتذہ اور ملازمین کے مالی حقوق کی عدم ادائیگی کا دعویٰ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک جانب یونیورسٹی کے اربوں روپے کی مالی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اساتذہ اور ملازمین کے متعدد جائز مالی و انتظامی مطالبات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
ان مطالبات میں سابقہ مالی واجبات، لیو انکیشمنٹ، پرفارمنس ایوارڈز، ہاؤس ریکوزیشن، اہلیت اور سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں، ٹائم اسکیل پروموشنز اور نئے ٹی اے/ڈی اے رولز شامل ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ مالی وسائل کے باوجود یونیورسٹی میں بنیادی ترقیاتی اور رہائشی منصوبوں، سڑکوں کی تعمیر اور بجلی کے نظام میں مطلوبہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔
وائس چانسلر ہاؤس اور دیگر اخراجات پر اعتراضات
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وائس چانسلر ہاؤس، وائس چانسلر کے زیر استعمال گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر سہولیات پر ہونے والے اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے۔
رہنماؤں کا الزام تھا کہ ان مدات میں اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور وائس چانسلر آفس اور وائس چانسلر ہاؤس کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام اخراجات کا آزادانہ اور شفاف آڈٹ کرایا جائے اور دیکھا جائے کہ ہر خرچ کے لیے متعلقہ قانونی و مالی منظوری حاصل کی گئی یا نہیں۔
اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا الزام
پریس کانفرنس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے انتظامیہ پر اختلافِ رائے رکھنے والے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں کا الزام بھی عائد کیا۔
ان کے مطابق انکوائریوں اور دیگر کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یونیورسٹی میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں شکایت کنندگان ہی کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے بقول بعض انتظامی افسران کے خلاف شکایات پر مؤثر احتساب کے بجائے مبینہ طور پر جانب دار کمیٹیوں کے ذریعے انہیں بری قرار دیا گیا۔
آزادیٔ اظہار اور ادارہ جاتی مکالمے پر تحفظات
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں آزادیٔ اظہار، آزادیٔ رائے، آزادیٔ اجتماع اور بامعنی ادارہ جاتی مکالمے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
رہنماؤں کے مطابق سیاسی بنیادوں پر اساتذہ اور ملازمین کے تبادلوں اور احتجاج کرنے والے نمائندگان کو دباؤ میں لانے کی کوششوں کے باعث یونیورسٹی کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد عہدیداران کے خلاف 8 ستمبر 2026 کو تھانہ مسلم ٹاؤن میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔
کمیٹی کے مطابق ایف آئی آر میں پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، چوہدری بشارت محمود، پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، طیب اعجاز خان، پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی، ڈاکٹر ماجد علی، محمد تنویر اعوان اور حماد بٹ کے نام شامل ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اساتذہ اور ملازمین کے مسائل اجاگر کرنے اور انتظامیہ سے جواب طلبی کرنے کی پاداش میں کی گئی۔
ذاتی فائلوں اور مبینہ ہراساں کیے جانے پر تشویش
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے عہدیداران کی پرسنل فائلیں کھلوائی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر ان ریکارڈز میں ردوبدل یا غیر ضروری مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رہنماؤں کے مطابق بعض مبینہ سہولت کاروں کے ذریعے کمیٹی عہدیداران کے خلاف غیر مصدقہ اور بے بنیاد درخواستیں دائر کروا کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض رہنماؤں کو ان کی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کے لیے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
چوہدری بشارت محمود کے دفتر اور راستے میں مبینہ حملے کا دعویٰ
پریس کانفرنس میں پنجاب یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو اینڈ ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری بشارت محمود کے دفتر پر مبینہ حملے اور یونیورسٹی سے واپسی کے دوران نہر پل پر ان پر حملے کی کوشش کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی میں کمی پر تشویش
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے پنجاب یونیورسٹی کی علمی، تحقیقی اور ادبی کارکردگی میں مبینہ کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق رواں سال یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی 542 سے کم ہو کر 588 تک پہنچ گئی ہے، جسے انہوں نے ادارے کی مجموعی علمی کارکردگی کے حوالے سے تشویش کا باعث قرار دیا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اہم ڈینز، پرنسپلز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر انتظامی و علمی عہدوں کے طویل عرصے تک خالی رہنے سے علمی نظم و نسق اور فیصلہ سازی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے تحقیقی ماحول، بیرونی تحقیقی فنڈنگ اور اساتذہ کی زیر قیادت علمی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی متعدد شکایات کا ذکر کیا۔
ون اکاؤنٹ پالیسی پر بھی اعتراض
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یونیورسٹی کی One-Account Policy پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
رہنماؤں کے مطابق مرکزی اکاؤنٹ پالیسی کے نتیجے میں شعبہ جات اور سربراہان شعبہ جات کی مالی خودمختاری اور ادارہ جاتی ملکیت کم ہوئی ہے، جس کے باعث متعدد علمی اور تدریسی پروگراموں کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کو علمی و انتظامی ضروریات کے مطابق مالی فیصلوں میں مناسب خودمختاری دی جانی چاہیے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات
پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالی اور انتظامی معاملات کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر کسی معتبر بیرونی ماہر ادارے سے جامع اور غیر جانب دار فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ صدرِ مملکت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی فوری اجلاس طلب کرے اور پنجاب یونیورسٹی کے معاملات کا جامع و شفاف جائزہ لے۔
رہنماؤں نے کہا کہ فرانزک آڈٹ کے دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو کام سے روکنے یا رخصت پر بھیجنے پر بھی غور کیا جائے تاکہ کمیٹی کے بقول انتظامیہ مبینہ طور پر آڈٹ کے عمل پر اثر انداز نہ ہوسکے۔
کمیٹی نے گورنر و چانسلر پنجاب یونیورسٹی، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے بھی یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مالی ریکارڈ محفوظ کرنے کا مطالبہ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے تمام متعلقہ مالی و انتظامی ریکارڈ اور فائلیں محفوظ کی جائیں اور اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر یا عہدیدار کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
کمیٹی نے خاص طور پر درج ذیل مالی معاملات کا فرانزک جائزہ لینے کا مطالبہ کیا:
- بچت اکاؤنٹس سے تقریباً 4.88 ارب روپے کے اخراجات؛
- مختلف شعبہ جات سے تقریباً 78.6 کروڑ روپے کی منتقلی؛
- 2.57 ارب اور 1.6 ارب روپے کے مختلف خساروں میں فرق؛
- تقریباً 2.3 ارب روپے کی دوبارہ سرمایہ کاری؛
- باقی تقریباً 1.7 ارب روپے کے استعمال اور مالی مطابقت کی مکمل تفصیل؛
- مرکزی اکاؤنٹ پالیسی کے تحت ہونے والی مالی منتقلیوں کی قانونی حیثیت اور منظوری؛
- وائس چانسلر ہاؤس، گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر بڑے اخراجات۔
سینیٹ، سنڈیکیٹ اور دیگر قانونی فورمز کے اجلاس باقاعدگی سے بلانے کا مطالبہ
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی سینیٹ، سنڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور دیگر قانونی و علمی فورمز کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں تاکہ یونیورسٹی کے اہم فیصلے مشاورت، شفافیت اور متعلقہ قواعد کے مطابق کیے جا سکیں۔
ملازمین کے اعزازیہ، اوور ٹائم اور ترقیوں کی ادائیگی کا مطالبہ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ملازمین کے عیدین کے اعزازیہ اور اوور ٹائم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ Leave Encashment، House Requisition میں 84 فیصد اضافے، 15 فیصد Disparity Reduction Allowance کی ادائیگی، سینئر KPOs کی ترقی کے احکامات اور منظور شدہ Technical Structure کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کمیٹی نے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے اور ایسے تعلیم یافتہ ملازمین جو طویل عرصے سے پنجاب یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس وقت ڈی کلاس میں کام کر رہے ہیں، ان کی تعلیمی قابلیت اور سروس کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جونیئر کلرک کی آسامیوں پر تعینات یا ترقی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
انتظامی دباؤ اور مبینہ انتقامی کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کے خلاف انتظامی دباؤ اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔
رہنماؤں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے یونیورسٹی میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں اساتذہ، ملازمین، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ فریقین آزادانہ طور پر اپنے مسائل اور تجاویز پیش کرسکیں۔
کمیٹی نے یونیورسٹی میں شفاف، مشاورتی، شمولیتی اور قانون و ضوابط کے مطابق طرز حکمرانی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
مسائل میں اضافے کا باعث بننے والے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق ایسے انتظامی افسران جو اساتذہ اور ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، انہیں ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے اور انتظامی ذمہ داریوں کے لیے میرٹ، اہلیت اور شفاف طریقہ کار کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان
پریس کانفرنس کے اختتام پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ انتظامیہ کو بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کے بجائے اساتذہ اور ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی دباؤ، دھمکی یا مبینہ انتقامی کارروائی کے باعث وہ اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے اور یونیورسٹی کے مالی، انتظامی، علمی اور ملازمین سے متعلق معاملات میں شفافیت، قانون کی پاسداری اور ادارہ جاتی مشاورت کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام متنازع معاملات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، متعلقہ ریکارڈ محفوظ کیا جائے، مالی معاملات کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔



