
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پنجاب کو سرسبز و شاداب بنانے کا بڑا منصوبہ، ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کرنے کی منظوری
پنجاب کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں کو درختوں، پودوں اور رنگا رنگ پھولوں سے سجانے کا عزم؛ مزید 20 اضلاع میں پی ایچ اے کے قیام کے لیے جنوری 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر
قیصر مغل-ادارت
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں سرسبز و شاداب ماحول کے فروغ، پارکس کی بحالی، گرین بیلٹس کی خوبصورتی اور ہر شہر، قصبے اور گاؤں کو رنگا رنگ پھولوں سے سجانے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) قائم کرنے، موسمی پھولدار پودے اگانے کے لیے ماہانہ منصوبہ بندی کرنے اور شجرکاری کے عمل کو مرحلہ وار تحصیل، شہر اور دیہی سطح تک وسعت دینے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبے بھر میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے قیام، ان کی انتظامی استعداد بڑھانے، تکنیکی عملے کی بھرتیوں، جدید نرسریوں کے قیام، پارکس کی بحالی اور شہری و دیہی علاقوں کی خوبصورتی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن کا مقصد پنجاب میں سبزے کے فروغ، ماحول کی بہتری اور عوام کو بہتر تفریحی مقامات فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی خواہش ہے کہ پنجاب کا ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں درختوں اور پودوں سے سجا ہوا ہو اور وہاں رنگا رنگ پھولوں کی بہار نظر آئے۔ انہوں نے شجرکاری کو محض خوبصورتی تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ کے لیے بھی اہم قرار دیا۔
ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام اضلاع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق پنجاب کے 10 اضلاع میں پی ایچ اے پہلے ہی فعال ہیں، جبکہ مزید 11 اضلاع میں نئی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کر دی گئی ہیں۔ اس طرح موجودہ اور نئی اتھارٹیز کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید 20 اضلاع میں پی ایچ اے کے قیام کے لیے جنوری 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے صوبے کے مختلف علاقوں میں پارکس کی دیکھ بھال، شجرکاری، گرین بیلٹس کی بحالی اور شہری خوبصورتی کے کاموں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر ضلع کی ضروریات اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایچ اے کا انتظامی اور مالیاتی منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ ان اداروں کو فعال بنانے کے ساتھ ان کی کارکردگی کا مؤثر جائزہ بھی لیا جا سکے۔
دوسرے مرحلے میں پنجاب کی ہر تحصیل تک منصوبے کی توسیع
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ ضلعوں میں پی ایچ اے کے قیام کے بعد دوسرے مرحلے میں پنجاب کی ہر تحصیل میں بھی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کی جائیں۔
اس منصوبے کا مقصد بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی سبزے اور پھولوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ شجرکاری اور پھولدار پودے لگانے کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی تیار کی جائے اور اسے مقامی ضروریات کے مطابق نافذ کیا جائے۔
پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں پارکس، گرین بیلٹس، سڑکوں کے کناروں اور دستیاب خالی جگہوں کو سرسبز بنانے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اس کے ذریعے شہری ماحول کو بہتر بنانے اور عوام کو صحت مند سرگرمیوں کے لیے مناسب جگہیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ خوبصورتی اور شجرکاری کے منصوبوں کا فائدہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر علاقے کے شہریوں کو صاف ستھرے، سرسبز اور خوشگوار ماحول میں رہنے کے مواقع میسر آنے چاہئیں۔
ہر ضلع میں ان ہاؤس نرسری قائم کرنے کی ہدایت
پنجاب میں شجرکاری کے منصوبے کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے ہر ضلع میں پی ایچ اے کے زیر انتظام ان ہاؤس نرسری قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان نرسریوں میں شجرکاری اور موسمی پھولوں کے لیے مختلف اقسام کے پودے تیار کیے جائیں گے، جبکہ شہریوں کو نسبتاً کم قیمت پر پودے فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ مقامی سطح پر پودوں کی تیاری اور فراہمی کا ایسا نظام قائم کیا جائے جس سے شجرکاری کے اخراجات میں کمی لانے اور مختلف علاقوں میں پودوں کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملے۔
ان ہاؤس نرسریوں کے قیام سے ہر ضلع کو اپنی ضروریات کے مطابق درختوں، سجاوٹی پودوں اور موسمی پھولوں کی تیاری میں سہولت حاصل ہوگی۔ اس طرح پارکس، گرین بیلٹس، سڑکوں کے کناروں اور دیگر عوامی مقامات کو سرسبز بنانے کے لیے پودوں کی مسلسل فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو عوام کو شجرکاری میں شریک کرنا بھی ہے۔ کم قیمت پر پودوں کی دستیابی سے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور دیگر مقامات پر شجرکاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
موسمی پھولوں کے لیے ماہانہ پلان مرتب کرنے کا حکم
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کے ہر ضلع میں موسم اور سیزن کے مطابق پھولدار پودے لگانے کے لیے ماہانہ پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق مختلف علاقوں میں موسم اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری شجرکاری اور پھولدار پودے لگائے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت سڑکوں، گرین بیلٹس، پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر مناسب اقسام کے درخت اور پھولدار پودے لگانے پر توجہ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق شجرکاری محض کسی ایک موسم یا مہم تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جاری رکھا جائے گا۔ ماہانہ پلان کے ذریعے مختلف موسموں میں پھولوں کی دستیابی، پودوں کی دیکھ بھال اور ان کی مناسب نشوونما کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں گے۔
اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے شہری علاقوں میں سال کے مختلف حصوں میں رنگا رنگ پھولوں کی بہار برقرار رہے اور سڑکوں، پارکس اور گرین بیلٹس کی خوبصورتی میں مسلسل اضافہ ہو۔
2,820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری
پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے انتظامی اور تکنیکی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 2,820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری بھی دے دی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں ضرورت کے مطابق مینجنگ ڈائریکٹر، ڈائریکٹرز اور تکنیکی عملہ بھرتی کیا جائے گا تاکہ پی ایچ اے کے روزمرہ امور، پارکس کی دیکھ بھال، شجرکاری، نرسریوں کے انتظام اور شہری خوبصورتی کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
تکنیکی عملے کی دستیابی سے پودوں کی مناسب دیکھ بھال، درختوں کی نگہداشت، گرین بیلٹس کی بحالی اور پارکس کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت ہر ضلع کی ضروریات کے مطابق ذمہ داریاں متعین کرنے اور افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس طرح پی ایچ اے کے کام کو زیادہ منظم بنانے اور عوامی مقامات کی دیکھ بھال میں بہتری لانے پر توجہ دی جائے گی۔
پی ایچ اے افسران کے لیے کے پی آئیز تشکیل دینے کی ہدایت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پی ایچ اے کے افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ہر اتھارٹی کو واضح اہداف دیے جائیں اور ان کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر جانچا جائے۔ پارکس کی بحالی، گرین بیلٹس کی بہتری، پودوں کی دیکھ بھال، شجرکاری اور شہری علاقوں کی مجموعی خوبصورتی کو کارکردگی کے اہم شعبوں میں شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر پی ایچ اے کو بہتر شہری منظرنامے، پارکس کی خوبصورتی اور گرین بیلٹس کی بحالی کا ہدف دیا گیا ہے۔
کارکردگی کے واضح پیمانوں سے متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نظام کے تحت شہری خوبصورتی کے منصوبوں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے عملی نتائج پر توجہ دی جائے گی۔
لاہور کے سی کیٹیگری پارکس بحال، مزید بہتری پر توجہ
