صحتتازہ ترین

ذہنی صحت کے بغیر جسمانی صحت کا تصور نامکمل ہے، متاثرہ افراد کی آواز کو پالیسی سازی اور علاج کے نظام میں شامل کرنا ضروری ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

ذہنی صحت کے مسائل پر خاموشی توڑنا اور امتیازی رویوں کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہے، پاکستان ذہنی صحت کی قومی پالیسی 2025-2035 پر کام کر رہا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی، امتیازی رویوں اور علاج کے حصول میں ہچکچاہٹ کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو جسمانی بیماریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا اور متاثرہ افراد کو بلاخوف علاج کی سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کے مطابق ذہنی صحت کے بغیر جسمانی صحت کا تصور نامکمل ہے، جبکہ ایک صحت مند، فعال اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے ذہنی امراض کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور بحالی کو قومی صحت کے نظام کا لازمی حصہ بنانا ضروری ہے۔

حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل پر خاموشی اختیار کرنے، متاثرہ افراد کو تنقید کا نشانہ بنانے اور علاج کے حصول میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں ہر فرد اپنی ذہنی کیفیت اور نفسیاتی مسائل کے بارے میں اعتماد کے ساتھ بات کر سکے۔ اس مقصد کے لیے حکومتی اداروں، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں، خاندانوں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ذہنی صحت کے حوالے سے جاری پیغام میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ متاثرہ افراد کے تجربات، ضروریات اور نقطہ نظر کو سنے بغیر مؤثر پالیسی سازی اور معیاری علاج کے نظام کی تشکیل ممکن نہیں۔ ذہنی امراض سے متعلق حکمت عملی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب اس میں مریضوں، ان کے خاندانوں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی آرا کو حقیقی معنوں میں شامل کیا جائے۔

’’حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ کا پیغام

ذہنی صحت کے موضوع پر ’’حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ کے عنوان سے سامنے آنے والے پیغام میں متاثرہ افراد کی آواز کو اہمیت دینے اور ان کے تجربات کو متعلقہ پالیسیوں، طبی خدمات اور فیصلوں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس پیغام کا بنیادی مقصد ذہنی امراض کے شکار افراد کو محض علاج حاصل کرنے والوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں ایسے افراد تسلیم کرنا ہے جن کے تجربات اور ضروریات صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد اکثر اپنی کیفیت دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں منفی رائے قائم کی جائے گی، انہیں کمزور سمجھا جائے گا یا ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ یہی خدشات بعض اوقات بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر کا سبب بن جاتے ہیں۔

حکومت کے مطابق اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کو اپنی مشکلات بیان کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کی بات کو توجہ، احترام اور ہمدردی کے ساتھ سنا جائے۔ ان کے تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات کو علاج کے طریقوں، معاونتی خدمات اور قومی پالیسیوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

اس ضمن میں ماہرین کی رائے اور متاثرہ افراد کے عملی تجربات کو یکجا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ذہنی صحت کی خدمات کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ کسی فرد کی مجموعی صحت کا جائزہ لیتے وقت صرف جسمانی بیماریوں اور طبی علامات کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی ذہنی کیفیت، نفسیاتی ضروریات اور معاشرتی حالات کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

ذہنی صحت کے مسائل کسی بھی عمر اور معاشرتی طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ، اضطراب، افسردگی اور دیگر نفسیاتی مشکلات انسان کی روزمرہ زندگی، تعلیم، ملازمت، خاندانی تعلقات اور سماجی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

اگر ایسے مسائل کی بروقت نشاندہی نہ ہو اور متاثرہ افراد کو مناسب معاونت نہ ملے تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ذہنی صحت کو مجموعی صحت کے نظام میں مرکزی اہمیت دینا اور ضرورت کے مطابق پیشہ ورانہ مدد کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو کمزوری، شرمندگی یا معاشرتی بدنامی کا سبب سمجھنے کے بجائے انہیں صحت کے ایسے معاملات کے طور پر دیکھا جائے جن کے لیے مناسب تشخیص، علاج اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

قومی ذہنی صحت پالیسی 2025-2035 پر کام جاری

حکومتِ پاکستان وزارتِ قومی صحت کے ذریعے پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی 2025-2035 پر کام کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ذہنی صحت سے متعلق قومی لائحۂ عمل کو واضح کرنا اور خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی، منصفانہ اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق پالیسی کی مؤثر اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کو ترجیح حاصل ہے، تاکہ ذہنی صحت کے شعبے میں درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا سکیں۔

قومی سطح پر واضح حکمت عملی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی مختلف علاقوں اور معاشرتی طبقات میں یکساں نہیں ہوتی۔ بعض افراد کو ماہرین کی کمی، مالی مشکلات، معلومات کی قلت یا معاشرتی رویوں کے باعث علاج کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ایک قابلِ رسائی اور منصفانہ نظام کے تحت کوشش کی جانی چاہیے کہ ذہنی صحت کی بنیادی خدمات صرف بڑے شہروں یا مخصوص مراکز تک محدود نہ رہیں، بلکہ ضرورت مند افراد کو مقامی سطح پر بھی رہنمائی، تشخیص اور علاج کی سہولتیں میسر آئیں۔

اسی طرح انسانی حقوق پر مبنی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کی عزت، رازداری، خودمختاری اور باوقار زندگی گزارنے کے حق کا احترام کیا جائے۔

قومی پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری، تربیت یافتہ عملے کی دستیابی اور خدمات کے معیار کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔

بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولتوں کو مضبوط بنانے کا عزم

حکومت نے ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت تشخیص اور ابتدائی مداخلت کے اقدامات مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ معیاری نگہداشت تک رسائی بہتر بنانے اور مؤثر علاج کے ذرائع کو وسعت دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ذہنی امراض کی ابتدائی علامات کو پہچاننا اور مناسب وقت پر پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا علاج کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صحت کے شعبے سے وابستہ عملے کی تربیت، عوامی آگاہی اور مریضوں کی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔

حکومت کے مطابق صوبائی حکومتوں اور مقامی سطح پر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت مراکز، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پلیٹ فارمز سے مربوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کے لیے لوگوں کو دور دراز یا مہنگے طبی مراکز پر مکمل انحصار نہ کرنا پڑے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق ابتدائی رہنمائی اور مناسب طبی معاونت حاصل کر سکیں۔

بنیادی صحت مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کی دستیابی سے عام آبادی کے لیے مدد حاصل کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی اور ابتدائی معاونت کی فراہمی نوجوانوں اور دیگر ضرورت مند افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ذہنی امراض سے متعلق سماجی بدنامی اور امتیازی رویوں کا خاتمہ ضروری

ذہنی صحت کے شعبے میں ایک بڑا چیلنج معاشرتی رویوں اور منفی تصورات کا ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معاشرتی تنقید، تمسخر یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بعض خاندان بھی ذہنی امراض کو تسلیم کرنے یا ان کے علاج کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس طرزِ فکر کے باعث متاثرہ افراد اپنی مشکلات چھپانے پر مجبور ہو سکتے ہیں اور ان کے لیے مناسب وقت پر علاج حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اس صورت حال میں تبدیلی لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کو جسمانی بیماریوں کی طرح انفرادی، خاندانی اور معاشرتی سطح پر قبولیت حاصل ہونی چاہیے۔

ایسا ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں ذہنی صحت کے مسائل بیان کرنے والے افراد کو شرمندہ نہ کیا جائے، ان کی بات کو نظرانداز نہ کیا جائے اور انہیں علاج حاصل کرنے سے نہ روکا جائے۔

معاشرتی قبولیت سے متاثرہ افراد کو غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی صحت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ خاندانوں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور کمیونٹی سطح پر مثبت رویوں کا فروغ اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

نوجوان نسل کی ذہنی نشوونما اور صلاحیتوں کا فروغ

حکومت نے ذہنی صحت کے معاملے کو صرف ذہنی امراض کے علاج تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوان نسل کی ذہنی نشوونما، شخصیت سازی اور صلاحیتوں کے بھرپور اظہار سے بھی جوڑا ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کا اہم سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما ان کی تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی، خاندانی تعلقات اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔

تعلیمی دباؤ، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال، معاشی مشکلات، سماجی توقعات اور دیگر مسائل نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان مسائل کی بروقت شناخت اور مناسب رہنمائی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر انداز میں بروئے کار لانے میں مدد دے سکتی ہے۔

حکومت کے مطابق نوجوانوں کی شخصیت سازی، صلاحیتوں کے نکھار اور ذہنی ارتقا میں درپیش مشکلات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے خاندانوں، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ ماہرین کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی، مناسب مشاورت اور ضرورت کے مطابق ماہرین تک رسائی نوجوانوں کی معاونت کے مؤثر ذرائع ثابت ہو سکتے ہیں۔

نوجوانوں کی ذہنی صحت پر توجہ دینے سے نہ صرف ان کی انفرادی زندگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی، پیداواری سرگرمیوں اور معاشرتی خوشحالی کے لیے استعمال کرنے کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بچوں، خواتین اور محروم طبقات کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ

حکومت نے بچوں، نوجوانوں، خواتین اور کمزور و محروم طبقات کو ذہنی صحت کے حوالے سے خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیا ہے۔

ان طبقات کو مختلف معاشرتی، معاشی اور خاندانی حالات کے باعث ذہنی صحت سے متعلق مسائل اور معاونت کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب، محفوظ اور قابلِ رسائی خدمات فراہم کی جائیں۔

بچوں کے لیے عمر کے مطابق رہنمائی اور معاونت، نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، خواتین کے لیے مناسب نگہداشت اور محروم طبقات کے لیے علاج تک مساوی رسائی ایک جامع نظام کے اہم اجزا ہیں۔

اسی طرح غربت، نقل مکانی، ہنگامی حالات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث متاثر ہونے والی آبادی کی ذہنی صحت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

قدرتی آفات، معاشی مشکلات، رہائش کے مسائل اور غیر یقینی حالات لوگوں کی ذہنی کیفیت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں متاثرہ افراد کو طبی سہولتوں کے ساتھ نفسیاتی معاونت اور بحالی کے مناسب مواقع فراہم کرنا اہم ہے۔

حکومت کے مؤقف کے مطابق ذہنی صحت کی پالیسی اور خدمات کی منصوبہ بندی میں ان طبقات کی مخصوص ضروریات کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ کوئی بھی فرد مالی، معاشرتی یا جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث ضروری نگہداشت سے محروم نہ رہے۔

حکومت، خاندان اور تعلیمی اداروں کا مشترکہ کردار

ذہنی امراض کے علاج، نگہداشت اور بحالی کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام متعلقہ طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

حکومت، تعلیمی ادارے، خاندان، سول سوسائٹی، طبی ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر تعاون سے ذہنی صحت کے شعبے میں درپیش مشکلات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی ادارے پالیسی سازی، وسائل کی فراہمی اور خدمات کے نظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طبی ماہرین معیاری تشخیص اور علاج فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ تعلیمی ادارے اور خاندان ابتدائی علامات کی شناخت اور ضرورت مند افراد کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سول سوسائٹی اور کمیونٹی تنظیمیں بھی عوامی آگاہی، معاونتی سرگرمیوں اور ذہنی صحت سے متعلق منفی تصورات کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اس مشترکہ کوشش کا بنیادی مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد خود کو تنہا محسوس نہ کریں اور انہیں مناسب علاج، نگہداشت اور معاشرتی تعاون میسر ہو۔

ہر پاکستانی ذہنی صحت سے متعلق آگاہی میں اپنا کردار ادا کرے

حکومت نے ہر پاکستانی سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے جہاں لوگ بلاخوف اور بلاشرمندگی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر سکیں اور صحت مند، فعال اور بھرپور زندگی گزارنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھا سکیں۔

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کیا جائے، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور احترام کا برتاؤ کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب دی جائے۔

ذہنی صحت سے متعلق گفتگو کو معمول کا حصہ بنانے سے علاج کے حصول میں ہچکچاہٹ کم کرنے اور بروقت مدد کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح خاندانوں اور معاشرتی حلقوں میں معاون ماحول کی فراہمی متاثرہ افراد کی بحالی کے عمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

نتیجہ: ذہنی صحت کے لیے جامع اور حقوق پر مبنی نظام ناگزیر

پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق حکومتی عزم کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جہاں ذہنی امراض کی بروقت تشخیص، معیاری علاج، مؤثر نگہداشت اور بحالی کی سہولتیں عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی ہوں۔

قومی ذہنی صحت پالیسی 2025-2035 پر کام، بنیادی صحت مراکز اور تعلیمی اداروں میں خدمات کو مربوط کرنے کی کوششیں، نوجوانوں کی ذہنی نشوونما پر توجہ اور معاشرتی بدنامی کے خاتمے کا عزم اس حکمت عملی کے اہم پہلو ہیں۔

تاہم ان مقاصد کے حصول کے لیے مؤثر عمل درآمد، مناسب وسائل، تربیت یافتہ ماہرین، صوبائی سطح پر تعاون اور خدمات تک مساوی رسائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

حکومت کے مطابق ذہنی صحت کو قومی صحت کے نظام اور معاشرتی ترجیحات میں مناسب مقام دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی جا سکے اور متاثرہ افراد کو عزت، تحفظ اور بروقت علاج میسر ہو، نہ صرف افراد کی زندگی بہتر بنا سکتا ہے بلکہ قومی ترقی اور اجتماعی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button