
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان اور جرمنی نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور نومبر 2026 میں کراچی میں منعقد ہونے والی FoodAg 2026 نمائش میں بھرپور شرکت کی دعوت دی ہے۔
یہ بات وفاقی وزیر تجارت کی پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اِنا لیپل سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، زرعی شعبے، فوڈ پروسیسنگ، جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں تجارت اور صنعت کے امور پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، سیکرٹری تجارت جواد پال اور وزارت تجارت کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
پاکستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملاقات کے دوران پاکستان اور جرمنی کے درمیان طویل عرصے سے جاری اقتصادی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے جرمنی کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جرمن کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
جام کمال خان نے یورپی یونین کی GSP Plus اسکیم کے حوالے سے جرمنی کے تعمیری کردار کو بھی سراہا اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے تجارتی اور اقتصادی اصلاحات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جی ایس پی پلس سے متعلق پاکستان کی پیش رفت کا خیرمقدم
جرمن سفیر اِنا لیپل نے GSP Plus سے متعلق شعبوں میں پاکستان کی قانون سازی اور حالیہ مثبت اقدامات کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے میدان میں پاکستان کی پیش رفت اصلاحات اور مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کے لیے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، تاہم قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس کے مؤثر نفاذ، قابلِ پیمائش نتائج اور عوام کے لیے عملی بہتری کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
جرمن سفیر نے GSP Plus کی اگلی درخواست کے حوالے سے پاکستان کے منظم طریقہ کار کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
شفاف رپورٹنگ اور بروقت اقدامات کی اہمیت
اِنا لیپل نے کہا کہ GSP Plus سے متعلق عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مسلسل رابطے، شفاف رپورٹنگ اور بروقت فالو اپ انتہائی اہم ہیں۔
ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ نہ صرف عمل کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا۔
جرمن سفیر نے اس امر کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ پاکستان اصلاحات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق اقدامات کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنائے تاکہ اقتصادی شراکت داری کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جاسکے۔
زراعت اور فوڈ پروسیسنگ میں وسیع مواقع
ملاقات کے دوران جرمن سفیر نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط روابط سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کے لیے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھی جرمن سرمایہ کاروں کو زرعی اور صنعتی شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی گئی۔
پاکستانی باسمتی چاول کے GI معاملے پر بھی گفتگو
ملاقات کے دوران تجارت اور صنعت کے امور پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے جرمن سفیر کے سامنے پاکستانی باسمتی چاول کے جغرافیائی اشارے (Geographical Indication-GI) کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے یورپی کمیشن کے سامنے بھارت کی GI درخواست اور باسمتی چاول کے تحفظ کے لیے پاکستان کی اپنی درخواست سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے جرمن سفیر کو آگاہ کیا۔
رانا احسان افضل نے پاکستانی مؤقف کی قانونی، تاریخی اور تجارتی بنیادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی باسمتی چاول کے کاشتکاروں، پروڈیوسروں اور برآمد کنندگان کے جائز مفادات کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ باسمتی چاول کی عالمی منڈی میں شناخت اور برآمدی حیثیت پاکستان کے زرعی شعبے اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے معاشی مفادات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
GI تحفظ سے برآمدات اور دیہی معیشت کو فائدہ ہوسکتا ہے
جرمن سفیر اِنا لیپل نے بھی مناسب قانونی اور ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے کسانوں، پروڈیوسروں اور برآمد کنندگان کے مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اشارے کا مؤثر تحفظ بین الاقوامی منڈیوں میں کسی بھی مصنوعات کی شناخت اور قدر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
جرمن سفیر کے مطابق GI تحفظ سے نہ صرف مصنوعات کی عالمی شناخت بہتر ہوسکتی ہے بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے ساتھ زرعی برآمدات کی قدر میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
جرمن کمپنیوں کو FoodAg 2026 میں شرکت کی دعوت
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جرمن سفیر اور جرمن کمپنیوں کو نومبر 2026 میں کراچی میں منعقد ہونے والی FoodAg 2026 نمائش میں شرکت کی خصوصی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ FoodAg جرمن کاروباری اداروں کے لیے پاکستان کے زرعی اور فوڈ سیکٹر میں موجود سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کا جائزہ لینے کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہے۔
نمائش میں زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، مویشیوں کی افزائش، جانوروں کی غذائیت، ٹیسٹنگ سہولیات اور ویلیو ایڈیشن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا جائے گا۔
جرمن ٹیکنالوجی سے پاکستانی زرعی شعبے کو فائدہ
جام کمال خان نے کہا کہ جرمن کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے پاکستان کو زرعی پیداوار بہتر بنانے، معیار اور برآمدی تقاضوں کو مضبوط کرنے اور زیادہ سے زیادہ قابلِ برآمد زرعی مصنوعات تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، مشینری، فوڈ پروسیسنگ اور معیار کی جانچ کے جدید نظام پاکستان کے زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور عالمی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق FoodAg جرمن کاروباری اداروں کو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرے گی، جس سے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور طویل مدتی کاروباری شراکت داری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
جرمن سفیر کا FoodAg میں شرکت کا خیرمقدم
جرمن سفیر اِنا لیپل نے FoodAg میں جرمن کمپنیوں کی شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نمائشیں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، کوالٹی ایشورنس، پیشہ ورانہ تربیت، تحقیق و ترقی اور پائیدار پیداواری طریقوں میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے نجی شعبوں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنا کر ٹیکنالوجی، مہارت اور سرمایہ کاری کے تبادلے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات
ملاقات کے دوران جرمنی کی جانب سے پاکستانی تاجروں کے ایک وفد کی جرمنی میں جانوروں کی تجارت کے حوالے سے منعقد ہونے والے بڑے میلے میں شرکت کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
جرمن سفیر نے کہا کہ اس نوعیت کے تجارتی اور کاروباری تبادلے دونوں ممالک کے تاجروں اور ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے روابط کے ذریعے علم کی منتقلی، تجارتی تعلقات کے فروغ اور لائیو اسٹاک سمیت متعلقہ شعبوں میں نئے کاروباری مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
جرمن بزنس کی ایشیا پیسیفک کانفرنس کی دعوت
جرمن سفیر اِنا لیپل نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو جرمن بزنس کی 19ویں ایشیا پیسیفک کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
کانفرنس 29 سے 31 اکتوبر 2026 کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منعقد ہوگی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی شراکت داری اور لچکدار سپلائی چین سمیت اہم عالمی اقتصادی امور پر حکومتوں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔
کانفرنس کو ایشیا اور یورپ کے درمیان اقتصادی روابط اور کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے نجی شعبے کا کردار اہم
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
کاروباری وفود کے تبادلے، تجارتی نمائشوں میں شرکت، سرمایہ کاری کانفرنسوں، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
پاکستانی حکام نے جرمن سرمایہ کاروں کے لیے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، قابلِ تجدید توانائی، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔
اقتصادی شراکت داری کو نئی سمت دینے کی کوشش
پاکستان اور جرمنی کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اپنے دیرینہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے عملی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایک جانب پاکستان جرمن کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی لانے کی دعوت دے رہا ہے تو دوسری جانب جرمنی پاکستان کی اصلاحات، GSP Plus سے متعلق اقدامات اور کاروباری روابط کو مزید مؤثر بنانے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
FoodAg 2026، باسمتی چاول کے GI معاملے، لائیو اسٹاک اور زرعی ٹیکنالوجی سمیت مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات میں زراعت، فوڈ ویلیو چین، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری آئندہ تعاون کے اہم شعبے بن سکتے ہیں۔
دونوں جانب سے مسلسل رابطوں، کاروباری وفود کے تبادلے اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔