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق لاہور میں سی کیٹیگری کے تمام پارکس بحال کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کو شہری تفریحی مقامات کی بحالی اور عوام کو بہتر ماحول فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا۔
پارکس شہری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مقامات خاندانوں، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو تفریح، چہل قدمی اور جسمانی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پارکس کی بحالی سے شہریوں کو صحت مند سرگرمیوں کے لیے بہتر ماحول میسر آ سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق پارکس کی خوبصورتی، گرین بیلٹس کی بحالی اور شہری منظرنامے کو بہتر بنانے کے اقدامات صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی وسعت دیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ہر پی ایچ اے کو اپنے علاقے کے پارکس، سڑکوں اور دستیاب عوامی مقامات کی ضروریات کے مطابق اہداف حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیابانِ جناح پر بوگن ویلیا، عطا بخش روڈ پر بانس اور دیگر سڑکوں پر املتاس کی شجرکاری
اجلاس میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں شجرکاری کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق خیابانِ جناح پر بوگن ویلیا، عطا بخش روڈ پر بانس اور دیگر سڑکوں پر املتاس کے درخت لگائے گئے ہیں۔ مختلف مقامات کے لیے پودوں اور درختوں کا انتخاب کرتے وقت ان کی نوعیت، موسمی حالات اور شہری منظرنامے کو مدنظر رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بوگن ویلیا اپنے رنگا رنگ پھولوں کی وجہ سے شہری مقامات کی آرائش میں اہمیت رکھتا ہے، جبکہ املتاس اپنے زرد پھولوں کے باعث سڑکوں اور گرین بیلٹس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح مناسب جگہوں پر بانس اور دیگر پودوں کی شجرکاری سے شہری ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
صوبہ بھر میں میری گولڈ کے تینوں رنگوں کی اقسام کے پھول اگائے جا رہے ہیں۔ موسمی پھولوں کی اس شجرکاری کا مقصد عوامی مقامات پر رنگا رنگ منظر پیش کرنا اور پنجاب کے شہری علاقوں کو زیادہ دلکش بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پھولدار پودوں اور درختوں کی شجرکاری کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جاری رکھا جائے اور ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ہر خالی جگہ پر درخت اور پھول اگانے کی ہدایت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دستیاب خالی جگہوں کو سرسبز بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق شہری علاقوں میں جہاں بھی شجرکاری کی گنجائش موجود ہو، وہاں درخت اور پھولدار پودے لگانے پر توجہ دی جائے۔
اس ہدایت کا مقصد شہری ماحول میں سبزے کی مقدار بڑھانا اور خالی مقامات کو خوبصورت و مفید عوامی جگہوں میں تبدیل کرنے کے امکانات پیدا کرنا ہے۔
شجرکاری کے دوران مقامی ماحولیاتی حالات، پانی کی دستیابی، پودوں کی موزونیت اور ان کی طویل مدتی دیکھ بھال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ لگائے گئے پودے زندہ رہیں اور ماحول کو مستقل فائدہ پہنچا سکیں۔
وزیراعلیٰ کے منصوبے کے تحت شجرکاری کو تحصیل، شہر اور گاؤں کی سطح تک وسعت دینے سے شہری و دیہی علاقوں میں سبزے کے فروغ کے لیے زیادہ جامع نظام تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
پی ایچ اے عملے اور گاڑیوں کی یکساں برانڈنگ
اجلاس میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے عملے اور سرکاری گاڑیوں کی یکساں برانڈنگ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد صوبے بھر میں پی ایچ اے کے ادارہ جاتی تشخص کو یکساں بنانا اور متعلقہ اداروں کی شناخت کو بہتر انداز میں نمایاں کرنا ہے۔ یکساں برانڈنگ کے ذریعے شہریوں کو متعلقہ عملے اور اداروں کی شناخت میں آسانی ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں پی ایچ اے فوڈ کورٹ کے ڈیزائن کی منظوری بھی دی گئی۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو منصوبے کے مطابق انتظامات آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔
یہ اقدامات پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے انتظامی ڈھانچے کو منظم بنانے اور عوامی مقامات کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔
گھروں میں کام کرنے والے پی ایچ اے عملے کی دفاتر واپسی کے احکامات
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق پی ایچ اے کے جن ملازمین کو گھروں میں کام کرنے پر مامور کیا گیا تھا، انہیں دفاتر واپس بلانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد عملے کی دستیابی بہتر بنانا اور متعلقہ اداروں کے دفتری و انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلانا ہے۔ پی ایچ اے کے فعال نظام کے لیے ضروری ہے کہ تکنیکی اور انتظامی عملہ اپنی ذمہ داریاں واضح طور پر ادا کرے اور شجرکاری، پارکس کی بحالی اور پودوں کی دیکھ بھال کے منصوبوں میں مؤثر کردار ادا کرے۔
نئے ادارہ جاتی اہداف، تکنیکی بھرتیوں اور کارکردگی کے اشاریوں کے ساتھ عملے کی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں منظم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
پنجاب بھر میں یکساں ڈیزائن کے پلانٹر اور گملے رکھے جائیں گے
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے مختلف شہروں میں یکساں ڈیزائن کے پلانٹر اور گملے رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد پنجاب کے شہری علاقوں میں خوبصورتی کے لیے ایک مربوط اور یکساں انداز اپنانا ہے۔ سڑکوں، عوامی مقامات اور مناسب شہری جگہوں پر پلانٹر اور گملے رکھ کر سبزے کو فروغ دینے کے ساتھ شہری منظرنامے کو زیادہ دلکش بنایا جا سکتا ہے۔
یکساں ڈیزائن کے پلانٹر استعمال کرنے سے مختلف شہروں میں شہری خوبصورتی کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ تاہم ان کی مؤثر دیکھ بھال، مناسب آبپاشی اور موسمی حالات کے مطابق پودوں کا انتخاب بھی ضروری ہوگا تاکہ یہ اقدامات دیرپا نتائج دے سکیں۔
شجرکاری ماحول اور انسانی صحت کے لیے اہم ہے، مریم نواز شریف
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ پنجاب کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں کو درختوں اور پودوں سے سجا ہوا اور پھولوں سے مہکتا دیکھنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے شجرکاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف ماحول کے لیے مفید ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کے مطابق شجرکاری ایک نیک عمل ہونے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے۔
درخت شہری ماحول میں سایہ فراہم کرتے ہیں، بعض حالات میں فضائی آلودگی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور سبز مقامات شہریوں کی جسمانی سرگرمیوں اور ذہنی آسودگی کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مناسب منصوبہ بندی کے تحت شجرکاری سے شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ شجرکاری کے منصوبوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور لگائے جانے والے پودوں کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے۔
سرسبز پنجاب کے لیے مربوط حکمت عملی
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایات کے تحت پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کا قیام، تکنیکی عملے کی بھرتی، ان ہاؤس نرسریوں کی تیاری، موسمی پھولوں کے لیے ماہانہ منصوبہ بندی اور پارکس کی بحالی ایک جامع حکمت عملی کے اہم حصے ہیں۔
ان اقدامات کے ذریعے پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں سبزے کے فروغ، عوامی تفریحی مقامات کی بہتری اور ماحول دوست سرگرمیوں کو منظم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید 20 اضلاع میں پی ایچ اے کے قیام کے لیے جنوری 2027 کی ڈیڈ لائن، دوسرے مرحلے میں ہر تحصیل تک توسیع اور 2,820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری اس منصوبے کے انتظامی دائرے کو وسعت دینے کے لیے اہم فیصلے ہیں۔
منصوبے کی کامیابی کا انحصار مؤثر عمل درآمد، پودوں کی مسلسل دیکھ بھال، پانی کے مناسب انتظام، متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور عوامی تعاون پر ہوگا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا وژن ایک ایسے پنجاب کی تشکیل ہے جہاں سبزے، درختوں اور رنگا رنگ پھولوں کو شہری و دیہی زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے، عوام کو بہتر تفریحی مقامات میسر آئیں اور ماحولیاتی تحفظ کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول کی بنیاد رکھی جا سکے۔



